تاج الشریعہ کی علم کلام پر مہارت تامہ!!
از:- مفتی غلام آسی مونس پورنوی
علم کلام ایک ایسا علم ہے جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے، کہ اسلامی عقائد و نظریات کی حقانیت کو از روئے عقل، محکم اور مظبوط دلائل سے ثابت کرنا، اور اس میں پیدا ہونے والی تمام خرابیوں اور جملہ شکوک و شبہات کو دور کرنا، تاکہ اسلامی عقائد کے وجود کی شکلِ اصلی برقرار رہ سکے،ہر دور میں اس علم کے جاننے والوں نے اس علم کے ذریعے اسلامی عقائد و نظریات کی محافظت کرتے ہوئے، اپنے خون کو پانی کی شکل میں اس کے جڑوں میں دے کر اس علم کے گلستاں کو سبزوشاداب رکھا ہے، انہیں محافظین علم کلام میں ایک ذات، مرشد برحق پیر طریقت مرشدی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرحمن کی بھی ہے، حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے علم کلام پر بے انتہا کام کئے، تحریری اور تقریری بھی۔
اہل علم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ علم کلام کس قدر کٹھن اور دشوار فن ہے یہی وجہ ہے کہ اس فن کی طرف اکثر و بیشتر علماء و طلباء توجہ ہی نہیں دیتے یا یہ کہہ لیجئے کہ اس فن سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں،دور حاضر میں مدارس اسلامیہ میں اس فن کی صرف چند ہی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، طالب علم جونہی اس علمی دریا میں غوطہ لگانے کے لئے تیار ہوتا ہے تب تک یہ دریا سوکھ کر ریتیلے بیابان کی شکل اختیار کرلیتا ہے،اسی لئے مسافران علم کلام ہمیشہ پیاسے ہی رہ جاتے، جس کی بنیاد پر اس فن پر بہت ہی کم طلباء کو مہارت حاصل ہوپاتی ہے
لیکن حضور تاج الشریعہ کو چونکہ پروردگار عالم جل جلالہ نے وارث علوم اعلی حضرت بنایا تھا، رسول اللہ کی نوازشات کا شامیانہ آپ پر سایہ فگن تھا، اللہ نے اپنے محبوبیبن کے وسیلے اس قدر نوازا کی دنیا دیکھ کر عش عش کرتی، وہ تمام علوم و فنون کی طرح علم کلام پر بھی مکمل دسترس رکھتے جب علم کلام پر بولتے تو بولتے چلے جاتے لکھتے تو لکھتے چلے جاتے،آپ خود فرماتے ہیں کہ زمانۂ طالب علمی میں جامع ازہر مصر کے سالانہ امتحانات کے موقع پر ممتحن نے میری جماعت کے تقریباً جملہ طلباء سے علم کلام کے چند سوالات کئے، مگر کسی سے جواب نا بن سکا، آخر مجھ سے بھی وہی سوال ہوا……. تو میں نے ان تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات دے دیئے، یہ دیکھ کر ممتحن کو بڑا تعجب ہوا تو وہ میری طرف دیکھ کر کہنے لگے، آپ تو حدیث اور اصول حدیث پڑھتے ہیں، آپ نے علم کلام کے ان پیچیدہ سوالات کے جوابات کیسے دیئے؟
تو میں نے کہا کہ اس سے قبل میں نے دارالعلوم منظر اسلام میں اس فن کو پڑھا اور اپنے اساتذہ سے سمجھا ہے اور اس فن کی بہت ساری کتابیں میرے مطالعے میں رہی ہیں،یہ دنیا نے دیکھا جب جامع ازہر کے امتحانات کے نتائج کی نشر و اشاعت ہوئی تو جامع ازہر کے ہرایک طالب علم کی زبان پراگر کوئی نام تھا تو وہ نام تھا اختر رضا ہندی کا،حضور تاج الشریعہ کے علم کلام میں مہارت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے علم کلام کی دو اہم کتابیں، جو عالم ربانی حضرت مولانا فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ کی تصنیف جلیل ہے، ||المعتقدالمنتقد|| المستندالمعتمد||.،،،،،،،، جس پر امام اہل سنت سیدی سرکار اعلی حضرت نے حاشیہ تحریر فرمایا ہے، اس کا حضور تاج الشریعہ نے اپنے ہم عصر علماء کے اصرار پر ترجمہ فرمایا اور دشوار مقامات پر حاشیے تحریر فرمائے،ارباب علم ودانش اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کسی کتاب کے ترجمے کے لئے اس کتاب کے فن کی مکمل آشنائی ضروری ہے ورنہ فن کے افہام و تفہیم میں قاری کے زیروزبر ہونے کا مکمل اندیشہ بنا رہتا ہے،
علماء لکھتے ہیں کہ ترجمہ نگاری کی جو خصوصیات تاج الشریعہ کے یہاں ہے وہ خصوصیات کسی اور کے یہاں موجود نہیں،المختصر یہ کہ حضور تاج الشریعہ نے علم حدیث، اصول حدیث، بلاغت، فلسفہ منطق، فقہ، اصول فقہ، تفسیر، اصول تفسیر، ریاضی، وغیرہ کی طرح علم کلام کے زلفوں کے الجھے ہوئے پیچ و خم خوب سلجھائے،
(جاری)
الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !
الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مزید پڑھیں:
