خلیفہ تاج الشریعہ مفتی نظام الدین نوری رولا گئے!
موت العالِم موت العالمموت تو خداے ذوالجلال کا ایک اٹل فیصلہ ہے کسی نہ کسی دن سب کو جانا ہے۔ لیکن کچھ شخصیات کے چلے جانے سے قلب و روح دونوں دکھی ہوجاتا ہے۔ کل صبح امام المنطق، جامع معقول و منقول علامہ ہاشم رضوی نعیمی صاحب داغ مفارقت دے گئے ان کے جانے سے دل نڈھال تھا ہی کہ آج تقریباً ۸ بجے صبح ایک ایسی خبر ملی کہ دل مان ہی نہیں رہا تھا کہ خلیفہ تاج الشریعہ مفتی نظام الدین نوری براؤں صاحب کا ہی انتقال ہوگیا ہے۔ خبر میں ان کے صاحبزادہ مولانا انوار احمد صاحب کے انتقال کی بھی خبر تھی تو تھوڑی دیر کے لیے سوچا کہ ہوسکتا ہے حضرت کو چوٹ آئی ہوگی اور بیٹا انتقال ہوگیا ہے لیکن نیچے ہی لکھا ملا کہ مفتی صاحب اور ان کے بیٹے دونوں کا انتقال ہوگیا ہے۔ تصدیق کے لیے ایک دو لوگوں سے معلوم کرنا چاہا ہی تھا کہ یکے بعد دیگر خود ہی اتنے میسیج مل گئے کہ متواتر کی خبر ہوگئی۔ خیر جیسے تصدیق ہوئی دل غمگین اور اور آنکھ اشک بار ہوگئی۔ مرضیِ مولی از ہمہ اولی کے تحت دل کو مطمئن کیا کلمہ استرجع اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔
حضرت مفتی صاحب قبلہ بیک وقت کئی خوبیوں کے مالک تھے۔ عمدہ اور عمیق نظر مفتی، کہنہ مشق مدرس، ساحر اللسان و فصیح البیان خطیب، مجلسِ شرعی آف کونسل بریلی شریف کے رکن، فیض العلوم براؤں شریف کے استاد اور عمدہ مضمون نگار تھے۔ حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے دیوانگی کی حد تک محبت و عقیدت تھی۔ تقریر بڑی پر مغز اور دل نشین ہوتی تھی اپنی تقریر میں لوگوں کو ہنساتے اور بہترین نصیحت فرتے تھے۔ جیسی محفل ہوتی ویسا ہی خطاب فرماتے علما و طلبہ کی مجلس میں ان کے افہام و تفہیم کا خیال رکھتے اور عوامی اجلاس میں عوام کے ذہن و دماغ کا خیال رکھتے تھے۔
دارالعلوم جمدا شاہی بستی میں جب میں زیر تعلیم تھا تو اسی سال حضور مرشد گرامی سیدی تاج الشریعہ کے چہلم کے موقع پر ایک کانفرنس بنام ”یادگار تاج الشریعہ کانفرنس“ منعقد ہوئی جس کے خصوصی خطیب آپ ہی تھے پہلی مرتبہ سامنے سے سننے کا موقع ملا بہت عمدہ خطاب ہوا اور کئی نصیحتیں طلبہ کو کر گئے۔ اس کے بعد بستی کے کسی پروگرام میں حضور تاج الفقہا استاد گرامی مفتی اختر حسین علیمی صاحب صدر شعبہ افتا کے ساتھ تھے تو وہاں ہم لوگ آپ دونوں بزرگ کی تقریر سماعت کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔
بڑے متصلب اور ٹھوس عالم ربانی تھے مسلک و مذہب کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ زندگی بھر مسلک اعلی حضرت کے ترویج و اشاعت میں لگے تھے۔جہاں بھی تقریر کے لیے جاتے تو مسلک اعلی حضرت پر گامژن رہنے کی تلقین ضرور فرماتے اور صلح کلیوں و بدمذہبوں سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔
استاد گرامی مفتی اختر حسین علیمی صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ سے یارانہ تعلقات تھے حضرت ان کا ذکر جمیل بارہا فرمایا کرتے تھے۔ آج ہم سب کو رولا کر مفتی صاحب چلے گئے۔ عمدہ اخلاق و کردار کے حامل اور متصلب فی المذہب و المسلک عالم ربانی تھے مفتی نظام الدین صاحب۔
میں ان کے اہل خانہ اور متعلقین و متوسلین اور تلامذہ کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔ اور دعا گو ہوں کہ مولی کریم حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ اور آپ کے صاحبزادے مولانا انوار احمد صاحب علیہ الرحمہ کو مغفرت فرمائے اور اپنی جوار میں جگہ عطا فرماے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلى الله عليه وسلم
شریک غم:
محمد فیضان رضا علیمی، سیتامڑھی۔
مدیر اعلی سہماہی پیامِ بصیرت سیتامڑھی۔
استاد مدرسہ قادریہ سلیمیہ چھپرہ بہار۔
۲۲ شوالالمکرم ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۴ مئی ۲۰۲۲ء بروز منگل
الرضا نیٹ ورک کو دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ (۲)جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مزید پڑھیں:
