ووٹنگ کے دن ووٹ ڈالنا سب سے اہم ذمہ داری !

ووٹنگ کے دن ووٹ ڈالنا سب سے اہم ذمہ داری !
تحریر۔ محمد اشفاق عالم نوری فیضی
رکن۔مجلس علمائے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پورزونل کمیٹی کولکاتا۔136

رابطہ نمبر۔9007124164


     مکرمی!  کسی بھی جمہوری ملک میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہوتی ہے، عوام کے ووٹ سے حکومت بنتی ہے، اگر آپ پڑھے لکھے ہیں تو یقیناً یہ تو جانتے ہی ہونگے کہ آپکا ووٹ آپکی طرف سے اپنے ملک،ملکی اثاثہ جات، ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری جیسی چیزوں کو امانت کے طور پر کسی کے حوالہ کرنے کے لیے اپکا اعتماد ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے ووٹ کو کسی بھی طرح کی جذباتیت، کسی ذاتی مفاد، کسی برادری ازم، کسی علاقائی و لسانی تعصب کی بنیاد پر ہرگز ہرگز مت دیں بلکہ پوری طرح سوچ سمجھ کر پورے شعور آگہی کے ساتھ، ہر طرح سے موازنہ کر کے اور باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی کسی کو ووٹ دیں۔
    ہمارے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاست کا معاملات  ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہر پارٹی اور اسکا ہر امیدوار خود کو فرشتہ صفت اور دوسروں کو شیطان ثابت کرنے کی پوری کوشش میں لگے رہتے ہیں اور دوسری طرف ملک کو اس بدحالی کا شکار بنانے میں سب ہی برابر کے حصہ دار بھی نظر آتے ہیں تو ایسے میں عام آدمی کیلیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ ان سب میں سے بہتر امیدوار کا انتخاب کیسے کیا جائے؟ ووٹ دینا ایک سنجیدہ نوعیت کی ذمہ داری ہے۔ جس کی حرمت غیر سنجیدہ سرگرمیوں سے ضائع کی جاتی ہے۔ ریاست کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمیں اپنے اور اپنے گھروالوں کے ووٹ کا درست استعمال کرنا چاہیے۔ اگر ہم لوگ ووٹ کا صحیح استعمال سیکھ جائیں تو ووٹ کی طاقت اتنی مسلم ہے کہ صرف چند اہل اور قابل با صلاحیت افراد منتخب کر لیے جائیں تو قوم کا کارواں درست سمت کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ ہماری قوم بہت با صلاحیت ہے۔ قدرت نے بے بہا وسائل کی نعمت سے نوازا ہے۔
    اگر آج ہمارے اندر خرابیاں اور مسائل ہیں تو وہ اپنے عوامی نمائندوں کے انتخاب کے وقت ہمارے غلط یا جذباتی چناؤ کے باعث ہی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کے نمائندے کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس عوام کے تمام مسائل کا حل ہے، لہٰذا ووٹ انہیں ہی دیا جائے کیونکہ وہ منتخب ہوکر چٹکی بجاتے ہی تمام مسائل کا فوری حل نکال لیں گے۔ جبکہ عوام اپنی تقدیر پر حیران و پریشان ہیں کہ ان کے ساتھ یہ مشق کب تک دہرائی جاتی رہے گی؟ کب تک انہیں ووٹ کے تقدس کے نام پر لوٹا جاتا رہے گا؟ منتخب نمائندوں کی جانب سے مسلسل وعدہ خلافیاں، محض کھوکھلے نعروں اور دعووؤں کی وجہ سے آج عوام کی نظر میں ووٹ کی اہمیت تقریباً ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ لوگ انتخابی عمل میں صرف روایتی طور پر شرکت کرتے ہیں۔ سیاستدان بھی جانتے ہیں کہ عوام کا حافظہ بہت کمزورہوچکا ہے، اس لیے وہ ہر بار نئے اور خوشنما دعووؤں کی دکان سجاتے، وعدوں کا نیا جال بنتے اور عوام کو اْس میں پھنسالیتے ہیں۔ تعلیم یافتہ معاشروں میں عوام کو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ ان کا ووٹ ملک کے لیے کتنا اہم ہے، ان کی ذرا سی غفلت کتنے بھیانک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ بلاشبہ بہترین طرزِ حکمرانی اور جمہوریت ہی عوام کے تمام مسائل کا حل ہے۔ سسٹم کو گالیاں دینے، اسے کوسنے کے بجائے سسٹم کو مؤثر اور فعال بنائیں۔ جمہوری نظام میں جو خامیاں ہیں انہیں دور کرنے کے لیے ہر ہندوستانی اپنا کردار ادا کرے۔ استعمال ہونے کے بجائے اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں۔
    یقین کیجیے حالات بدلیں گے، بس تھوڑا خود کو بدلنے کی ضرورت ہے حالانکہ ہرپارٹی اپنے ووٹروں کو گرویدہ بنانے کے لئے طرح طرح کے ہتھیار اپنا رہے ہیں کوئی” جے شری رام” کا نعرہ لگاکر منافرت کی بیج بو رہا ہے تو کوئی” انقلاب زندہ باد”کا نعرہ لگارہاہے اس مرتبہ سارے ووٹر حضراتب کو بڑے ہی محتاط ہوکر اپنے راے دہی کا بخوبی استعمال کرنا ہے لیکن ایک وقت دیدی کے دست وبازو رہے چند افراد ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوے اور اب وہیں لوگ ووٹنگ کے دن گونڈا گردی کرتے پھر رہے ہیں اور مغربی بنگال کے امن شانتی کے شبیہ کو بگاڑنے پہ تلے ہوے ہیں اگر آپ نےبھی ان سے خوف کھا کر اپنے قیمتی ووٹ کا غلط استعمال کرلیا تو آئندہ پانچ سالوں تک خون کے آنسو رونے پڑینگے ۔ جبکہ آپ بخوبی معلوم ہے کہ مغربی بنگال میں پرتشدد ووٹنگ کے مراحل یکے بعد دیگرے طے ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ہر امیدوار کی قسمت کا فیصلہ ای،وی ،ایم میں بند ہورہے ہیں اسی لیے ہمیں ایماندار امیدواروں کا انتخاب کرناہے حالانکہ الیکشن کے پیش نظر کچھ قابل اعتماد اور ایماندار امیدواروں کے ساتھ ساتھ بہت سارے سیاسی شعبدہ باز اور بازیگر فریب دہی و ملمع سازی کے ذریعے سادہ لوح عوام کی نظروں کو خیرہ کرنے اور کھلا فریب دینے کی خاطر برساتی مینڈکوں کی طرح ٹرٹر کرتے ہوئے میدان میں اترچکے ہیں۔ جس طرف دیکھئے ایک شوروغل اورہنگامہ بپا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر ایک جشن لگا ہوا ہے۔ مشروبات کی بوتلوں کے کھلنے کی ٹھکاٹھک، قبیلوں و برادریوں کے اتحاد و یک جہتی کی باتیں ، روپے پیسے کی تقسیم، کل کارخانے میں نوکری کی کبھی خواب دکھا رہے ہیں تو کبھی بڑے بڑے وعدے بھی کرتے نہیں تھکتے۔ لیکن انتخابی دنگل میں اترے بال وپر تولنے والے خواہشمند امیدواروں کے عارضی دفاتر پر سالوں سے بچھڑے ہوئے بے روزگاروں کی یومیہ ملاقاتیں و شب بیداریاں،نکڑوں اور کارنروں پرآویزاں ہورڈنگس اور بینروں کی بہتات، خوشنما وعدوں کے دلفریب نعرے۔ غرض یہ کہ ایک نئی مہم شروع ہوگئی ہے۔ عام طور پر ہم لوگ ووٹ کی طاقت واہمیت اور اس کی شرعی حیثیت سے لاعلمی کی بناء پر اس کو ایسے افراد کے حق میں استعمال کرڈالتے ہیں جو کسی بھی طرح اس کے اہل نہیں ہوتے ہیں ، جس کا خمیازہ ہم لوگ اگلے پانچ سالوں تک اسی دنیا میں بھگتتے رہتے ہیں اور آخرت میں بھی جس کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔
    لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ووٹ کی طاقت و اہمیت اور اس کی دینی وشرعی حیثیت کو جان کر اس کا صحیح استعمال کریں۔ ووٹ ایک شہادت اور گواہی ہے ، ووٹ دینے والا اس شخص کے متعلق جس کو وہ اپنا بیش قیمت ووٹ دے رہا ہے اس بات کی شہادت اور گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص اس عہدہ کے لیے ہر طرح لائق ہے، اور اس میں اس منصب کی قابلیت موجود ہے۔ اور یہ شخص لیاقت و قابلیت کے ساتھ ساتھ امانت دار و دیانت دار بھی ہے۔ اگر بالفرض وہ نمائندہ اہل نہ ہو ، یا اس میں اس کام کی قابلیت و اہلیت نہ ہو ، یا وہ امانت دار و دیانت دار نہ ہو ، اور ووٹ دینے والا ان تمام باتوں کو جانتے ہوئے بھی اگر اس کو ووٹ دیتا ہے تو گویا وہ جھوٹی شہادت دے رہا ہے ، اور جھوٹی گواہی یا شہادت کی قباحت اور شریعت کی نظر میں اس کے گندے اور گھناؤنے ہونے کا اندازہ آپ اس سے لگاسکتے ہیں کہ رسالت مآب ﷺ نے اس کوکبیرہ گناہوں میں شامل فرمایا ہے۔

    لہٰذا ووٹر حضرات کو چاہیے کہ اپنا بیش قیمت ووٹ دینے سے قبل اپنے ووٹ کی طاقت و اہمیت اور اس کی دینی وشرعی حیثیت کو خوب اچھی طرح سمجھ کر کسی کو اپنا ووٹ دیں۔ خود غرضی ، عارضی مفادات ، قرابت و تعلقات ، دوستانہ مراسم یا کسی کی غنڈہ گردی کے ڈر و خوف کی وجہ سے جھوٹی شہادت جیسے حرام اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کریں۔ نیز ہر محلے میں وٹر ایڈی بناکے کارندہ دسیاب ہیں وہاں جایئں اپنے نا م کی تصدیق کروایئں اور نہ ہو تواندراج کروالیں۔


 الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

Views: 18  کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں آتی ہے اور کبھی کبھی اخباروں کے صفحات پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بیان دیتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر اتحاد ہونا ہی سرخرو … Read more

0 comments
جدید الحاد اسباب اور سد باب

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

Views: 31 جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی نقشبندی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ ” الحاد” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے انحراف کرنا ، راستے سے ہٹ جانا ،الحاد کو انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے جس کا مطلب … Read more

0 comments
نتیش کمار اور بہار کی سیاست

نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش

Views: 68 نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش بہار میں آج نتیش کمار دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں ایک نئی حکومتی ترتیب کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ این ڈی اے قانون سازیہ … Read more

0 comments
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

Views: 95 مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ (جب جاگو تبھی سویرا) تحریر: جاوید اختر بھارتی javedbhati.blogspot.com آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا … Read more

0 comments
Rahul Gandhi on Vote Adhikar Yatra

راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر

Views: 91 راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر شمس آغاز ایڈیٹر،دی کوریج ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں ہر شہری کو مساوی حقِ رائے دہی حاصل ہے۔ ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ کا اصول اس نظام کی بنیاد ہے، اور یہی اصول ملک کو کثرت … Read more

0 comments

Leave a Comment