خواجہ غریب نواز کی مومنانہ بصیرت
عطائے رسول سلطان الہند ‘غریب نواز’حضرت خو ا جہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمۃاللہ علیہ ماہ ذِی الحجہ 583ھ۔1187ء مکہ مکرمہ کی حاضری کے بعد مدینہ طیبہ اپنے محبوب ﷺ کی بار گاہ میں پہنچتے ہیں وہاں رسول کریم ﷺ نے
عطائے رسول سلطان الہند ‘غریب نواز’حضرت خو ا جہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمۃاللہ علیہ ماہ ذِی الحجہ 583ھ۔1187ء مکہ مکرمہ کی حاضری کے بعد مدینہ طیبہ اپنے محبوب ﷺ کی بار گاہ میں پہنچتے ہیں وہاں رسول کریم ﷺ نے
خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کا فریضہ نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دیا، آپ کے صدق و صفا، حسن کردار اور حسن اخلاق کو دیکھ کر لوگ صداقت شعار اور پاکیزہ اخلاق کے حامل ہو گئے-
جہاں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں اتر پردیش میں سب سے زیادہ سرگرمی ہے کیونکہ اترپردیش میں سب سے زیادہ اسمبلی کے حلقے ہیں یعنی ہر صوبے سے زیادہ سیٹ ہے اترپردیش میں جس کا قدم جم گیا تو اس کی دھاگ مرکزی حکومت پر بھی رہتی ہے اسی لئے اترپردیش میں سبھی
کل رات تقریباً ساڑھے دس بجے محبِ گرامی قدر مولانا ریحان رضا انجم مصباحی صاحب قبلہ کے توسط سے معلوم ہوا کہ اتری بہار کے ایک متبحرِ عالمِ دین، پوکھریرہ شریف کے بلند پایہ فاصل و مفتی، خلیفۂ مفتیِ اعظمِ ہن
انسان ہر چیز جسے وہ دیکھتا یا سنتا ہے اس سے متاثر ہوتا ہے، خصوصاً خالی دماغ زیادہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر مظہر کے اثر کا بغور مطالعہ کیا جائے اور اسلامی و غیر اسلامی ذہنیت پیدا کرنے والے مظاہر کے درمیان تمیز پیدا کرکے اسلامی ذہنیت پیدا کرنے والے مظاہر کی بقا و ترقی کا اہتمام کیا جائے
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دن انتہائ اہمیت کے حامل ہیں، ایک 15/اگست جس میں ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا، دوسرا 26/جنوری جس میں ملک جمہوری ہوا یعنی اپنےملک میں اپنے لوگوں پر اپنا قانون لاگو اور نافذ ہوا
جمہوری حکومت کا مطلب ہے ، ملک کی اکثریت کی راے اور ترجیح پر کام کرنے والی حکومت ، جسے سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے مختصر لفظوں میں یوں بیان کیا ہے:
26/جنوری یومِ جمہوریہ کے طور پر ہرسال منا یا جاتاہے،کیونکہ اسی روز مرتب کردہ آئین اسمبلی کے ذریعہ نافذ العمل کیا گیا تھا-اس دن کاپس منظر یہ بھی ہے کہ 1930 میں لاہور کے مقام پر دریائے راوی کے کنارے انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے اجلاس میں جس کی صدارت جواھر لال نہرو نے کی تھی، ڈومنین
بلاشبہ وطن عزیز [ہندوستان] کی تاریخ میں دو دن بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں, ایک 15اگست [یوم آزادی]جس دن ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزادہوا, دوسرا 26جنوری[جسے یوم جمہوریہ یا ری پبلک ڈے Republic Day یا گن تنتر دِوس کہا جاتا ہے] جس دن ملک جمہوری ہوا, یعنی اپنےملک میں اپنےلوگوں پراپناقانون لاگو ہوا-
پولیس نے محمد الطاف کو گرفتار کیا۔ الزام تھا، وہ ایک لڑکی کو لے کر فرار ہو رہا تھا۔ دوسرے دن بھلے چنگے نو جوان کی لاش ملی۔ اسے حراست میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے صفائی پیش کی، ملزم نے ٹوائلیٹ کی دو فٹ اونچی ٹونٹی سے لٹک کر خود کشی کر لی ہے؛ شاملی ضلع ، اتر پردیش کے محمد صلاح الدین کو یوپی پولیس نے 1995ء میں چار کارتوس رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا،