روزنامہ پندار اخبار پٹنہ میں شائع
پروفیسر سید علی احمد فردوسی کے الزامات کاتنقیدی جائزہ
ڈاکٹر محمدامجدرضاامجدؔ:قاضی شریعت مرکزی ادارہ شرعیہ بہار پٹنہ

Khanqah per barelwiat ke asarat 1 PDF
![]()
پروفیسر صاحب کی تحریر پڑھنے کے لیے اوپر دی گئی لنک پر کلک کریں!!
حق گوئی ،حق فہمی اور حق طلبی ایمان والوں کی پہچان اور خوش نصیبوں کا حصہ ہے ،ایمان کی پختگی کے ساتھ اگرآدمی خاندانی عظمت اور نسبی شرافت کا حامل ہوتو کرداروعمل سے اس کا اظہار ہوتاہے اور اگر ان تمام کے ساتھ انسان علم وادب سے بھی تعلق رکھتاہو تو اس سے سنجیدگی متانت اور صداقت کی توقع بندھ جاتی ہے ۔مگر یہ المیہ ہے کہ ان تمام اوصاف کی دعویداری کے باوجود جناب سید علی احمد فردوسی کا دامن فکروعمل ،تحقیق ادب شرافت اور خانقاہی مزاج ومنہاج سے خالی ہے۔پندار اخبار(مورخہ ۱۵؍جون۲۰۲۱ ) میں شائع ان کا مضمون ’’خانقاہوںپر بریلویت کے اضافی اثرات‘‘ اس کی شہادت کے لئے کافی ہے جو علماسے لے کر مشائخ تک اور عوام سے لے کر خواص تک کی دل آزاری کا باعث بنا۔ایسے وقت میں جب کہ ملک میں اسلام ،مسلمان اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے ملت کے درمیان اتحاد کی شدیدضرورت ہے اس طرح کے مضامین لکھنا لکھوانااور پریشر بناکراسے اخبارات میں شائع کرانا اس راز کو فاش کرتاہے کہ یہ اسلام دشمن عناصر کی شہہ پر اٹھایاگیا قدم ہے، تاکہ ملت کے درمیان مطلوبہ اتحاد قائم نہ ہواور اہل سنت کے علماومشائخ کے درمیان جو مستحکم رابطہ کی بنیاد پڑی ہے وہ متزلزل ہوجائے ۔سچ ہے کل اناء یترشح بمافیہ ہر برتن سے وہی ٹپکتاہے جو اس میں ہوتاہے۔اگر پروفیسر صاحب کے حصہ میں انتشار افتراق اور منافرت آئی ہے تو ہم سوائے افسوس اور دعائے ہدایت کے اور کیاکرسکتے ہیں ع
پسند اپنی اپنی ہے جام اپنااپنا
پروفیسرصاحب کی طرف منسوب یہ مضمون صرف ان کی ذہنی اپج نہیں بلکہ’’ کئی معشوق ہیں اس پردۂ زنگاری میں ‘‘کاآئینہ دار ہے ۔اس میں ایک نام (سیدعلی احمدفردوسی)تومضمون نگارکی حیثیت سے منظر عام پہ آگیاہے جب کہ دوسرانام دودن تک تو پردۂ خفا میں رہنے کے بعداب کسی طرح طشت ازبام ہوگیاہے،یہ وہ شاہ صاحب ہیں جنہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں مشربی موضوع کو بنیاد بناکراختلاف کی آگ بھڑکائی اور زیر بحث متنازع مضمون کو لکھوانے سے لے کراس کے شائع کرانے تک بنیادی کردار اداکیا ۔ میں حضرت والا سے اتنا ہی عرض کروں گا کہ اپنی سمٹتی ہوئی دنیا، بکھرتے ہوئے مریدین، اور اٹھتے ہوئے اعتبار کوبحال کرنے کے لئے خلق خداکو آپس میں لڑانااور گوشہ عافیت میں بیٹھ کر اس کا تماشہ دیکھنا نہایت اوچھا اور معیار سے گراہواطریقہ ہے۔ خداکے واسطے اس گدی کو شرمسار نہ کریں جس سے تقدس کی پوری تاریخ وابستہ ہے، اس منصب کاوقار مجروح نہ کریں جس سے آپ کے سروں پہ کلاہ افتخارکا تاج ہے اور اس منعم حقیقی کو ناراض نہ کریں ،عزت وعظمت اور ذلت وخواری جس کے قبضہ واختیار میں ہے ۔اس حقیقت کو بھی کبھی فراموش مت کیجیے کہ اپنی سجادگی کا استعمال ہوائے نفس کی تکمیل کے لئے کرنا ان کی بھی روح کی ایذاکا باعث ہے، جن کے نام کے بابرکت لاحقہ سے آپ کو روٹی بوٹی اور عزت وشہرت نصیب ہوئی ہے۔فاعتبروایااولی الابصار
پروفیسر صاحب سے منسوب اس دل خراش مضمون کے کئی حصہ ہیں جوغالب کے بقول ؎
کچھ تو کہئے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا
ہم سے بھی اظہار دردکے طالب ہیں ۔ویسےیہ مضمون نہ تحقیقی ہے اور نہ ادبی اور نہ اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ کوئی شریف الطبع آدمی اس کا جواب لکھے ،مگر چوںکہ اس مضمون سے اہل سنت وجماعت اور مشائخ عظام کے درمیان قائم شدہ مراسم و تعلقات کے متزلزل ہونے کا خدشہ ہے اس لئے اس مضمون کاتجزیہ ضروری سمجھتے ہوئے چند جملے حاضر خدمت ہیں ۔
پروفیسر صاحب کا یہ مضمون افتراوبہتان کے ساتھ عجوبہ روزگار ہے۔ کوئی سنجیدہ مزاج انصاف پسند اور ہوشمند آدمی اسے پڑھ کر یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مضمون نگار ذہنی انتشار کے شکار ہیں یا مضمون لکھتے وقت ان پر کئی طرح کے دورے پڑے ہیںجس کے سبب پورا مضمون ہی تضاد بیانی اور ہذیانی کیفیت کا شکارہوا ہے ۔اگر ایساہی ہے تو ملک کا سنجیدہ اور انصاف پسند طبقہ سوچنے پر مجبور ہے کہ خانقاہوں میں رہ کرخانقاہوں کو بدنام اور مسلمانوں میں اختلاف پیداکرنے والے یہ کیسے سفید پوش لوگ ہیں اور ان سے ہوشیاررہناکتنا ضروری ہے۔
میرے سامنےمضمون کی مکمل پی ڈی ایف بھی ہے اور مطبوعہ مضمون کا عکس بھی ۔اس میں پروفیسر صاحب کبھی مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان کہتے ہیں اور کبھی ختم نبوت کا منکر ۔اگر وہ ختم نبوت کامنکر ہے تو مسلمان کیسے ہوا؟پروفیسر صاحب کواس کا جواب دیناہوگا۔کیاختم نبوت کانکار اورکسی کا دعوی نبوت بھی ان کے یہاں کفر نہیں؟کمال کے خانقاہی وکیل ہیں پروفیسر صاحب بھی ،ساری دنیاجسے متفقہ طور پہ کافر سمجھتی ہے اسے وہ مسلمان کہہ رہے ہیں۔اب یہ سرپیٹنے کی جانہیں تواور کیاہے کہ جنہیں قادیانت کی تاریخ اور منکر ختم نبوت کا حکم نہیں معلوم اور اگر معلوم ہے تو اسلامی دنیاکے ،متفقہ کافر کو مسلمان سمجھنے کے شرعی مجرم ہیں وہ چودہویں صدی کے مجدد اعلیٰ حضرت امام احمد رضاکے خلاف واویلا مچانے نکلے ہیں ع
قیامت کیوں نہیں آتی الٰہی ماجراکیاہے
پروفیسر صاحب اسی مضمون میں کبھی تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے مکتبہ دیوبند کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ طبقہ ’’قدیم مسلک پر قائم رہا‘‘مگرپھر آگے چند سطر بعداسی مکتبہ فکر کے تعلق سے لکھتے ہیں :
