✨ علماء کی خود کفالت
(قرآن، حدیث، سیرتِ صحابہ، ائمہ و سلف صالحین کی روشنی میں)
تحریر: غلام ربانی شرف نظامی، اٹالہ، الہ آباد
✨ انبیائے کرام اور کسبِ حلال
اسلام صرف روحانی عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں کی فلاح کے اصول سکھاتا ہے۔
اسی لیے اسلام میں کسبِ حلال (محنت سے روزی کمانا) کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے خود بھی پیشے اپنائے اور ان کے ذریعے خود کفالت کو عام فرمایا۔
مثالیں:
حضرت آدمؑ: کھیتی باڑی
حضرت ادریسؑ: درزی کا کام
حضرت نوحؑ، زکریاؑ: بڑھئی
حضرت موسیٰؑ: چرواہی
حضرت داؤدؑ: زرہ سازی
رسول اللہ ﷺ: بکریاں چرانا، تجارت
سبق:
رزقِ حلال = عزت
محنت = عبادت
خود کفالت = سنتِ انبیاء
📖 خود کفالت: قرآن مجید کی روشنی میں
1. اعتدال کا حکم
"وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً…”
(سورہ بنی اسرائیل: 29)
🔸 نہ بخیلی کرو، نہ اسراف – بلکہ میانہ روی اور خود کفالت اپناؤ۔
2. سائل نہیں، معطی بنو
"وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ…”
(الذاریات: 19)
🔸 لینے والا نہیں، دینے والا بنو۔
3. عملی زندگی
"فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ…”
(سورہ جمعہ: 10)
🔸 مسجد سے نکل کر دنیاوی محنت اور کمائی کی ترغیب دی گئی۔
📜 حدیث اور سیرتِ صحابہ کی روشنی میں
1. اوپر والا ہاتھ بہتر
"الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ…” (بخاری، مسلم)
🔸 خود کفیل شخص ہی صاحبِ عزت ہے۔
2. سوال کی مذمت
"مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ…” (صحیح مسلم: 1040)
🔸 سوال قیامت کے دن رسوائی کا سبب۔
3. محنت کی کمائی افضل
"مَا أَكَلَ أَحَدٌ…” (بخاری: 2072)
🔸 حضرت داؤدؑ کی سنت — ہاتھ کی کمائی۔
4. دین میں سہولت
"كَانَ أَحَبَّ الدِّينِ…” (مسند احمد)
🔸 دین کا اصل مزاج – آسانی، محنت، توازن۔
5. سوال گویا آگ
"مَنْ سَأَلَ النَّاسَ…” (مسلم: 1041)
🔸 سوال کرنا = آگ کے انگارے جمع کرنا
👑 صحابہ کرام کی خود کفالت
حضرت ابوبکر صدیقؓ
خلیفہ بننے کے باوجود بازار جانا
بیت المال سے وظیفہ بعد میں مقرر ہوا
(الکامل، ابن اثیر)
حضرت عمر بن خطابؓ
"آسمان سے نہ سونا برستا ہے نہ چاندی”
🔸 دعا کے ساتھ عملی محنت بھی لازم
(کنز العمال: 9210)
📚 اقوالِ ائمہ و سلف صالحین
امام ابو حنیفہؒ
"علم بیچنے کا قائل نہیں”
🔸 کپڑے کے تاجر تھے، علم = مقصد
امام مالکؒ
"لکڑی بیچ کر علم حاصل کیا”
(الانتقاء)
امام احمد بن حنبلؒ
"علماء کو حکام سے دور رہنا چاہیے”
(الآداب الشرعیہ)
امام شافعیؒ
"علماء دنیا کے طالب بنیں تو دین اندھیرا ہو جاتا ہے”
(ذم علماء السوء)
امام سفیان ثوریؒ
"کپڑا بیچتا اور علم حاصل کرتا”
(سیر اعلام النبلاء)
امام غزالیؒ
"حلال روزی کمانا فرض ہے”
"علم کو پیشہ بنانے سے برکت جاتی ہے”
(احیاء العلوم)
✅ اختتامی رہنمائی
🔸 علماء کرام کو خود کفالت، ہنر، محنت اور وقار کو اپنانا چاہیے۔
🔸 دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانا علم کی عظمت کے خلاف ہے۔
🔸 علماء، صرف زبانی معلم نہیں بلکہ امت کے عملی نمونہ ہوں۔
⚠️ آج کا المیہ
کچھ علماء نے سرمایہ داروں پر ایسا انحصار کر لیا ہے کہ:
معمولی دنیاوی فائدے کے لیے دینی اصول قربان کر رہے ہیں
دین کی تاثیر ماند پڑ رہی ہے
علم کا وقار مجروح ہو رہا ہے
📌 آخری بات
عزت، برکت اور وقار – خود داری اور غیر محتاجی میں ہے، سوال اور چاپلوسی میں نہیں۔
ترتیب واشاعت: الرضا نیٹ ورک

