ان شاءاللہ العزیز "مسلم بورڈ نیپال”ملت کے  درد کا مداوا ہوگا!!

ان شاءاللہ العزیز "مسلم بورڈ نیپال”ملت کے  درد کا مداوا ہوگا!!

مؤرخہ 15/اکتوبر 2022ء، بروز ہفتہ،بمقام جامعہ شاہدیہ کوثر اسلام، ملنگوا،سرلاہی (نیپال) "مسلم بورڈ نیپال” کی منعقدہ میٹنگ میں شرکت ہوئی۔ جب میں پہنچا تو ہر طرف علمائے ملت اسلامیہ کے فرخندہ ودرخشندہ چہرے گلستاں میں گل کی مانند نظر آرہے تھے۔آپس میں تبادلۂ خیال، صلاح ومشورے، منصوبہ جات پر غوروخوض کیا جا رہا تھا۔ بہترین نظم و نسق عمل میں لانے کا لائحہ تیار کیا جارہا تھا۔

میٹنگ کا آغاز تلاوت کلام اللہ سے ہوا اور نعت رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاکیزہ اشعار پیش کیے گئے۔تعارفی وقفہ کے بعد "مسلم بورڈ نیپال” کی تنصیب و تقویت، اہمیت وافادیت، غرض وغایت اور مستقبل کے منصوبہ جات پر روشنی ڈالی گئی۔

دانشوران و مدبران قوم وملت نے اہم ترین نکات کی جانب توجہ مبذول کرایا۔ چند باتیں جو محترم رضوان انصاری سابق وزیر داخلہ ملنگوا نے کیں، ان کے متعلق تبصرہ کرنا مناسب ہی نہیں، انسب سمجھتا ہوں۔اگر میں یہ کہوں کہ محترم رضوان انصاری نے ہمارے شہ رگ پر انگشت رکھنے کا کام کیا ہے تو یقیناً یہ بر مبنی حقیقت ہے۔

آج ہم علمائے ملت اسلامیہ فقط آپسی حرص وطمع، متکبرانہ چال و ڈھال، غیر مناسب حرکات وسکنات، عوام اہل سنت کی جانب معمولی رجحانات کے حامل ہیں۔آج ہم اپنی کج روی کے سبب کم نصیبی و محرومی پر جس قدر ماتم کریں، کم ہے۔

جس وقت محترم موصوف نے ہمیں ہمارے متعلق سرکاری سطح پر ہونے والی شورشوں سے آگاہ کیا، ایسا محسوس ہوا کہ ہمارے پاؤں تلے زمین کھسک گئی ہو۔ سر شرم سے خم ہوگیا، قلب مضمحل اور دل غمزدہ ہوگیا، آنکھیں نم دیدہ ہوگئیں،زبان گنگ ہوگئی، قدم لرزیدہ ہوگئے، دل آہ و فغاں کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اس وقت میں اپنی ذات کو کوسنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم علامہ فہامہ، مفتی وقت، قاضی اسلام،مجاہد دوراں کہلانے والے لوگوں کی لیاقت وقابلیت گورنمنٹی سطح پر اس قابل بھی نہیں کہ تعلیم یافتہ کہے جائیں؟ جب ہم کسی سرکاری دفتر میں جائیں تو ہمیں کرسی بھی پیش نہ کی جائے؟جب ہم کسی کے متعلق سفارش کریں تو توجہ نہ دی جائے؟ جب ہم کسی عنوان پر تبادلۂ خیال کرنا چاہیں تو اہمیت ووقعت نہ دی جائے؟ اللہ اکبر کبیرا

واقعتاً ہمیں سرکاری دفاتر میں اپیل (نویدن) لکھنے کا بھی ڈھنگ نہیں، چہ جائیکہ ہم اپنی باتوں کو مکمل اطمینان وایقان کے ساتھ لکھ کر پیش کرسکیں۔ جو نو فارغین ہیں، جن کی عمر کسب معاش کی ہوگئی ہے، ان سے پوچھیں کہ عصری تعلیم کے فقدان کے سبب فراغت کے بعد کن کمپنیوں اور کن گلیوں کے دورے کرنے پڑتے ہیں، کن خاردار شاہراہوں سے گزرنا پڑتا ہے اور کن تکلفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالآخر محدود تعلیم ہونے کے سبب سارے راستے مسدود ہوجاتے ہیں اور انھیں مدرسہ یا مسجد ہی جوائن کرنا پڑتا ہے، پھر بھی وہاں ان کا قیام مستقل ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ اس کا احساس ہمیں لاک ڈاؤن میں پریکٹیکلی ہوگیا ہے کہ ہمارے ساتھ کون سے حادثات وواقعات پیش آئے۔

