اسلام میں پردہ کی اہمیت
تمام تعریفیں اس واہب العطایا کو زیبا ہے جس نے درختوں کو ہرے بھرے پتوں سے آراستہ کیا اور حضرتِ انسان کو پردۂ عدم سے نکال کر پردۂ رحم میں پرورش دی اور اپنی گوناگوں نعمتوں کے پردہ میں زندگی بخش کر پھر پردۂ خاک میں محجوب کردیا جس سے معلوم ہوا ستار عیوب کی قدرت کے ہر فعل میں پردہ کی رعایت مرکوز ہے چناں چہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
اور اپنے گھروں میں ٹھری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کے تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے_ (سورة احزاب ،آیت : 33 ) کنزالایمان )
مذکورہ آیت میں لفظ "قرن "استعمال ہوا ہے بعض اہل لغت نے اس کو "قرار "سے ماخوذ مانا ہے اور بعض نے "وقار” سے اگر معنئ اول یعنی "قرار ” مراد لے تو مطلب ہو گا "سکون سے رہو ، چین سے بیٹھو” البتہ دونوں صورتوں میں آیت کا منشا یہ ہے کہ عورت کا اصل دائرہ اس کا گھر ہے اس کو اسی دائرے میں رہ کر اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے ہیں اور گھر سے باہر بموقع ضرورت ہی نکلنی چاہیے جیسا کہ خود آیت کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے_
اور احادیث میں پردۂ کی اہمیت اور ضرورت بکثرت موجود ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر بزاز حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ساری فضیلت تو مرد لوٹ لے گئے وہ جہاد کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں بڑے بڑے کام کرتے ہیں ہم کیا عمل کریں کہ ہمیں بھی مجاہدین کے برابر اجر مل سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا:” من قعدۃ منکن فی بیتہا فانھاتدرک عمل المجاھدین” ترجمہ: جو تم سے گھر بیٹھے گی وہ مجاہدین کے عمل کو پائے گی ( حوالہ )
مطلب یہ ہے کہ مجاہد اس وقت خدا کی راہ میں دل جمعی کے ساتھ لڑ سکتا ہے جب اسے اپنے گھر کی طرف سے پورا اطمینان ہو اس کی بیوی اس کے گھر اور بچوں کو سنبھالے بیٹھی ہوں یہ اطمینان جو عورت اسے فراہم کرے گی وہ گھر بیٹھے اس کے جہاد میں برابر کی حصہ دار ہوگی
اور ایک روایت جو بزاز و ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کی ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا :”ان المراة عورة فاذاخرجت استشرفھا الشیطان واقرب ماتکون برحمتہ ربھاوھی فی قعر بیتھا ” ترجمہ : یعنی عورت مستورہ پوشیدہ رہنے کے قابل چیز ہے جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے اور اللہ کے رحمت سے قریب تر وہ اس وقت ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے گھر میں ہوں_
قرآن کریم اور احادیث شریفہ کے اس صاف وصریح حکم کی موجودگی میں اس بات کی آخری کیا گنجائش ہے کہ عورتیں پارلیمنٹوں کی ممبر بنیں ، سرکاری دفتروں میں مردوں کے ساتھ کام کریں ، مردانہ ہسپتالوں میں نرسنگ کی خدمت انجام دیں ، بازار گھومنے میلے دیکھنے جائیں مگر اسی صورت میں جس جس کا شرع نے اجازت دیا ہے _
رب العالمین کا فرمان ہے کہ :”مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرے یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہ کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرے اور اپنا بناؤ نہ دکھائے مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا آپ نے کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہو یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرواے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ "_(سورة نور، آیت : 29 کنزالایمان )
ہر قوم حالات کے رو میں بہہ رہی ہے ہر طرف کشیدگی کا ماحول ہے بلکہ گھر میں سکون نہ باہر چین آخر ایسا کیوں کیا ہم نے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچا ہے اور غور و فکر سے کام لیا ہے!
قارئینِ کرام!
اسلام میں ہر چیز کا حل موجود ہے وہ کون سا مسئلہ ہے جس کا اسلام میں کوئی حل نہیں ہے جوکہ اس کی حقانیت کی واضح دلیل ہے ہمارے معاشرے کی اصلاح کا ایک حل یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنی ذمہ داریوں کو کام سمجھ کر نہیں بلکہ فرض سمجھ کر نبھائے اور اپنا کردار کو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھالیں تو یقین مانیں معاشرے کی تقدیر و تصویر بدل جائے گی اورہمارے لئے سکون قلب اور روح پرور ثابت ہوگا ، حامیانِ بے پردگی کا یہ کہنا کہ عورتیں پردہ کی وجہ سے غلامی کی حالت میں ہیں یہ بالکل غلط اور تاریخِ اسلام سے واقفی کی دلیل ہے ، پردہ نشیں عورتوں نے بڑے بڑے حکمراں ، امام اور اولیاے کرام پیدا کیے اور نیز پردہ تعلیم کا مانع بھی نہیں کیوں کہ اسلامی تعلیم عورتیں اپنے گھروں میں اپنے باپ بھائی خاوند وغیرہ محرموں سے حاصل کرسکتی ہیں اس طور پر کہ باپ کا فرض ہے کہ اپنی بیٹی کو پڑھائے خاوند کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کو پڑھائے معلوم ہوا کہ اگر اسلامی طرزِ اصول سے اپنے اپنے فرائض کو سرانجام دیں تو عورتیں کس طرح جاہل رہ سکتی ہیں! مذکورہ آیاتِ کریمہ اور احادیث شریفہ سے معلوم ہوا کہ پردہ کی ضرورت عصر حاضر کو اشد ضروری ہے اور موجودہ وقت کا تقاضا بھی ہے _
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین
سعید اختر نعیمی
کشن گنج بہار
فاضل جامعہ نعیمیہ مرادآباد
الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !
الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج لائک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مزید پڑھیں:
- Posts not found