عصمت دری کے نہ تھمنے والے واقعات : اسباب اور تدارک 

زنا بالجبر، تشدد اور اس کے بعد قتل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مجرم انتہائی سفاک، بے درد، ظالم، درندہ صفت اور بے مروت ہے۔ جس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ وہ شخص اپنی زندگی میں اچھی تربیت سے کوسوں دور رہا ہے،لھٰذا اب حکومتوں، نجی تنظیموں، ویلفیئروں، سوسائیٹیوں، سماجی خدمت گاروں اور حساس دل کے حامل تمام لوگوں کو اپنی اپنی وسعت کےمطابق اپنے ہم وطنوں کی عمدہ تربیت کرنے کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی، انہیں یہ احساس دلانا ہوگا

*خواتین اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی  : عبرتناک اور فوری سزا ہی مسئلے کا حل

’خواتین اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب عبرتناک سزا کے مستحق ہیں‘ انہیں سرعام پھانسی دی جانی یا جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہئے تاکہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں‘‘۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم پیغام صبحِ ادب کانپور کے قومی ترجمان قاری محمد شہود رضا رضوی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا۔۔پوری قوم کو ہلا ڈالنے والے ہاتھرس جنسی درندگی کے حالیہ واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

اترپردیش میں "گینگ ریپ”  مجرمین کے عزائم آخر اتنے بلند کیوں؟

ریاستِ اتر پردیش ان دنوں اخبارات،نیوزچینلوں، سوشل میڈیا،اور فیس بک کی سرخیوں میں گردش کر رہی ۔جس اتر پردیش میں ہزاروں مدارس و مساجد, ،منا در وچرچ اور کلیسا کے ساتھ ساتھ ہزاروں بڑے بڑے اسکول،کالج اور یونیورسٹیاں ہیں، جس کی وجہ سے اتر پردیش ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے مد مقابل امن وشانتی،بھائی چارگی ،سماجی ہم آہنگی ،مساوات،تہذیب وثقافت