چترویدی کا ٹرینڈ

چترویدی کا ٹرینڈ

از:- غلام آسی مونس پورنوی


محترم قارئین
اپنا ملک ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک نمونے مسلمانوں کے مذہبی جلسوں کے اسٹیجوں پر مل ہی جائیں گے
کوئی بغیر پڑھے لکھے مفتی ، کوئی قوال، تو کوئی ڈانسر، تو کوئی کامیڈین، تو کوئی بغیر گیان کے چترویدی، گھومتا ٹہلتا نظر آہی جائے گا،
آج کل تو جلسوں میں چتر ویدی کا ٹرینڈ چلا ہوا ہے،
کوئی بھی جلسہ ہو اس میں کوئی نا کوئی نام نہاد چترویدی آپ کو مل ہی جائے گا، جلسوں کے پوسٹروں میں، ماہر وید و پران کے القاب کے ساتھ کوئی نا کوئی نمونہ آپ کو نظر آہی جائے گا، دوچار منتر یاد کرکے اپنے آپ کو چتر ویدی کہلانے والوں کو یہ نہیں پتہ ہوگا کہ چترویدی کہتے کسے ہیں، اور کن کن محنت و مشقت کے دریاؤں کو عبور کرنے بعد انسان چترویدی بنتا ہے!
تو آئیے سب سے پہلے ہم سمجھتے ہیں کہ چترویدی کسے کہا جاتا ہے؟
ہندو دھرم کی مذہبی کتابوں میں سب سے زیادہ اہم چار کتابیں مانی جاتی ہے، اور وہ چاروں کتابیں یہ ہیں،
(١)رگ وید
(٢)سام وید
(٣)اتھروید
(٤)یجروید
اور عقیدۂ اہل ہنود کے مطابق یہ چاروں کتابیں یش وانی (یعنی خدا کا کلام ہے)
اور ان ویدوں کی تشریحات و توضیحات، تضمینات کو پران کہا جاتا ہے، اور اسکی تعداد اٹھارہ ہیں، اور بعض کا کہنا ہے پرانوں کی تعداد 25 سے زیادہ ہیں، ہندو مذہب میں پرانوں کو عقیدت و تکریم کی نظر سے دیکھا اور سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ ان اٹھارہ پرانوں کو مختلف دیوی دیوتاؤں کا خزانہ مانا جاتا ہے، اور اس کے اندر وہ تمام چیزیں تفصیلات کے موجود ہیں، جن کو، دنیا، نیکی، گناہ ثواب، عذاب، اچھائی، برائی سے تعبیر کرتی ہے، اوراس کے اندر آپ کو موت کے بعد انسان کے جزاء و سزا کا چیپٹر بھی مل جائے، اور کچھ پران کے اندر ابتداء کائنات سےانتہاء کائنات تک کی کتھائیں دستیاب ہوجائے گی،

اور جو ان چاروں ویدوں کے کل اٹھارہ پرانوں کے جملہ رموز و اوقاف کو سمجھتا ہو، اور ان پرانوں اور ویدوں کے عبارات سے مسائل ہندو مت کی تخریج کرتاہو وہ چتر ویدی کہلاتا ہے،

لقب چتر ویدی کی اور زیادہ تفصیل جاننے کے لئے ہم نے بی بی ڈی یونیورسٹی لکھنؤ کے سنسکرت کے سابق پروفیسر، ڈاکٹر آرپی مشرا سے رابطہ کیا،
اور براہ راست پوچھا کہ سر بتایئں آپ نے تو تقریباً 20 سال تک وید و پران پر لکچر دیا ہے، چترویدی کسے کہتے ہیں، اور چترویدی کیسے بنا جاتا ہے، ان کا جواب سن کر میرا ماتھا گھومنے لگا ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی،
وہ کہہ رہے تھے بابوآج کے دور میں چتر ویدی بننا اتنا آسان نہیں، کیونکہ چتر ویدی بننے کے لئے چاروں ویدوں اور ان کے سبھی پرانوں کے رموز و اوقاف کے علاوہ ان کے جملہ جزئیات سے واقف ہونا ضروری ہے، اور جو ان صفات کا جامع ہو اسی کو چترویدی کہا جاتا ہے، اور آج کل چترویدی ہیں کہاں؟ مشکل سے دوچار رہ گئے ہیں، وہ بھی کچھ رشی کیش میں اور کچھ ایودھیا و متھرا میں،

میں اتنا سننے بعد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا پھر سوچنے لگا کہ یار یہ مولوی آٹھ دس سال مدرسہ میں رہ کر کیسے ویدو پران کا ماہر ہوگیا، کیسے وید و پران کے جزئیات سے شناسائی ہوگئی، اور کس ادارے کے کس استاذ نے انہیں سنسکرت میں وید و پران پڑھا لکھا کر وید و پران کا ماہر بناکر چترویدی کے القاب سے ملقب کرنے کے بعد اپنے ادارے سے دستار و سند سے نوازا ہے

یہ تو بالکل ہی مذہبی کتاب ہے اور اس کے اندر تو کفرو شرک کے انبار موجود ہیں، اس کفر شرک کے انبار سے اسلام کے ہیرے کو غیر جوہری کیسے چن کر اٹھائے گا، یقیناً یہ وید و پران کے ذریعے حق و صداقت کا چراغ نہیں جلایا جاسکتا، البتہ گمراہی و بے دینی کے اسباب ضرور اکٹھا کیۓجاسکتے ہیں

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کل کے جلسوں میں جو نام نہاد بنا پڑھے لکھے چترویدی حضرات ویدو پران کے سہارے اسلام اور پیغمبر اسلام کے مقام و عظمت کو ثابت کرکے تبلیع دین کرنا چاہتے ہیں یا ان کی اچھی باتوں سے سبق سیکھنا یا سکھانا چاہتے ہیں، تو یہ ممکن ہے کہ نہیں
تو اچانک ذہن کے پردے پر رسول اعظم کی ایک حدیث جلوہ گر ہوگئی کہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تورات کا ایک نسخہ لے کر تشریف لائے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تورات کا ایک نسخہ ہے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)خاموش ہوگئے ۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے پڑھنا شروع کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چہرے کا رنگ متغیر ہونے لگا۔ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : تمہاری ماں تم کو روئے ، کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا چہرا بدل رہا ہے؟
پھر عمر (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چہرے کی طرف دیکھا اور فرمایا : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے غصے سے ، ہم راضی ہوئے اللہ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر ، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نبی ہونے پر !
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ، اگر آج موسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئیں اور تم لوگ میرے بجائے ان کی اتباع شروع کر دو ، تو سیدھی راہ سے گمراہ ہو جاؤ گے ۔ اور اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو وہ بھی میری ہی اتباع کرتے ۔

سنن الدارمی ، كتاب المقدمة ، باب : ما يتقى من تفسير حديث النبي صلى الله عليه وسلم وقول غيره عند قوله صلى الله عليه وسلم ، حدیث : 436

اس حدیث کو ذرا غور سے پڑھئے اور اس کے مفہوم پر مکرر غور کر کے بتائیے کہ : کیا یہ "تنبیہ” نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے اُن جانثاروں کو نہیں دی جنہیں قرآن السابقون الاولون کا خطاب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ۔ صرف تورات کے چند جملے پڑھنے پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے عزیز از جان صحابہ کو گمراہی کی وعید تک سنا ڈالی تو ہماری آپ کی بات ہی کیا؟

بہت ہی غور فکر کا مقام ہے توریت جو کہ بلا کسی اختلاف کے اللہ کی کتاب ہے، جب اس کا پڑھنا اللہ کے رسول نے پسند نا فرمایا، اور غضب ظاہر فرماتے ہوئے فرمایا کہ اس کتاب کی کیا حقیقت اگر تم میری موجودگی میں موسی کی اتباع کرو تو بھی تم گمراہ رہوگے
تو آپ اندازہ لگائیے کہ
جن کتابوں کا وجود ہی شرک و کفر پر ہو اس سے ہدایت کا چشمہ کیسے جاری ہو سکتا ہے، وہاں شمع ہدایت کیسے روشن ہو سکتی ہے.
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان شرک و وکفر شرک والی کتاب کے منتروں کو پرھ کر مسلمانوں کے اذہان میں ان کتابوں کی عظمت نہیں بٹھائی جارہی ہے، جب توریت جیسی مقدس کتاب سے دین محمدی صلی اللہ کی نشرواشاعت ممکن نہیں تو پھر پران و ودید کے منتروں سے کیونکر دین متین کی نشرواشاعت ممکن ہو سکتی ہے

غور کریں کہ جب کسی مذہبی جلسے میں کوئی نام نہاد چترویدی
وید و پران کی عبارت پڑھتا ہے اور اس سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت بیان کرتا ہے، تو یقیناً سامعین کے ذہن و دماغ میں یہ بات گردش کرتی ہے کہ اہل ہنود کی مذہبی کتابوں میں جب اسلام اور صاحب اسلام کی شان اوران کی عظمت بیان کی گئی ہے، تو پھر مذہب اسلام اور مذہب اہل ہنود دونوں برابر ہی ہونگے یا ہلکا پھلکا فرق واقع ہوسکتا ہے،
اور وہ یہی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یقینا اہل ہنود کی کتابیں کوئی آسمانی کتب و صحائف ہی ہونگی، اور ان کے پیشوا ضرور صاحب نبوت و رسالت ہونگے، تبھی تو ان کے پیشواؤں کے ذریعے ان کی مذہبی کتابوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت بیان کی گئی ہے،،
گویا ایک نام نہاد چتر ویدی نے ایک سیدھے سادھے عام مسلمان کے ذہن میں ہزاروں طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر دئیے، جیسا کہ اہل ہنود کی کتابوں کو آسمانی کتاب ہونے کا شک، ان کے پیشواؤں کے نبی و رسول ہونے کا شک، ان کے دین کے حق ہونے کا شک، وغیرہ وغیرہ، حالانکہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ کہ کسی کتاب کے آسمانی ہونے کے لئے یا کسی کے نبی ہونے کے لئے قرآن و حدیث سے دلیل چاہیۓ، مگر اس غیر پڑھے لکھے شخص کو کیا معلوم کہ، ان مذکورہ معاملات میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ کیا ہے، اور عقیدہ کہتے کس کو ہیں، اب وہ شخص اسلام اور بانی اسلام کے حوالے سے کنفیوژ ہوگیا،
قابل غور بات یہ کہ ہم نے جلسہ کیا تھا مذہب اسلام کی نشرواشاعت کے لئے اور منبر رسول سے خود بخود مذہب اہل ہنود کی نشرواشاعت ہوگئی، جلسہ کیا تھا اسلام کے حوالے سے کنفیوژن دور کرنے کے لئے، اب چترویدی صاحب نے اپنی تقریر سے ایک عام مسلمان کو کنفیوژ کرکے مصائب و آلام میں گرفتار کردیا
خدا نخواستہ اگر کسی مسلمان نے ان ویدوں کو پرانوں کو اللہ کی کتاب مان لیا اور مذہب ہنود کے پیشواؤں کو اپنا پیشوا مان لیا تو اس کے ایمان کا کیا ہوگا،
اس کی ذمہ داری کون اٹھائے گا
لہذا اگر آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وید و پران کے منتروں کے ذریعے دین کی تبلیغ ہوگی تو یہ آپ کی خام خیالی ہے،
اس لیۓ میں گذارش کرتاہوں جملہ مسلمانوں سے کہ وہ اس طرح کے جاہل و جھندوبام چترویدی کو اپنے جلسوں میں بلا کر ایمان و عقیدے کی کھیتی کو ویران نا کریں، اور اپنے اسٹیجوں سے ان کا بائیکاٹ کریں ورنہ اس کا حساب پروردگار کی بارگاہ میں دینا ہوگا،
اور اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر جلسے کرنے ہی ہیں تو اپنے جلسوں کو مختصر بنائیں، علاقائی مدارس کے اساتذہ کو اپنے جلسوں میں مدعو کریں، اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو زمانے کے فتنوں سے محفوظ رکھے آمین____


 الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

Views: 18  کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں آتی ہے اور کبھی کبھی اخباروں کے صفحات پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بیان دیتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر اتحاد ہونا ہی سرخرو … Read more

0 comments
جدید الحاد اسباب اور سد باب

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

Views: 31 جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی نقشبندی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ ” الحاد” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے انحراف کرنا ، راستے سے ہٹ جانا ،الحاد کو انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے جس کا مطلب … Read more

0 comments
نتیش کمار اور بہار کی سیاست

نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش

Views: 68 نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش بہار میں آج نتیش کمار دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں ایک نئی حکومتی ترتیب کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ این ڈی اے قانون سازیہ … Read more

0 comments
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

Views: 95 مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ (جب جاگو تبھی سویرا) تحریر: جاوید اختر بھارتی javedbhati.blogspot.com آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا … Read more

0 comments
Rahul Gandhi on Vote Adhikar Yatra

راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر

Views: 91 راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر شمس آغاز ایڈیٹر،دی کوریج ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں ہر شہری کو مساوی حقِ رائے دہی حاصل ہے۔ ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ کا اصول اس نظام کی بنیاد ہے، اور یہی اصول ملک کو کثرت … Read more

0 comments

Leave a Comment