دیوبند ان دنوں خانقاہی نظام ،درگا،ہ مزا،ر اعراس، فاتحہ، میلاد وسلام وغیرہ کے خلاف ایک مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔دن رات یہاں سے فتویٰ جاری کیاجاتا، جن میں مشترکہ طور پر ان لوگوں کو جو خانقاہ یا درگاہ سے منسلک تھے، بدعتی مشرک قبرپرست، ناچنے گانے والے، فاسق، گمراہ، کافر اور دوزخی قراردیاجاتاتھا۔دیوبندیوں کے علاوہ وہابی یااہل حدیث یا سلفی یعنی غیر مقلدین حضرات بھی پورے زور شور سےفتویٰ جاری کررہے تھے اور اہل سنت حضرات کو خارج از فہرست کررہے تھے۔
کمال کی ہے پروفیسر صاحب ،آپ کی فہم وفراست بھی۔ خانقاہی عقائد و معمولات کے حامل افراد کو اہل دیوبند ’’، بدعتی مشرک قبرپرست، ناچنے گانے والے، فاسق، گمراہ، کافر اور دوزخی ‘‘ سب کہہ دیں پھر بھی وہ آپ کے مراسم خسروانہ کے مستحق ہیں،اور علمائے اہل سنت اگر پیری مریدی اور بیعت وخلافت سے سروکاراورمشائخ اہل سنت سےنیازمندانہ تعلقات رکھیںپھر بھی وہ مجرم اور گردن زدنی؟کیا پروفیسرصاحب یہ بتانے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ مذکورہ خانقاہی معمولات ومراسم کوبدعت شرک اور کفر قرار دینا اہل سنت وجماعت کا قدیم مسلک رہاہے ؟اگرآپ کے نزدیک یہی قدیم مسلک ہے توپھر دیوبندی فتوی کی رو سے آپ کو اپنا کفر تسلیم کرلینا چاہئے ۔
مراسم خانقاہی سے آگے بڑھ کرعظمت رسالت کے حوالہ سے اہل دیوبند کا عقیدہ ونظریہ بیان کرتے ہوئے آپ نے لکھا ہے :
جب جب اہل دیوبند قابل اعتراض فتوے صادر کرتے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ ایک عام سے شخص تھےیا حضور ﷺ کو غیب کا علم قطعی طور پر نہیں تھا،شیطان کا علم رسول اکرم ﷺ سے زیادہ تھاتب تب خانصاحب کے تیور تیکھے ہوجاتے تھے۔
پروفیسر صاحب سے پھر یہی سوال ہے کہ کیا ایسے افراد کو جو حضور اکرم ﷺکے حوالہ سے ایسا مذکورہ بالا گستاخانہ عقیدہ رکھے،آپ قدیم مسلک اہل سنت کا حامل سمجھتے ہیں؟کیا گستاخی ِرسالت بھی معاذاللہ! ایمان کاکوئی حصہ ہے؟افسوس ،غض عناد حسد میںبھی آدمی اتنا اند ھانہیںہوجاناچاہئے کہ ایمان وکفر کی تمیزہی ختم ہو جائے۔
ایک بات اور بتائیں پروفیسر صاحب!مراسم خانقاہ کے تعلق سے اہل دیوبند حضرات کے جارحانہ فتاویٰ سے لےکر عظمت رسالت کے خلاف عقائد تک اگر کسی نےجوابی موررچہ سنبھالاتو آپ ہی کے بقول وہ’’ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقادری‘‘ ہیں ،جیساکہ آپ نے لکھاہے :
انہوں نے(اعلیٰ حضرت نے) پوری قوت سے دیوبندیوں اور وہابیوں کے خلاف ایک نہایت جارحانہ مورچہ کھول دیا ‘‘
اب آپ ہی دیانت ومتانت کامظاہرہ کرتے ہوئے بتائیں کہ ایسی شخصیت بھی آپ کے نزدیک مورد الزام ہے؟کیا انہوں نے صدیوں سے چلے آرہے خانقاہی معمولات ومراسم کا دفاع کرکے جرم کیا؟یا حضور اکرم ﷺ کی حرمت کی پاسداری کی اور عظمت رسالت کی پہریداری میں تن من دھن کی بازی لگاکر کوئی گناہ کیاہے؟حیرت ہے پروفیسر آپ کے جوش ایمانی پہ ۔ اہل سنت حضرات کو خارج از فہرست کرنے اور حضور ﷺکے علم سے زیادہ شیطان کاعلم بتانے والے کے لئے بس ’’قابل اعتراض فتوے صادر کرتے‘‘جملہ پر قناعت وتسکین اور معمولات خانقاہ کی حمایت اور ناموس رسالت کی پہریداری کرنے والے کے لئے ’’ نہایت جارحانہ مورچہ کھول دیا‘‘جیسا تیور۔سچ بتائیے آپ خانقاہی لبادہ میں کہیں دوست نمادشمن تو نہیں؟پورے مضمون میں آپ نے صرف اسی شخصیت کو نشانہ تنقید بنایاہے جس نے اخلاص وخشیت کے ساتھ اپنی دینی ذمہ داری نبھائی،مجاہدانہ طور پراپنافرض منصبی اداکیااورآپ ہی کے بقول ،سب سے اہم بات یہ کہ ان کے رسائل وفتاویٰ سے اہل خانقاہ کو تقویت ملی، جیسا کہ خود آپ نے اسی مضمون میں اعتراف کرتے ہوئے لکھاہے:
احمد رضاصاحب کی اس پہل سے ان لوگوں کو تقویت ملی جن کے خلاف دیوبند سے متواتر فتوے جاری ہوئے تھے اور ان میں سے اکثرلوگوں اور اداروں نے خانصاحب کی درپردہ یا کھل کر پروزور حمایت کی ۔
پروفیسر صاحب!اگر آپ واقعی خانقاہی ہیں اور سینہ میں دردمند دل رکھتے ہیں تو ذراوقت نکال کرتنہائی میں سوچنے زحمت کیجیے گا کہ ایسی شخصیت آپ کی محسن ہے یا مخالف؟اور وہ آپ کی ہمدردی ومحبت کے مستحق ہیں یا دشنام طرازی وافتراپردازی کے۔
چند بے بنیاد الزامات اور ان کا ناقدانہ جائزہ :
(۱) پروفیسر صاحب نے اس مضمون میںچند ایسے الزامات بھی لگائے ہیں جو نہ کوئی دانشور لگاسکتاہے اور نہ کوئی شریعت کاپابند خانقاہی ۔انہوں نے لکھاہے کہ’’ مرزاقادیانی ،تھانوی اور اعلیٰ حضرت کے درمیان باہمی روابط تھے‘‘یہ اس صدی کااتنا بڑاجھوٹ جسے صرف پروفیسر صاحب کے نامہ اعمال میں پناہ مل سکاہے،ویسے اس جھوٹ کو اگر وہ کسی مستند حوالہ سے ثابت کردیں تو منھ مانگا انعام لے سکتے ہیں ۔اس کے لئے وہ جتنی مہلت چاہیں لےلیں، بصورت دیگر انہیں اس سے رجوع کرنا چاہئے۔
(۲) دوسری جگہ لکھاانہوں نے لکھاہے ’’ احمد رضاصاحب کا رشتہ دونوں اداروں (دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلما)سے تھالیکن ذاتی اختلاف کی بنیاد پر انہوں نے ان دونوں سے علیحدگی اختیار کرلی ‘‘پروفیسر صاحب یہ بے بنیاد بات بھی اگر ثابت کردیں توانہیں منھ مانگا انعام دیاجائےگا۔اس کے لئے انہیںزندگی بھر کی مہلت دی جاتی ہے۔اگروہ سچے ہیں تواس الزام کوثابت کریں ورنہ اس دل آزاری کی معافی ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے آگےایک بے بنیاد بات اور بھی لکھی ہے:
’’کئی محققین نے لکھاہے کہ احمدرضاخانصاحب اور اشرف علی تھانوی صاحب دراصل دوست تھے اور دیوبند میں ساتھ پڑھتے تھے، وہیں ان کے درمیان ناچاقی ہوگئی اور انہوں نے رابطہ ختم کردیا ‘‘
پروفیسر صاحب!آپ اس دعویٰ کو دنیاکے کسی بھی محقق،اپنے پس پردہ متعصب خانقاہی معاون حتیٰ کہ کسی دیوبندی عالم کے ذریعہ بھی ثابت کردیںتو منھ مانگا انعام دیاجائے گا ۔مہلت آپ کی صواب دید پر ہے ۔
پروفیسرصاحب !یا تو آپ پروفیسر لکھنا بند کردیں یا پھر اس لفظ کا بھرم رکھیں ۔پروفیسر حضرات بھی کہیں تحقیق کے نام پر ایسی بے پر کی اڑایاکرتے ہیں، کچھ تو سوچئے؟اس پر مستزاد یہ کہ آپ بزعم خویش خانقاہیت کا وکیل بن کر سامنے آئے ہیں ،کیا اہل خانقاہ ایسے ہی بے لگام الزامات کے نشتر چلاتے ہیں ؟محض سنی سنائی باتوں کو کہیں بیان کردینے والے کو حدیث پاک میں جھوٹاکہاگیاہے کفی للمرء ان یروی ماسمع ۔اور ان کے تمام الزامات اسی قبیل کے ہیں،اس کا انہیں احساس ہوناچاہئے۔آج بھی بہار میں ایک دو کو چھوڑ کر ایسی خانقاہیں مل جائیں گی جہاں حاضر ہونے پر روح کوتازگی ،ایمان کو حرارت، آخرت کی فکر اور عشق رسول کو جلا مل جاتی ہے اور جو خانقاہیں واقعی ایسی ہوںگی وہ کبھی امام احمد رضاکی مخالف نہیں ہوںگی اور نہ ماضی میں رہی ہیںکہ جب عقائد ونظریات اور معمولات ومراسم میں اتحادواتفاق ہے پھر اختلاف وافتراق کی گنجائش ہی کہاں باقی رہتی ہے۔
(۳) رہ گئی بات ہندوستان کو دارالاسلام کہنے ،یاتحریک خلافت کی مخالفت کرنےکے سبب انگریزوں کے ایجنٹ ہونے کی، تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ یہ محض سیاسی نہیں بلکہ شرعی مسئلہ ہےاور اس بحث وہی حصہ لے جس نے شریعت کوپڑھا ہو۔ آپ کا مبلغ علم تو آپ کے مضمون سے ظاہر ہے پھر شریعت کی
معلومات کا تو پوچھنا ہی کیا ؟ویسے اگر ہندوستان کو دارالاسلام کہناہی انگریزوں کاایجنٹ ہوناہے تو خود مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی ہندوستان کو دارالاسلام کہاہے ۔پھر انہیں انگریزوں کاایجنٹ کہنے میںآپ کو کون سا رشتہ مانع آیا؟ اور وہاں اظہار حق مین زبان کے گنگ ہونے کا سبب کیاہے ؟کچھ ارشاد فرمائیں گے؟
(۴) امام احمدرضاکی بیعت وخلافت کے حوالہ سے آپ کی سطحی ذہنیت بھی آپ کی پروفیسری کا جنازہ نکال گئی۔کاش پروفیسر صاحب پروفیسر ہیں توپروفیسر ہونے کا ،سید ہیں تو سید ہونے کا، علی ہیں تو نام علی مرتضیٰ کا ،احمد ہیںتو غلامی احمد مجتبیٰ کااور فردوسی ہیں تو سلسلہ فردوسیہ کا کچھ توبھرم رکھاہوتا۔اگر پیری مریدی کے لئے سادات ہونا ہی آپ کے نزدیک جزولاینفک ہے تو کم از کم یہ تو آپ نے سوچاہوتا کہ خاتم الاکابر حضور سیدنا آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سادات سے ہیں ،معرفت کےتاجدار اور طریقت کے بحر ذخار ہیں اگر وہ کسی نوجوان کو بغیر چلہ کرائے مرید کریں بغیر ریاض ومشقت کے خلافت عطافرمادیں اور بطور تحفہ خدائے عزوجل کے آگے پیش کرنے کا اعلان فرمائیں تو آپ کے پیٹ میں مروڑ کیوں ہونے لگا؟ اور اب آپ کوسادات کا قول قبول کرنے میں کون سی پریشانی لاحق ہوگئی؟
ویسے امام احمد رضا قدس سرہ کے عالم وعارف اور صوفی صافی فقیہہ ہونے کے لئے ان کے مرشد گرامی کا یہ قول مذکور ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے مشائخ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی انہیں اسی نگاہ سے دیکھا جس نگاہ سے حضور خاتم الاکابر نے دیکھاتھااور امام احمد رضانے بھی ان مشائخ کرام کےساتھ نیاز وناز کا وہی انداز رکھا جو ان کے مسند رفیع کاتقاضاتھا ۔آج بھی جن خانقاہوں میں عقیدہ وعمل کے اعتبار سے ماضی کی روایات زندہ ہیں وہاں وابستگان امام احمد رضاکا سر خم ہے اور رہے گا اورجن خانقاہوں کے سجادگان کا اعتقادی رشتہ ان کی اپنی خانقاہ کے اسلاف سےمنقطع ہے انہیں اگر ہماری عقیدتوں میں کمی نظر آتی ہے تو وہ اپنی کوتاہیوں پہ نظر کریں ہماری وضع احتیاط پہ نہیں۔
(۵) خانقاہوں پر بریلویت کے اضافی اثرات ‘‘کی سرخی بھی عجیب وغریب ہے ۔سرخی سے ایسا لگتاہے جیسے اہل سنت کی وابستگی سے خانقاہوں کی بنیادیں ہل گئی ہوں ،درودیوار بدل گئے ہوںاورخانقاہی نظام میں اتھل پتھل کا ماحول پیداہوگیا ہومگر پروفیسر صاحب نے بریلویت کے اضافی اثرات کی جو پول کھولی ہے اس سے سرخی کی ہوا ہی نکل گئی ہے۔یہ بالکل ’’اونچی دکان اور پھیکاپکوان ‘‘کے مشابہ ہے ۔پروفیسر صاحب لکھتے ہیں :
ہمارا اصل مقصد اہل خانقاہ حضرات کے اپنے روایتی اقدار سے انحراف اور بریلویوں کی تقلید سے ہے۔ مثال کے طور پر:
(۱) خانقاہوں میں ان کی روایتی ٹوپیاں غائب ہوگئی ہیں اور رنگین گول اور اونچی ٹوپی دور سے نظر آتی ہے یقین مانئے یہ ایک مضبوط علامت ہے ان کی تعداد کی اور ان کے اپنے عقیدہ سے یگانگت کی ۔
(۲)اعراس کے موقع پر بریلوی مولویوں کی تقریر کا موضوع ومواد بیچ بیچ میں نعرے بازیاں ۔
(۳)خانقاہوں میں نعرے فقرا لگاتے تھے مقرر اور سامعین نہیں ۔
(۴)سلام میں سیدی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام کہنا
(۵)۔اسی طرح نمازوں میں اپنے آباواجداد کی روایات میں اختراع
(۶)۔دوسرے مسالک کے ماننے والوں پر تنقید کرنا ۔
یہ وہ اعمال ہیں جس کی مثال دوتین دہائی پہلے خانقاہوں میں نہیں ملتی ،ان باتوں پر مشائخ اور سجادگان کو سنجیدگی سے غور کرناچاہئے اور بریلویت کے بڑھتے سائے مین اپنی شبیہ کو مدغم ہونے سے بچانا چاہئے
قارئین اندازہ لگائیں کہ محض انہیںعام سی باتوں کے لئے آنجناب پروفیسرصاحب نے اتنادلخراش ودل آزار مضمون لکھا ،تاریخ کا گلا گھونٹااورحقائق کے چہرے مسخ کئےہیں ۔حالانکہ جو کچھ انہوں نے لکھا ہے ا س سے کسی کو بھی صد فی صد اتفاق نہیں ہوسکتا ۔مگر کیا اگر ایساہو بھی گیاہے تو یہ اتنا بڑاجرم ہے کہ اس سے اسلام کا چہرہ مسخ ہوگیاہے؟روحانیت مجروح ہوگئی ہے؟صاحب خانقاہ سے ان کا تعلق کمزور ہوگیاہے ؟کاش انہوں نے ان باتوں کے بجائے خانقاہوں کی نئی نسل کی تعلیم سے دوری ،عملی تصوف سے انحراف اور فروغ روحانیت کو موضوع بنایاہوتاتو پوری امت مسلمہ انہیں اس حق گوئی پہ ہدیہ تبریک پیش کرتی
۔انحطاط تو امت مسلمہ کے ہر شعبہ میں ہے ،اورہر شعبہ کے ذمہ داروں کو اپنے فرض منصبی کااحساس ہونا چاہئے ۔مگر ان تمام باتوںسے صرف نظر کر کے مذکورہ باتوںکو موضوع بنانااور اسے’’ بریلویت کے اضافی اثرات‘‘ سے تعبیر کرناکج فکری اور ذہنی سطحیت کی علامت کے سواکیا کہاجائے ۔
(۶) پروفیسر صاحب نے اہل سنت وجماعت اور وابستگان رضا کی درگاہوں پہ نیازمندانہ حاضری،اعراس میں شرکت ،مشائخ کرام سے اجلاس کی صدارت اوران کی بارگاہوں میں نذرونیاز کی پیشی کو جس بازاری انداز میں پیش کیاہے اس سے وہ اہل علم وادب بلکہ عوام کی نگاہ میں ننگے ہوگئے ہیں ۔اخلاص واخلاق کا ایسا مذاق کوئی صحیح الدماغ انسان نہیںکرسکتا۔ ذراان کی کج فکری اورحاسدانہ رویہ کا اندازہ لگائیے وہ لکھتے ہیں :
ان کے وارثین نے مزید درگاہوں کو اپنے بازومیں سمیٹنے کا ایک طریقہ یہ نکالاکہ درگاہوں پہ حاضری دینے لگے، صاحبان خانقاہ سے ربط ورسم بڑھائی ،تحائف ونذر پیش کرنا شروع کی ،بڑی بڑی دعوتیں سجائیں، جلسوں کی صدارتیں سجادگان سے کروانے لگے ،مجالس سماع میں شرکت کرنے لگے ،پھر جب قدم جم گئے تو خانقاہوں میں عرس میں تقریربھی کرنے لگے اس طرح صاحبان خانقاہ کا ان حضرات پر اعتماد بڑھتاگیا یوں بریلی حضرات اپنے ساتھ ہمنواوں کا مجمع بھی لانے لگے جس سے بھیڑ بھڑنے لگی اس طرح بریلوی حضرات کو اپنا مسلک پھیلانے کا ایک بڑامعتبر اور پراعتماد پلیٹ مل گیا۔
کیاکوئی اور بھی مان سکتاہے کہ اعراس میں ان حضرات کی شرکت سے اعراس کاانداز بدل گیاہے اور اہل خانقاہ کی وضعداری میں فرق آگیاہے؟ جواب نفی میں ہوگا کیوںکہ خانقاہی حضرات آج بھی اپنی ہی ٹوپی میں نظر آتے ہیں انگرکھااور چغہ وہ آج بھی سجاتے ہیں، قل کی مخصوص تقریب کامخصوص انداز آج بھی ان کے یہاں قائم ہے ۔ اس کے باوجود بریلویت سے پروفیسر صاحب کو بلاوجہ کا خوف ہے ۔ یہ ان کی کمزوری کی علامت ہے ۔جیسے بی جے پی کو بلاوجہ مسلمانوں کی وجہ سے ہندو خطرے میں نظرآتاہے اسی طرح پروفیسر سید علی احمد فردوسی صاحب کواعراس میں اہل سنت وجماعت کی شرکت کی وجہ سے خانقاہ خطرہ میں نظرآتی ہے ۔حالانکہ حقیقۃ نہ مسلمانوں سے ہنود کو خطرہ ہے اور وابستگان رضاکی شرکت سے اہل خانقاہ کو ۔مگر جب آدمی کی نیت میں کھوٹ ہواور اپنی حیثیت عرفی کے ختم ہونے کا احساس غالب ہونے لگے تو اپنی ساکھ بچانے کے لئے آدمی توڑ پھوڑ پہ اترہی آتاہے ۔بی جے پی کی طرف سے اتر پردیش کو تین حصے بانٹے کی سازش اس کی زندہ مثال ہے ۔