ہمیں وقت رہتے ہوئے ہوش کے ناخن لینے ہونگے، تعلیمی،تفکیری،تربیتی نظام درست کرنا اولین مقصد ہونا چاہئے ،ورنہ جس خستہ حالت میں ابھی ہم پڑے ہیں، اس سے بھی بدتر وابتر حالت میں پڑے رہیں گے، غیر قوم تو کیا خود ہماری قوم پرسان حال نہ ہوگی۔ہمیں زمین کے اوپر بوجھ محسوس کیا جائے گا، ہرچہار جانب سے کوسے ہی جارہے ہیں،اب وہ وقت دور نہیں کہ ہم ستائے بھی جائیں،ہماری امامت تک سلب کرلی جائیں۔ آج ہماری اقتدا میں پنجوقتہ نمازیں اداکرنے والا مقتدی بھی ہمارا خیر خواہ و ہمنوا نہیں تو اوروں سے کیا امید کی جائے؟

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے مدارس ومکاتب میں عصری تعلیم تو دور دینی تعلیم بھی صحیح طریقے کے ساتھ نہیں دے پار ہے ہیں۔ ہمارے مدارس ومکاتب کا جائزہ لیا جائے تو ۹۰؍فیصد مدارس میں تصحیح مخارج کے ساتھ حروف تہجی کی ادائیگی بھی نہیں سکھائی جاتی ہے تو اعلیٰ تعلیم کی امید کیونکر کی جاسکتی ہے؟ جہاں تعلیم کا فقدان ہے وہیں اس سے بڑھ کر تربیت کی کمی ہے۔

واللہ میں کہتا ہوں کہ اگریہ مدارس ومکاتب اسلام کی جانب منسوب نہ ہوتے تو میں ان پر قفل ڈال کر اراکین ومنتظمین کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کا مشورہ دیتا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!ذریعۂ معاش بنایا ؟ ٹھیک ہے،مگر کس طرز پر بنانا چاہئے؟ میں پوچھتا ہوں کہ اس دنیا کے اندر وہ کون سا شعبہ قائم ہے جسے منفعت کیلئے استعمال نہ کیا جاتا ہو؟ استعمال کرنے کا طریقہ چاہئے۔آج ہم دینی تعلیم جس طرز پر دے رہے ہیں اس سے خود ہم اپنے بچوں کو دور کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمیں تعلیمی نظام درست کرکے ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھنا ہی ہوگا۔

خیال رہے کہ جس مدرسہ یا مکتب کے اندر دینی تعلیم بھی صحیح طور سے نہیں دی جارہی ہے تو ایسا نہیں ہے کہ ان کا ذریعۂ معاش مضبوط ومستحکم ہے۔بلکہ اس کے اراکین ومنتظمین ومدرسین سب سے رذیل حالت میں موجود ہیں، ان کی رات کی نیندیں اڑی رہتی ہیں کہ ہمارا مستقبل کیسا ہوگا؟ وہیں دوسری جانب جہاں حسن تعلیم سے آراستہ وروح تعلیم سے آشنا کیا جاتا ہے ،وہ سب سے خوش وخرم ،فارغ البال وخوشحال ہوکر شاداں وفرحاں اپنے مستقبل کو روشن وتابناک دیکھتے ہیں۔

مذہبی جذبات کی رو میں بہہ کر بہت کچھ لکھنے کا دل کر رہا ہے۔مگر کیا کروں؟
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

وطن عزیز میں مسلمانوں کی تعلیمی، تعمیری،تفکیری،تنظیمی،تنصیبی، سیاسی پسماندگی وزبوں حالی اس قدر ہے کہ ہم سوئم درجہ کے شہری ہوکر بھی کیندر(مرکز) تک اپنے قائدین وعمائدین کو نہ پہنچا سکے۔ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہماری آواز پہنچانے والا کوئی نہیں ۔میں اس وقت اور متعجب ومتحیر ہوگیا کہ ہند کے اندر کام کر رہے اغیار کی متعدد تنظیمیں ہمارے یہاں بھی قائم ہوچکی ہیں۔بلا شبہ اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ عصر حاضر میں ہماری قیادت اس قدر مجبور ومقہور ہے کہ عامۃ الناس ہماری سیاست وقیادت تسلیم کرنے کیلئے حرف انکار زبان پر لاتے ہیں۔

ہمیں اپنے خیالات تبدیل کرنے ہونگے،اپنے جذبات ابھارنے ہونگے، اپنے حوصلوں کو پرواز دینے ہونگے،اپنے احساسات بیدار کرنے ہونگے۔ جب تلک ہم مکمل خود اعتمادی کے ساتھ یکجا منسلک نہ ہوجائیں،ہماری سیاست وقیادت تسلیم نہیں کی جائے گی۔

میرے بزرگ علما وہم عمر ساتھیو!
ہمیں اپنے حقوق کی مانگ کرنے کیلئے کوئی معتبر پلیٹ فارم نہیں تھا کہ مانگ کر سکیں، مطالبات تسلیم کرانے کیلئے تنظیم نہیں تھی کہ اس کے بینر تلے ہم آواز اٹھا سکیں، حکومت تک اپنی آواز پہنچانے کیلئے کوئی مضبوط ذریعہ نہیں تھا کہ ہم اپنی آواز پہنچا سکیں۔ جب بھی ہم نے بغیر کسی ذرائع کے اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے صدالگائی ،وہ صدائے باز گشت ہوگئی۔

مگر اب اللہ رب العزت جل مجدہ والکرم نے ہمارے اوپر احسان عظیم وکرم عمیم فرمایا کہ اپنے محبوب کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے صدقے طفیل معتمد ومستند ذریعہ’’مسلم بورڈ نیپال‘‘ کی شکل میں عطا فرمایا۔وقت رہتے مضبوط ومستحکم لائحۂ عمل تیار کرکے مکمل اتحاد واتفاق کے ساتھ اپنے حوصلوں کو پرواز دینا ہے۔
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
توشاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

امید ہے کہ یہ تحریر ’’مسلم بورڈ نیپال‘‘ کی تنصیب وتقویت میں ممد ومعاون ثابت ہوگی، ارباب حل وعقد کیلئے امید وبیم کی کرن نمودار کرکے شرف قبولیت حاصل کرے گی اور ان شاء اللہ العزیز "مسلم بورڈ نیپال” ہمارے درد کا مداوا بن کر ابھرے گا۔ وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔
فقط والسلام مع الاکرام

طالب خیر:
محمد امجد رضاامجدی کھٹونوی
امجدی کمپیوٹر،مرغیاچک،سیتامڑھی(بہار)
رابطہ:8986026210


الرضا نیٹ ورک کو  دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا ٹوڈے (نیوز نیٹ ورک)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔

الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

بنکر

بنکروں کی حقیقت اور بنکروں کی صنعت!! 

یوں تو بھارت میں بہت سی صنعتیں ہیں مگر کپڑا صنعت کی بات ہی کچھ اور ہے اور اسے ہر حال میں فروغ دینے کی ضرورت ہے واضح رہے کہ پہلے کپڑے کی بنائی کرنے والے کو بنکر کہاجاتا تھا اور اب بھی کہاجاتاہے مگر پہلے کی بنسبت اب کافی فرق آچکا  ہے کل تک کپڑے کی تنائی بنائی سے وابستہ ایک مخصوص برادری تھی جسے انصاری برادری کے نام سے جانا جاتا تھا اور جانا جاتا ہے جسے کچھ شخصیات نے لعن و طعن کا شکار بھی بنایا اور اتنا ہی نہیں بلکہ تقریر و تحریر اور لغت کے ذریعے اس برادری کی دلآزاری بھی کی گئی آج بھلے ہی اسے تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: