وقت بدل گیا حالات بدل گئے ۔۔۔مدارس کی طرف واپس لوٹ رہے طلباء کے لیے چشم کشا تحریر!!

وقت بدل گیا حالات بدل گئے ۔۔۔

مدارس کی طرف واپس لوٹ رہے طلباء کے لیے چشم کشا تحریر!!

مـحـمـد مـظہـر قــادری(کـوڈرمـا) جـھـارکـھنڈ


اب طلبہ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ اپنے اپنے مادر علمی کا قصد کر رہے ہیں ۔۔۔
کیا ہونی چاہئے _ ایک مادر علمی میں اس کے اور اس میں زیر تعلیم و زیر پرورش طالب علموں کے فرائض اور ذمہ داریاں !!!!!

تعلیمی ادارہ کی سب سے پہلی اور اولین ذمہ داری طلباء کی علمی، ذہنی اور فکری استعداد کو بڑھانا اور خوب پروان چڑھانا ہے۔ ایک طالب علم کی سب سے اولین ذمہ داری علمی میدان میں ترقی کا حصول ہے۔اس کی یہی تعلیمی ترقی اس بات کا باعث بنے گی کہ وہ مستقبل قریب و بعید میں اپنے اعلیٰ تعلیم و ذہانت کے سبب اپنے ملک و قوم کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرسکے۔ جدید ٹیکنالوجی ایک طالب علم کے حصول علم کی راہ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس کا جائز اور مناسب استعمال کیا جائے۔ اس بنا پر ایک طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے توسط سے جدید علمی تحقیق سے اپنے علم کو اپ ٹو ڈیٹ کرے اور کرتا رہے۔

طلبہ کی ذمہ داریاں :

جب اللہ تعالى نے ان گنت لوگوں میں سے خدمت دین کے لیے طلبہ کاخصوصی طور سے انتخاب کیا ہے تو ان کی بھی ذمہ داریاں اور فرائض ہیں جو ذیل کے سطورمیں مذکور ہیں :۔

1۔ طلبہ کی سب سے اہم ذمہ داری اخلاص وللاہیت کے ساتھ علم دین کا حصول ہےجس کے لیے خاطر خواہ محنت ومشقت اور جوش وجذبہ درکا ر ہے۔ بغیر محنت ومشفت کے کسی بھی بامقصد چیز کی طلب ناممکن ہے، لہذا اسے حاصل کرنے کے لیےسچی لگن، عمدہ ذوق وشوق اور پیہم جاں فشانی کی ضرورت ہے۔کسی شاعر نے یوں نقشہ کھینچا ہے :۔

نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا

سوبار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

2۔ علم دین کے حصول کے بعد ایک طالب علم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ اپنی پڑھی ہوئی اسلامی تعلیمات کی روسے بدعات وخرافات کی بیخ کنی اورسوسائٹیز میں پنپ رہی دقیہ نوسی و فرسودہ روایات کے انسد اد کے لیے عملی اقدام اٹھائے۔ توحید کے مفہوم اور ”لا إلہ إلا اللہ“کے ارکان اور مقتضیات سے مسلمانوں کو باخبر کریں کیوں کہ مسلمانوں کی کلمہ گو کثیر تعداد شرک وبدعات، ضعیف وموضوع روایات پر عمل پیرا ہیں اور اپنے عمل کی انجام دہی میں نہایت ہی مست ومگن نظر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک طالب علم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صحیح معتقدات کے فروغ کےلیے، منہج سلف کی ترویج واشاعت کے لیے مناسب اور لائق تنفیذ عمل انجام دیں جس سے آپسی چشمک اور بدظنی نہ پیداہونے پائےنیز صحیح عقائد کی تبلیغ بھی ہوجائے۔

3۔ طلبہ پر فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کی قدر دانی کے ساتھ اپنے اساتذہ کرام کی عزت وتوقیر میں حسب استطاعت دقیقہ فروگذاشت نہ چھوڑیں کیوں کہ والدین اپنی اولاد کی جسمانی پرورش کرتے ہیں جبکہ اساتذہ اپنے شاگردان کی ذہنی، اسلامی، اخلاقی، تعلیمی اور روحانی تربیت کرتے ہیں۔ اساتذہ کی قدراورتوقیر کیے بغیر علم کاحصول مشکل ہی بلکہ ناممکن ہے کیوں کہ اخذ علم کا پہلا زینہ ادب ہے۔

4۔ ایک طالب علم کے اخلاق وکردار، عادات واطوار، چال چلن، وضع قطع میں اسلامی اقدار وروایات کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے۔اور اسے بری صحبت سے کنارہ کش اور اچھی اور مفید صحبت کو لازم پکڑناچاہیے۔

5۔ یہ بات صحیح ہے کہ دینی طلبہ کو گندی سیاست سے دور رہنا چاہیے تاہم ملکی اور بین الاقوامی واقعات وحادثات کے مطالعے سے دلچسپی ضروری ہے، تاکہ دنیا میں انجام پا رہے سیاہ کارناموں اور مسلمانوں کے خلاف ہورہی دسیسہ کاریوں اور ریشہ دواونیوں سے سبق حاصل کیا جاسکے۔

6۔ ایک طالب علم کے لیے سب سے اہم بات یہ ہےکہ اسے دوران تعلیم ذہنی انتشار کی باعث اشیاءنیز مادیت پرستی اور ریا ونمود سے کوسوں دور رہنا چاہیےاور خصوصی طور سے حرام خوری کی طرف لے جانے والی راہ کے قریب بھی نہیں پھٹکنا چاہیے ورنہ ایک مرتبہ حرام خوری اور باطل طریقے سے دوسروں کےمال کھانے اور حقوق غصب کرنے کی لت لگ جائے تو اس سے گلو خلاصی مشکل ہوجاتی ہے۔

7۔ قو م وملت کی تعمیر وترقی اور ارتقائی ادوار کے عبور میں نوجوان نسل (دینی طلبہ)کی مساعدت نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے۔کیوں یہ وہ افراد ہیں جو قوم کے مقدر کا ستارہ بن سکتے ہیں، سماج اورمعاشرے میں جگنو کی طر ح روشنی اور تابناکی بکھیر سکتے ہیں، شاہین پرندے کی طرح لمبی پرواز بھر سکتے ہیں، جیسا کہ علامہ اقبال نے اپنے شعر میں یوں نقشہ کھینچا ہے:

ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

مذکور ہ تحریر کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ واقعی دینی طلبہ درخشاں و تابند ہ سماج کے ضامن ہیں، ان کے زور وقوت سے قوم وملت، سماج اور معاشرے میں آب تاب ہے۔

اسلام کا دامن حکمت اور دانائی کے موتیوں سے بھرا پڑا ہے۔دین اسلام تمام دنیا کے انسانوں کو فکرو عمل کی دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے علوم وفنون کیلئے اس کی آغوش کھلی ہے۔اسلام اصولی طور پر تحقیقات اورسائنس ہی کا دین ہے جو خود کائنات میں غور و فکر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ دنیا کااور کوئی مذہب کائنات میں غورو فکر اور مشاہدے کی دعوت نہیں دیتااور یہ ان کے باطل ہونے کی کھلی دلیل ہے۔ صرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو کہتا ہے کہ فطرت کے قریب آؤ، فطرت کو قریب سے دیکھو اور اس میں غور وفکر کرو کہ اسے کس نے پیدا کیا؟اس کو پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اور اس سے انسانی زندگی کیلئے کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں ؟جس قدر سائنس کی تحقیقات، ایجادات اور انکشافات میں اضافہ ہو گا،اسی قدر اسلام کے دین فطرت اور دین حق ہونے کااعتراف بڑھتا جائیگااور توحید حق کے پرستاروں میں اضافہ ہوگا۔ جس طرح ماضی میں مسلمانوں نے بے نظیر سائنسی کارنامے سرانجام دئیے اور دنیا میں ایک پُر وقار مقام حاصل کیا ، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر دنیا میں اپناوہ کھویا ہوا عظیم مقام پھر سے حاصل کریں۔
مادر علمی ،اساتذہ وطلباء کیلئے ضروری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دینی علوم کو فروغ دیں۔ بھائی چارہ، اخوت، رواداری، اسلامی مساوات،یگا نگت ، باہمی تعاون و اتحاد جیسے عوامل کا پرچار کر کے دنیا پر واضح کر دیں کہ اسلام مسلکوں اور فرقوں کا نام نہیں بلکہ اسلام ایک نظام کا نام ہے، اسلام ایک ضابطۂ حیات کا نام ہے، اسلام ایک اخوت اور بھائی چارہ ، مساوات اور برابری کا نام ہے اور پھر اسلام پے چل کر ، قرآن و سنت کا دامن مضبوطی سے تھام کر جدید علوم و فنون ، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ میں انتہا درجہ کی مہارت حاصل کریں۔وہ اتنی ذکاوت و مستعدی اور علم رکھتے ہوں اور سخت سے سخت محنت کرنے پر کمربستہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جو طبعی قوتیں پیدا کی ہیں، اور زمین میں دولت و قوت کے جو چشمے اور دفینے رکھ دئیے ہیں، ان سے کام لیتے ہوئے اِن کو اسلام کے عظیم مقاصد اور صحیح تشخص کے لیے مفید بناسکیں۔
دورِ حاضر سائنس و ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور ہے۔ ہمیں روایتی تدریس سے ہٹ کر جدید ذرائع سے اپنی تعلیم کو موثر کرنا ہوگا تاکہ طلبا کو روز ہونے والی تبدیلیوں اور انقلابات سے واقف کراتے ہوئے ان میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکے ۔صرف اسی صورت میں مسلمان پوری دنیا پر غالب آ سکتے ہیں اور دنیامیں اپنا کھویا ہوا عظیم مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ زیورِتعلیم کو قرآن و سنت کے آئین کے مطابق آراستہ کریں وگرنہ ترقی یافتہ اقوام کی غلامی اور صہیونی و سامراجی قوتوں سے نجات پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔
اخلاقی پرورش مادر علمی میں ایک طالب علم کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی بہترین انداز سے پرورش کرے۔ ایک بہترین طالبعلم اسی وقت بہترین اور ذمہ دار طالب علم بن سکتا ہے کہ جب وہ اخلاقی اقدار کو بھی اپنی عملی زندگی میں زندہ کرے۔اخلاقیات کو زیادہ سے زیادہ اچھا اور بلند اوصاف سے مزین کرے۔زمانہ طالبعلمی میں انسان کے پاس ایک بہترین موقع اور فرصت ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے پاس وقت کی وافر مقدار کے ہوتے ہوئے اپنی علمی ترقی کے ساتھ اپنی اخلاقی اقدار کی بھر پور طریقہ سے پرورش کر سکتا ہے۔
اخلاقیات کسی بھی قوم کی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں۔ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل شئے اخلاق ہے۔اچھے اور عمدہ اوصاف و کردار ہیں جس کی قوت اور درستی پر قوموں کے وجود، استحکام اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔ معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قوی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔جس معاشرہ میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا۔ اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات،اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ جس ماحول یا معاشرہ میں اخلاقیات کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں اور جہاں شرم و حیاء کی بجائے اخلاقی باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو، اس قوم اور معاشرہ کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے ، جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیرہوجاتی ہے۔
اخلاقیات ہی انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں۔اگر اخلاق نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کی جماعت انسان نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی۔ انسان کی عقلی قوت جب تک اس کے اخلاقی رویہ کے ما تحت کام کرتی ہے ، تمام معاملات ٹھیک چلتے ہیں اور جب اس کے سفلی جذبے اس پر غلبہ پالیں تویہ نہ صرف اخلاقی وجود سے ملنے والی روحانی توانائی سے اسے محروم کردیتے ہیں ، بلکہ اس کی عقلی استعداد کو بھی آخر کار کند کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرہ درندگی کا روپ دھار لیتا ہے اور معاشرہ انسانوں کا نہیں انسان نما درندوں کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ یہ سب اخلاقی بے حسی کا نتیجہ ہے۔
انسان کی اخلاقی حس اسے اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار،حسن معاملات، اخوت، رواداری اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔ جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے وہ اپنے فرائض کو ذمہ داری اور خوش دلی سے ادا کرتے ہیں اور جب یہ حس مردہ اور وحشی ہو جاتی ہے تو پورے معاشرے کو مردہ اور وحشی کر دیتی ہے تو وہ لوگوں کے حقوق کو خونی درندے کی طرح کھانے لگتا ہے توایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔انسان میں حیوانی حس کا وجود صرف لینا جانتا ہے دینا نہیں۔چاہے اس کا لینا دوسروں کی موت کی قیمت پرہی کیوں نہ ہو اور بدقسمتی سے یہی صورتحال آج ہمارے معاشرہ میں جنم لے چکی ہے۔یہ مادر علمی کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ علوم کے ساتھ ساتھ طلباء کی اخلاقیات پر بھی بھرپور توجہ دیں، انہیں اچھے اخلاق اور اعلیٰ اوصاف سے مزین کریں تاکہ طلباء جب یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد معاشرہ میں قدم رکھیں تو لوگ اس کے اچھے اوصاف و عمدہ اخلاق اور تہذیب کے سبب اس کے ادارہ کی بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکیں۔
تعلیم و اخلاق کے بعد جو تیسری ذمہ داری مادر علمی اور طالب علم پر عائد ہوتی ہے وہ سماجی اغراض و مقاصد اورخدمات سے آگاہی ہے۔ ایک طالبعلم کو اس سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ اس کے سماج میں ، اس کے معاشرہ میں اس کی کیا ضرورت ہے اور وہ اپنے معاشرہ کے لئے اچھے سے اچھا کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ ایک طالب علم اسی وقت اپنے سماج اور سوسائٹی کیلئے کار آمد ثابت ہو سکتا ہے کہ جب وہ اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنے سماج سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ بھی ہو اور انہیں نبھانے کیلئے خود کو تیار بھی کرے۔ جب ایک طالب علم صرف اپنی توجہ کو حصول تعلیم کیلئے مرکوز رکھے اور اپنی سماجی ذمہ داریوں کیلئے خود کو آمادہ نہ کرے تو وہ عملی میدان میں ایک بہترین اور کامیاب انسان نہیں بن سکتا۔ سماجی و ملی منشوعات اور ضروریات اور ذمہ داریوں سے آگاہی اور ان کیلئے خود کو تیار کرنا ہی ایک طالب علم کومستقبل میں ایک نڈر اور کامیاب انسان بنا سکتا ہے اور اس سے نہ صرف اس کی عملی و علمی صلاحیتوں کا حقیقی معانی میں پروان چڑھانے کا سبب قرار پائے گا بلکہ وہی طالب علم جب میدان عمل میں قدم رکھے گا تو زمانہ طالب علمی کی اس کی محنت و جد وجہد اس کیلئے کارآمد ثابت ہو گی۔ چوتھی چیز جو بیک وقت مادر عملی اور طلباء پر عائد ہوتی ہے وہ سیاسی بصیرت کا حصول ہے۔ زمانہ طالب علمی میں ایک سمجھدار اور ذہین طالب علم وہی ہوتا ہے جو اپنے زمانے کے نشیب و فراز سے آگاہی کیلئے خود میں سیاسی بصیرت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سیاسی بصیرت کا معنیٰ یہ نہیں کہ ایک طالب علم اپنے علمی صلاحیتوں کو مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی بنیاد پر ضائع کردے بلکہ وہ دیکھے ، مشاہدہ کرے کہ کون ان کے ملک و قوم کے لئے اچھا اور کون برا۔ زمانہ طالب علمی میں اپنے ملک اور خطے کے حالات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی حالات و واقعات کا صحیح انداز اور زاویے سے تجزیہ کرنا سیکھے۔ یہ تجزیہ و تحلیل اس میں سیاسی بصیرت کی بنیادوں کے استحکام کا باعث بنے گی۔ یہ سیاسی بصیرت اسے عملی زندگی میں مدد کرے گی کہ وہ زمانے کی رنگ رنگینیوں کے پر فریب مظاہر میں خود کو گم نہ کرے اور اپنے
ملک میں عالمی سامراج اور اس کے استکباری نظام سے وابستہ افراد اور جماعتوں سے لا تعلقی کا اظہار کرے۔
پانچواں فرض جو مادرعملی اور طلباء پر عائد ہوتا ہے وہ تقویٰ کا حصول ہے۔مادر علمی کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ ایسے افراد تیار کر کے معاشرہ کو دے جو تقویٰ ، پرہیزگاری سے سرشار ہوں اور معاشرتی طہارت و پاکیزگی پر یقین رکھتے ہوں۔ ان سے فارغ التحصیل طالب علم کوئی ایسا کردار ادا نہ کریں جو اسلامی معاشرہ کی پاکیزگی و پاکدامنی پر دھبہ ثابت ہوں اور وہ اپنے ادارے اور خاندان کی بدنامی کا باعث بنیں۔ ایک حقیقی طالب علم وہ ہوتا ہے جو اپنی دنیا کو اپنی آخرت کیلئے مقدم سمجھتا ہے اور اس بنا پر اس کی تعلیم سمیت اس کی تمام فعالیت اس کی آخرت اور قرب الٰہی کا وسیلہ قرار پاتی ہے۔اس مقصد کے حصول کیلئے وہ اللہ تعالیٰ کے قوانین کی حقیقی پیروی اور حلال و حرام کی جانب توجہ مبذول کرتے ہوئے اپنے رب کو اپنی زندگی سے راضی کرنے کی تگ و دو میں مصروف عمل رہتا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں تقویٰ کے حصول کی کوششیں عملی زندگی میں اس کی معاون ثابت ہوں گی۔
اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے قوانین کو لاگو کرنا اور لازم الاجراء بنانا ہی ایک سچے مسلمان طالب علم کی حقانیت و صداقت پر دلیل ہے۔ یونیورسٹی کی فضا میں نامحرم طالبات کے ساتھ روابط وتعلقات میں اللہ کی مرضی و منشا کو مد نظر رکھنا اور حلا ل و حرام کی حدود کی پابندی کرنا ایک طالب علم کی اولین اور بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ایک مسلمان طالب علم ہونے کے ناطے ہم طالب علموں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ زمانۂ طالب علمی میں خود کو ان بہترین صفات سے آراستہ کرنے کی کوشش کریں جو نہ صرف اس کیلئے بلکہ اس کے خاندان اور ملک و قوم کیلئے بہتر ثابت ہوں۔

mdmazharqadri298@gmail.com…..


الرضا نیٹ ورک کو  دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

Leave a Comment