وشنو گپتا جیسے بدبختوں سے کب پاک ہوگا ہمارا ملک
ایک زمانہ تھا جب ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کا سات سمندر پار تک چرچا تھا۔ دوسرے ملک کے باشندے بھارت کی اس تہذیب کی مثالیں پیش کرتے تھے؛ آبادی کے ایک طرف جہاں ہندوؤں کے مندر ہوتے تھے تو وہیں بغل
ایک زمانہ تھا جب ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کا سات سمندر پار تک چرچا تھا۔ دوسرے ملک کے باشندے بھارت کی اس تہذیب کی مثالیں پیش کرتے تھے؛ آبادی کے ایک طرف جہاں ہندوؤں کے مندر ہوتے تھے تو وہیں بغل
میں مولوی آدمی جس کی دوڑ بس مسجد اور مدرسہ تک ہی ہونی چاہیئے اسے کیا معلوم کون ہے لتامنگیشکر اور کون ہے شاہ رخ خان؟ لیکن کیا ہے کہ میں مولوی تھوڑا فارورڈ قسم کا ہوں۔ اخبار کے کسی تراشے یا سوشل میڈیا کے کسی کونے میں کسی کا نام
بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں ملک کے ہر باشندے کو بولنے، کھانے، پینے، رہنے، سہنے، پہننے، اوڑھنے، اور اپنے پسندیدہ مذہب پر عمل پیرا ہونے کا مکمل اختیار ہے۔ اور یہی چیز بھارت کو دیگر تمام ممالک سے ممتاز کرتی ہے کہ ایک ہی ملک کے ایک صوبہ،
عطائے رسول سلطان الہند ‘غریب نواز’حضرت خو ا جہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمۃاللہ علیہ ماہ ذِی الحجہ 583ھ۔1187ء مکہ مکرمہ کی حاضری کے بعد مدینہ طیبہ اپنے محبوب ﷺ کی بار گاہ میں پہنچتے ہیں وہاں رسول کریم ﷺ نے
خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کا فریضہ نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دیا، آپ کے صدق و صفا، حسن کردار اور حسن اخلاق کو دیکھ کر لوگ صداقت شعار اور پاکیزہ اخلاق کے حامل ہو گئے-
جہاں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں اتر پردیش میں سب سے زیادہ سرگرمی ہے کیونکہ اترپردیش میں سب سے زیادہ اسمبلی کے حلقے ہیں یعنی ہر صوبے سے زیادہ سیٹ ہے اترپردیش میں جس کا قدم جم گیا تو اس کی دھاگ مرکزی حکومت پر بھی رہتی ہے اسی لئے اترپردیش میں سبھی
کل رات تقریباً ساڑھے دس بجے محبِ گرامی قدر مولانا ریحان رضا انجم مصباحی صاحب قبلہ کے توسط سے معلوم ہوا کہ اتری بہار کے ایک متبحرِ عالمِ دین، پوکھریرہ شریف کے بلند پایہ فاصل و مفتی، خلیفۂ مفتیِ اعظمِ ہن
انسان ہر چیز جسے وہ دیکھتا یا سنتا ہے اس سے متاثر ہوتا ہے، خصوصاً خالی دماغ زیادہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر مظہر کے اثر کا بغور مطالعہ کیا جائے اور اسلامی و غیر اسلامی ذہنیت پیدا کرنے والے مظاہر کے درمیان تمیز پیدا کرکے اسلامی ذہنیت پیدا کرنے والے مظاہر کی بقا و ترقی کا اہتمام کیا جائے
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دن انتہائ اہمیت کے حامل ہیں، ایک 15/اگست جس میں ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا، دوسرا 26/جنوری جس میں ملک جمہوری ہوا یعنی اپنےملک میں اپنے لوگوں پر اپنا قانون لاگو اور نافذ ہوا
جمہوری حکومت کا مطلب ہے ، ملک کی اکثریت کی راے اور ترجیح پر کام کرنے والی حکومت ، جسے سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے مختصر لفظوں میں یوں بیان کیا ہے: