تمام تر شعبۂ حیات میں خواتین غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں

تمام تر شعبۂ حیات میں خواتین غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں

روشن رضا مصباحی ازہری


 وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں.

معزز قارئین! نسل انسانی کی بقا اور سماجی و معاشرتی و عائلی ترقی کی ضمانت اور پاکیزہ و صالح معاشرہ کی تشکیل عورت کے وجود کے بنا غیر ممکن ہے، انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ایک عورت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے خواہ وہ گھریلو معاملات ہوں یا سماجی ہر موڑ پر ان کی افادیت مسلم ہے.

آج کے دن کو عالمی سطح پر یوم خواتین کے نام پر سیلیبریٹ کیا جاتا ہے اور عورت کے حقوق کی بات کی جاتی ہے، ان کے ادھیکار کے حوالے سے چنتا جتائی جاتی ہے، ان پر ہورہے مظالم کا ماتم کیا جاتا ہے، مگر ستم ظریفی تو دیکھیں جو لوگ اس آواز کو بلند کرتے ہیں اور عورت کو حقوق دلانے کی بات کرتے ہیں وہی لوگ بر سر اقتدار اپنے منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوے اسی بنت حوا کو جسم فروشی کی سرٹیفکیٹ بھی دیتے ہیں، یہ دوغلاپن نہیں تو کیا ہے؟ آج جتنے بھی ممالک میں خصوصاً مغربی ممالک جہاں اس آواز کو طشت از بام کیا جاتا ہے اگر آپ ان کے سروے کو دیکھیں تو قدموں تلے سے زمین کھسک جائے گی انہیں جگہوں پر سب سے زیادہ عورت کی آبروریزی و عصمت دری کے واقعات رونما ہوتے ہیں.ریپ کی سب سے شرح انہیں جگہوں پر ہے جہاں انسانیت حیوانیت کا لبادہ اوڑھ کر صنف نازک کی عصمت کو تار تار کرتی ہے، انہیں جگہوں پر عورت کو جنسی خواہشات کی تسکین کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے، اس کے جسم سے کھیلنے کو تفریح طبع کا نام دیا جاتا ہے، بتائیں کیا ایسے لوگوں کو عورت کے حقوق کے تحفظات کی بات کرنے اور ان کے ادھیکار کی دہائی دینے کا حق ہے؟

میں نہیں کہتا کہ یوم خواتین نہ منایا جائے، ضرور منائیں، اعلی پیمانے پر منائیں مگر خدا کے لیے ان کے تقدسات کو پامال نہ کیا جائے، ان کے نام سے سیاست کی روٹی نہ سینکی جائے.

کلمہ گو اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ان ایام میں جس دن عورت کے حقوق کی بات کی جاتی ہے، جس دن عورت کو اسلام میں دیئے گئے حقوق کے حوالے سے غلط پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، ہم مذہب اسلام کی صحیح تصویر کو پیش کرنے کی کوشش کریں، دنیا کو بتائیں جتنا حق اور جتنی شان مذہب اسلام نے عورت کو دیا ہے دنیا کے کسی بھی دھرم اور سماج نے اتنی عزت نہیں دی. اسی ہندوستان کی دھرتی پر دیگر اقوام کے لوگ اس ناری کو دیوی کا روپ دیتے ہیں، مگر آپ ان کی اتہاس اٹھا کر دیکھیں تو سمجھ میں آے گا کہ جس کو یہ دیوی کا درجہ دیتے تھے اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے، یہی ناری جب ودھوا یعنی جب بیوہ ہوجاتی تو پتی کے ساتھ اس کو بھی آگ کی نذر کردیتے تھے، کیا یہی عورت کا سمان ہے؟ کیا اسی کو ناری شکتی کہاجاتا ہے؟ اگر آپ کو ناری کا سمان و ابھیمان دیکھنا ہو تو آپ تاریخ کی ورق گردانی کریں سب آپ کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گا کہ اسلام سے قبل عورت کی کیا حیثیت تھی سماج میں،یہی انسانی برادری کے لوگ گھروں میں عورت ذات کی ولادت کو باعث ننگ و عار سمجھتے تھے، ان کی پیدائش کے بعد اپنے مونہہ کو چھپاتے پھرتے تھے، ظلم بالاے ظلم کے ان کو زندہ زمین میں دفن کردیا جاتا تھا مگر جب امن و آشتی و محبت و رواداری کا علمبردار بن کر اسلام کے پیغمبر رحمت تشریف لائے تو آپ نے نا صرف کو ان کی زندگی بچائی بلکہ سماج میں عزت و وقار کے ساتھ جینے کا سلیقہ بھی عطا کیااور عورت کو ذلت کی پستی سے اٹھا کرعزت و تقدس کے آسمان پر لاکر بیٹھادیا.

اور ایک آفاقی پیغام رساں بن کر دنیا والوں کو یہ میسج دیا کہ عورت جس روپ میں بھی ہو لائق تعظیم و قابل توقیر ہے. یہی عورت اگر ماں کے روپ میں ہو اسلام نے اس کے قدموں کے نیچے جنت قرار دیا، یہی عورت اگر بہن کے روپ میں ہو تو بھائی کےلیے عزت و سرخ روئی کا ذریعہ بنایا، اور یہی عورت اگر بیوی کی شکل میں ہو تو اسلام نے اسے نعمت عظمیٰ کا نام دیا اور یہی عورت اگر بیٹی کے روپ میں ہو تو اسلام نے اسے رحمت قرار دیا.

اور صرف بتانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی زندگی میں اسے کرکے بھی دکھایا نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو واضح ہوگا کہ میرے سرکار ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے ساتھ کس قدر حسن سلوک سے پیش آتے تھے اور ان کی قدر کیا کرتے تھے، احادیث و سیر کی کتابیں اس عنوان سے بھری ہوئی ہیں.

آج جو ہرجگہ عورت کا استحصال کیا جارہا ہے اس کی کوئی اور وجہ نہیں صرف ایک وجہ ہے تعلیمات اسلام سے روگردانی، فرامین قرآن سے اعراض و اہمال، ارشادات رسالت سے پہلو تہی اگر آج بھی اسلامی طریقے کے مطابق عورت کے ساتھ مساوات و برابری کا سلوک کیاجانے لگے تو پھر کوئی عائشہ نہ تو خود کشی کرے گی اور ناہی کوئی سلمی ظلم و زیادتی کی بھینٹ چڑھے گی. بس شرط یہ ہے کہ. ع.

ہمیں کرنی ہے شہنشاہ بطحی کی رضا جوئی

وہ اپنے ہوگئے تو رحمت پروردگار اپنی.


 الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

Views: 27  کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں آتی ہے اور کبھی کبھی اخباروں کے صفحات پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بیان دیتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر اتحاد ہونا ہی سرخرو … Read more

0 comments
جدید الحاد اسباب اور سد باب

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

Views: 33 جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی نقشبندی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ ” الحاد” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے انحراف کرنا ، راستے سے ہٹ جانا ،الحاد کو انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے جس کا مطلب … Read more

0 comments
نتیش کمار اور بہار کی سیاست

نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش

Views: 70 نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش بہار میں آج نتیش کمار دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں ایک نئی حکومتی ترتیب کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ این ڈی اے قانون سازیہ … Read more

0 comments
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

Views: 97 مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ (جب جاگو تبھی سویرا) تحریر: جاوید اختر بھارتی javedbhati.blogspot.com آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا … Read more

0 comments
Rahul Gandhi on Vote Adhikar Yatra

راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر

Views: 93 راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر شمس آغاز ایڈیٹر،دی کوریج ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں ہر شہری کو مساوی حقِ رائے دہی حاصل ہے۔ ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ کا اصول اس نظام کی بنیاد ہے، اور یہی اصول ملک کو کثرت … Read more

0 comments

Leave a Comment