مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری: دہلی پولیس کا آئین مخالف چہرہ بے نقاب!!

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری: دہلی پولیس کا آئین مخالف چہرہ بے نقاب!!


میں ایک صحافی ہونےکے ناطے دہلی پولیس کے اس قدم کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتاہوں اور یہ مطالبہ کرتاہوں کہ دہلی پولیس جمہوریت کے اقدار کو پامال نہ کرے اور مولانا موصوف اور ن کے ساتھیوں کو فوری رہا کرے۔ بتاتاچلوں کہ مولانا قمر غنی عثمانی تحریک فروغ اسلام کے صدر اور ملی مسائل پر گہری نظررکھنے والے ایک متحرک وفعال شخصیت ہیں۔ گذشتہ دنوں میں اترپردیش کے انتخاب کے مدنظر بی جے پی اور سنگھیوں نے مل کر جس طرح کی طوفان بدتمیزی بپا کررکھی ہے اس سے ہر مسلمان فکر مند اور ڈرا ہوا ہے۔
گزشتہ دنوں جنتر منتر پر آپ نے دیکھا کہ پنکی چودھری نامی گیدڑ نے کس طرح مسلمانوں کو کاٹنے کی بات میڈیا کے سامنے کی اور آئے دن اُس یتی نرسمہانند کی ویڈیوز آپ دیکھتے ہی ر ہتے ہیں جس میں وہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخیاں کرتا رہتا ہے اور اب مسلم لڑکیوں کو بڑے پیمانے پر مرتد بناکر شادی کے جھانسے میں پھانسنے کا عمل بھی زوروں پر ہے، وہیں پچھلے کچھ مہینوں میں ماب لنچنگ کی وارداتوں میں پھر ایک بار بڑی تیزی سے اچھال آیا ہے۔مذکورہ تمام معاملات میں کچھ ایک کو چھوڑ کر نہ تو کسی کی گرفتاری ہوئی ہے اور نہ کسی کے خلاف کوئی کیس تک درج ہوا ہے۔
ان سب مسائل کی طرف حکومت ، عوام بلکہ دنیا کی توجہ دلانے کے لیے مولانا قمر غنی عثمانی نے تحریک فروغ اسلام کے بینر تلے جنتر منتر پر دھرنے کا کال دیا تھا۔متوقع طورپر وہاں پہنچتے ہی ان کو ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ڈی ٹین کرلیاگیا۔
سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں اب پرامن احتجاج کا حق بھی جاتارہا۔ یا کووڈ کا بہانا صرف مسلمانوں کے لیے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیسے گزشتہ دنوں پنکی چودھری جیسے لوگوں کو ہزاروں کی تعداد میں اسی جنتر منتر پر اکٹھا ہونے دیا گیا۔ واضح رہے کہ کوئی چاہے نہ چاہیے لیکن ملک میں ابھی بھی جمہوری نظام ہی ہے۔ زمین پر کتنا ہےنہیں پتہ، لیکن کاغذ پر جمہوریت ہی ہے۔ لہٰذا اپنے ملک کی آئین کی صورت میں ہرکسی کو احتجاج کا حق ہے اور مولانا موصوف نے اپنے اسی حق کا استعمال کیا ہے۔ اگر کچھ بزدلوں کو لگتا ہے کہ مولانا اکیلے سفاکوں کی اتنی بڑی جماعت سے کیسے لڑلیں گے تو سمجھ لینا چاہیے کہ تعداد میٹر نہیں کرتا کمال یہ ہے کہ گھروں میں بیٹھ کر ظلم وناانصافی کا نظارہ دیکھنے سے تو بدرجہا بہتر ہے کہ ایک شخص تن تنہا میدان میں نکلا تو سہی۔کوئی تو ہے جس کا ضمیر قیدوبند کی صعوبتوں کی پرواہ کیے بغیر ظلم وناانصافی کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے تیار ہے۔ویسے بھی ’’جنگ لازم ہوتو لشکر نہیں دیکھے جاتے ‘‘ کے مصداق مولانا قمر غنی نے وہی کیا جو ان کے بیدار ضمیر نے کہا۔
لہٰذا میری تمام اسلامیان ہند سے اپیل ہے کہ مولانا کی گرفتاری کے خلاف ہرپلیٹ فارم سے آواز بلند کریں اور جس طرح بھی ہو ان کی اور ان کے ٹیم کی مدد کو پہنچیں۔اللہ سبحانہ انہیں سلامت رکھے!

احمدرضا صابری
چیف ایڈیٹر الرضا نیٹورک، پٹنہ


الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۱)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

اسد اقبال

اسداقبال صاحب! بات درست بھی ہوتو بھی کہنے والے کا اپنا کردارمعنی رکھتا ہے!

ثناخوانی حبیب علیہ الصلوٰ والسلام جیسے مقدس عمل کو کارپوریٹ سیکٹر میں تبدیل کرکے ایک نفع بخش تجارت کی شکل دینے کا سہرا جس کے سرہو وہ اپنے آپ کو دیندار شاعرخود اپنی زبان سے کہےتو ری ایکشن فطری بات ہے۔

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: