آؤ ملکر ایسا رواج لائیں کہ جس سے بیٹیاں جیت جائیں!
ہمارے مسلم معاشرے میں بچیوں کی شادی کرنا کسی ایک گھر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مجھ سمیت ہم سب سفید پوش یا مڈل کلاس لوگوں کے گھر زیادہ تر اسی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔
ہمارے مسلم معاشرے میں بچیوں کی شادی کرنا کسی ایک گھر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مجھ سمیت ہم سب سفید پوش یا مڈل کلاس لوگوں کے گھر زیادہ تر اسی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔
جب بات جہیز کی ہو تو ہمارا موقف یہ ہے: "جہیز مانگنا بھی غلط ہے اور پچاس ہزار کی نوکری والا لڑکا تلاش کرنا بھی غلط ہے۔”
اگر سب نوکری والا لڑکا ہی تلاش کریں گے تو باقی لڑکے کنوارے رہیں گے کیا؟
سوشل میڈیا پر ایک عائشہ نامی لڑکی کا ویڈیو کافی تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جسکے پیچھے کی داستان نہایت ہی دلخراش اور المناک ہے، اخباری رپورٹ کے مطابق احمد آباد کی رہنے والی لڑکی عائشہ کا نکاح ء2018 میں ایک عارف نامی لڑکے سے ہوا تھا، نکاح کے بعد سے ہی عائشہ کے سسرالی رشتہ دار بشمول اسکے شوہر مسلسل اسے ٹارچر کرتے ہوئے ہمہ وقت جہیز کے متعلق طعنہ دیا کرتے تھے ،
جہیز جیسی بلا کو بڑھاوا دینے میں سماج پہلے خود ذمہ دار ہے۔پھر اس کے بعد سماج کے ٹھیکیدار۔اب جس جس کے پاس سماجی ٹھیکیداری ہے وہ ذمہ دار ہے۔خواہ وہ مولوی برادری ہو، پیران خانقاہ ہوں یا سیاسی و سماجی رہنمایان۔ان سب کی ذمہ داری تھی کہ سماج کے لیے اچھے حالات پیدا کرتے مگر ان کی رئیس گیری و داماد بنائی کی جہیز لٹاؤ چکی میں تنگ حال غریب پس رہے ہیں۔یہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بالکل ناکام رہے۔