میری اتنی گزارشات سے قارئین پر یہ حقیقت روشن ہوگئی ہوگی کہ مضمون نگار جناب پروفیسر سید علی احمد فردوسی صاحب جوان العمری میں باہوش سلیقہ مند اور سنجیدہ مزاج رہے ہوں گے مگر اب بڑھتی عمر کے اثرات ان پر غالب ہیں وہ دوجملہ کے بعدہی بھول جاتے ہیں کہ ہم نےآگے کیالکھاہے اور جو کچھ لکھاہے اس کی کوئی تاریخی اور تحقیقی حیثیت ہے بھی یانہیں۔دوسری بات یہ کہ انہوںنے دوسروں پرآنکھ بند کرکے اعتماد کرنے کے سبب بھی ٹھوکر کھائی ہے جس کا انہیں تلخ احساس ہوگیاہوگا ۔پروفیسر صاحب یادرکھیں کہ ہرچمکتی ہوئی چیز سونااور ہر ہاتھ بڑھانے والاانسان دوست نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ مطلب برآری کے لئے بھی ہاتھ بڑھاتے ہیں ۔ اب یہ پہنچانناانسان کاکام ہے کہ کون مخلص ہے اور کون شکاری ؎
میں زندگی کو سہاروں پہ چھوڑدوں کیسے
میں جانتاہوں مآل سپردگی کیاہے
اس مضمون کے چند پہلو اور بھی ہیں جو جائزہ کے لئے رہ گئے ہیں مگر دیہات میں دیگر مصروفیات سے وقت نکال کر جتناممکن ہوسکاہے وہ حاضر کردیا ہے ضرورت پڑی تو اس کی تکمیل بھی کردی جائے گی ۔اللہ تبار ک وتعالیٰ ہم سب کو صحیح سوچ مثبت فکر اور اہل سنت کے علماومشائخ کے درمیان اٹوٹ رشتہ قائم کرنے اورباقی رکھنے کی توفیق عطافرمائے آمین ۔
الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !
الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مزید پڑھیں: Views: 17 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں آتی ہے اور کبھی کبھی اخباروں کے صفحات پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بیان دیتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر اتحاد ہونا ہی سرخرو … Read more Views: 31 جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی نقشبندی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ ” الحاد” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے انحراف کرنا ، راستے سے ہٹ جانا ،الحاد کو انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے جس کا مطلب … Read more Views: 68 نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش بہار میں آج نتیش کمار دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں ایک نئی حکومتی ترتیب کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ این ڈی اے قانون سازیہ … Read more Views: 95 مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ (جب جاگو تبھی سویرا) تحریر: جاوید اختر بھارتی javedbhati.blogspot.com آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا … Read more Views: 91 راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر شمس آغاز ایڈیٹر،دی کوریج ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں ہر شہری کو مساوی حقِ رائے دہی حاصل ہے۔ ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ کا اصول اس نظام کی بنیاد ہے، اور یہی اصول ملک کو کثرت … Read more

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش

مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر
