حضورتاج الشریعہ اورمحدث کبیرسےمتعلق کچھ یادیں!!

حضورتاج الشریعہ اورمحدث کبیرسےمتعلق کچھ یادیں
ازقلم:محمدصابرالقادری فیضی ایم اے کمہراروی
9934981067
صدررضالاٸبریری کمہرار،شیوہر،بہار

    یہ کوٸ 1998عیسوی کی بات ہےجب راقم السطور(محمدصابرالقادری فیضی)مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمدأبادگوہنہ مٸویوپی میں زیرتعلیم تھاحضورصدرالشریعہ بدرالطریقہ حکیم مفتی امجدعلی اعظمی گھوسی علیہ الرحمہ (مصنف بہارشریعت)کاعرس مبارک پوری جہان سنیت کودعوت نظارہ دےرہاتھامیں بھی مدرسہ کےطالبان علوم نبویہ کےہمراہ گھوسی کےلیۓکروفرکےساتھ روانہ ہوا۔گھوسی پہونچےاوردوست واحباب سےعلیک سلیک کےبعدمزارشریف پرحاضرہوۓاوراعلی حضرت عظیم البرکت،مجدددین وملت الحاج الشاہ امام احمدرضاخان فاضل بریلوی علیہ الرحمة والرضوان کےبتاۓہوۓطریقہ،چارقدم کےفاصلےپرفاتحہ پڑھناشروع کیا،ابھی فاتحہ پڑھ ہی رہےتھےکہ میرےکانوں میں رس گھولتی ہوٸ فضاٶں میں تیرتی ہوٸ یہ أوازأٸ کہ بریلی شریف کے عظیم شہزادہ کی أمدأمدہے،میں نےکہاکون بریلی؟کسی نےکہاوہی بریلی جومرکزاہل سنت وجماعت ہے،وہی بریلی جہاں حجة الاسلام علامہ الحاج الشاہ حامدرضاخان علیہ الرحمہ کامسکن ہے،وہی بریلی جہاں حضورمفتٸ اعظم ہندعلامہ الشاہ مصطفی رضاخان علیہ الرحمہ کادینی عظیم قلعہ ہے،وہی بریلی جہاں علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ کےوارث صاحب تصانیف کثیرہ ماہرعلوم عقلیہ ونقلیہ بحرالعلوم شیخ الاسلام والمسلمین سرکاراعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت الحاج الشاہ امام احمدرضاخان فاضل بریلوی علیہ الرحمة والرضوان کی أخری أرام گاہ ہےانہیں کےشہزاہ کی أمدأمدہےجواپنی نوری کرنیں موقع بموقع دنیاۓسنیت پربکھیرتےرہتےہیں فرط مسرت سےجھوم اٹھاکہ اس نورانی چہرےکی زیارت سےشرفیابی ہوگی۔جب میں اس بھیڑکی طرف بڑھاتودیکھاکہ لاکھوں کامجمع ٹھاٹھیں مارتاہواٹکٹکی باندھے دیکھ رہاہےاتنےمیں مجمع کوچیرتےپھاڑتےہوۓحضورتاج الشریعہ کی گاڑی فلک شگاف نعروں کی جھرمٹ میں رکتےہی اپنےقدوم میمنت لزوم سےجامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مٸویوپی کوفیضیاب کیا۔میں بھی بڑی کوششوں کےساتھ وہاں پہ پہونچاکہ دست بوسی کرسکوں لیکن بھیڑکی وجہ سےیہ ممکن نہ ہوسکاصرف حضرت کےنورانی چہرےکی زیارت ہوٸ،جیسےہی حضرت گاڑی سےباہرنکلےحضورمحدث کبیربڑےپرتپاک اندازمیں ملے۔عشاق ،زیارت،دست بوسی وقدم بوسی کےلیۓبیچین تھےچنانچہ میں نےدیکھاکہ محدث کبیرجسےدنیااستاذالعلما، ممتازالفقہا،سلطان الاساتذہ،علامہ الحاج الشاہ ضیاٶالمصطفیٰ صاحب قبلہ قادری امجدی شہزادہ صدرالشریعہ گھوسی کےنام سےجانتی ہےوہ خانوادہ رضویہ کےچشم وچراغ مفسراعظم ہندعلامہ الشاہ ابراہیم رضاخان علیہ الرحمہ کےنورنظرلخت جگرتاج الشریعہ شیخ الاسلام والمسلمین حضورشیخ اختررضاخان قادری برکاتی ازہری بریلوی نوراللہ مرقدہ کےدست مبارک کوتھامےہوۓنعروں کی گونج میں اسٹیج پرپہونچےعلماۓکرام وشعراۓ اسلام کی نعت ومنقبت اورتقاریرکےبعدحضورشیخ تاج الشریعہ نےدعاٸیہ کلمات اداکیۓاورعالم اسلام کےامن وأشتی کےلیۓرقت أمیزدعافرماٸ۔۔
*ازہری مہمان خانہ میں پروگرام کااہتمام*:سرکاراعلی حضرت امام عشق ومحبت امام احمدرضاخان قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمة والرضوان کےعرس کےموقع پرازہری مہمان خانہ غالباً2004عیسوی علی الصبح بعدنمازفجرقرأن خوانی کااہتمام ہوا،عرس رضوی میں تشریف لاۓمقتدرہستیاں جلوہ افروزتھیں ازہری مہمان خانہ لوگوں سےکھچاکھچ بھراہواتھاپروگرام کاأغازاللہ رب العزت کےمقدس کلام سےہوا،ایک ننھاساطالب علم عمرکوٸ 8/یا9/برس کی رہی ہوگی جبّہ ودستارزیب تن کیۓہوۓماٸک پرتقریرکےلیۓکھڑاہوااس کےلباس سےیہ عیاں ہورہاتھاکہ کہیں اورکانہیں بلکہ وہ جامعة الرّضاکاطالب علم ہےبہت ہی مسجع ومقفع جملوں کےساتھ خطیبانہ لب ولہجےاوردلاٸل وبراہین سےمزین گفتگوکررہاتھاسارےخطباۓعظام وعلماۓکرام حیرت زدہ ۔۔۔۔أنکھیں پھاڑکردیکھتےرہ گیۓ۔۔میرےدل نےبرجستہ کہاکہ یہ سب میرےمرشدکریم حضورتاج الشریعہ کی نگہ نازکی برکت کاثمرہ ہےکہ ایک ننھاسابچہ بڑےبڑےعلماوخطباکےسامنےبےباکی کےساتھ بول رہاہےسبھوں نےاس بچےکودعاٸیں دیں۔
     یکےبعددیگرےعلما،خطباکی تقریریں اورشعراکی نعتیں ہوتی رہیں اخیرمیں سلطان الاساتذہ،ممتاذالفقہاحضورمحدث کبیرعلامہ ضیاٶالمصطفیٰ قادری امجدی مدظلہ العالی ماٸک پررونق افروزہوۓمدلل ومفصل گفتگوکرتےہوۓفرمایاکہ تاج الشریعہ چشم وچراغ خاندان امام احمدرضاخاں ہیں ویسے”عمرکےلحاظ سےتومجھ سےبہت چھوٹےہیں مگرعلم وعمل اورتفقہ فی الدین میں مجھ سےکوسوں دورأگےہیں“وقت کےمحدث اورجلیل القدرفقیہ ،تاج الشریعہ کےعلم وفضل اورتفقہ فی الدین کےخطبےاپنی زبان فیض ترجمان سےدیرہےہوں اس کی بلندی اورعظمت رفتہ کاکیاپوچھنا،ساتھ ہی جنازےمیں کروڑوں کی تعدادمیں علما، فقہا،ادبا،شعرا،اصفیا،اتقیا، اطبا،اساتذہ،طلبہ،سیاسی، سماجی،فلاحی غرضیکہ ہرطرح کےلوگوں کاہجوم اس بات کی غمازہےکہ أپ سبھوں کےمحبوب نظرتھے۔
    *تاج الشریعہ*:پروگرام کی أخری کڑی کی صورت میں حضورتاج الشریعہ بلاتاخیرماٸک پرجلوہ بارہوۓاورحمدوثناکےبعداپنی تقریرپرتنویرشروع کی اوربڑےہی منکسرالمزاجی کےساتھ فرمانےلگےکہ علامہ ضیاٶالمصطفیٰ صاحب قبلہ امجدی مدظلہ العالی نےمیرےتعلق سےجوکچھ بھی فرمایااس کامیں اہل نہیں ہوں أپ سب مل کر”أمین “کہیں تاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کااہل بناۓ۔اپناخطاب نایاب درازفرماتےہوۓارشادفرمایاکہ بہت سےمحبین ،مخلصین،معتقدین، متوسلین،مریدین عزیزی عسجدمیاں کومفتی عسجدرضاکہتےہیں تومفتی بن کردیکھاٸیں اس لیۓ کہ میرےجدکریم سرکاراعلیٰحضرت امام احمدرضاخان قادری برکاتی فاضل بریلوی نوراللہ مرقدہ کوکسی نےخط لکھااس میں بہت سارےالقابات کےساتھ ”حافظ“کالاحقہ بھی تھاتواعلیٰ حضرت کےضمیرنےانہیں للکارااوروہ ایک مہینےکےچندگھنٹوں میں حافظ قرأن ہوگیۓ۔
    میں ”عسجدمیاں “کواپناجانشین مقررکرتاہوں اورسلسلہ رضویہ کی خلافت واجازت بھی سپردکرتاہوں اتناسنناتھاکہ حضورمحدث کبیرخوشی ومسرت سےاچھل پڑے اوراپناعمامہ شریف سرسےاتارکر”عسجدمیاں“کےسر پہ ڈال دییۓاورفرمانےلگےکہ عسجدمیاں اسٹیج پہ جب بھی تشریف لاٸیں توعمامہ پہن کرتشریف لاٸیں اورنعت پاک پڑھنےکی فرماٸش کی توعسجدمیاں نےاپنی سریلی اورمدھورأوازمیں نعت پاک کاحسین گلدستہ سجایاجوازہری میاں سرکارکی کوشش تھی ایسامحسوس ہورہاتھاکہ عسجدمیاں نہیں بلکہ تاج الشریعہ پڑھ رہے ہیں پورےمجمع سےنعرہاۓتکبیرورسالت کی صداٸیں گونجنےلگیں اورمجمع کےسارےلوگ عش عش کرنےلگے۔دعاہےکہ رب قدیرحضورتاج الشریعہ کےروحانی فیوض وبرکات ہم سبھوں پرقاٸم وداٸم فرماۓ اورجانشین تاج الشریعہ پیرطریقت رہبرراہ شریعت علامہ الحاج الشاہ مفتی عسجدرضاخان قادری برکاتی بریلوی قاضی القضاة فی الہندکوعمرخضرعطافرماۓ”أمین“بجاہ النبی الامین ﷺ

Leave a Comment