حضور شیرنیپال کا سوانحی خاکہ
مفتی اعظم نیپال،خلیفۂ حضور سید العلما واحسن العلما،شیرنیپال حضرت علامہ ومولانا حافظ وقاری الحاج الشاہ مفتی جیش محمد قادری برکاتی علیہ الرحمہ سابق قاضئ القضاۃ نیپال وشیخ الحدیث وصدر المدرسین جامعہ حنفیہ غوثیہ،جنک پور دھام
مفتی اعظم نیپال،خلیفۂ حضور سید العلما واحسن العلما،شیرنیپال حضرت علامہ ومولانا حافظ وقاری الحاج الشاہ مفتی جیش محمد قادری برکاتی علیہ الرحمہ سابق قاضئ القضاۃ نیپال وشیخ الحدیث وصدر المدرسین جامعہ حنفیہ غوثیہ،جنک پور دھام
آخر کار ماہرین کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ Facebook سماج میں منافرت پھیلانے کا ارتکاب کرتا آیا ہے، فیس بک نے تنازعات میں جانب داری سے کام لیتے ہوئے ، جہاں بھی موقع ملا ہے، اکثر معاملات میں ”اسلام دشمنی“ کا مظاہرہ کیا ہے۔
مرکزی ادارۂ شرعیہ کے صدرورکن قانون ساز کونسل حکومت بہار مولانا غلام رسول بلیاوی نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے اطلاع دی ہے کہ تریپورہ کے بدتر حالات کی خبر، تباہ مساجد، لٹی ہوئی دُکانیںاور جلے ہوئے گھروں کی تصویریں سوشل میڈیا کے ذریعہ پہنچ رہی ہیں وہ نہایت ہی غم ناک ہیں۔
سفر مالوہ (12 تا 15 اکتوبر) کے درمیان سات ربیع الاول کو شہر مندسور میں خطاب کرنا تھا۔سورج اپنی کرنوں کو سمیٹ کر دوسری دنیا کو روشن کرنے کے لیے رخت سفر باندھ رہا تھا اور میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔
تعلیمی ادارہ کی سب سے پہلی اور اولین ذمہ داری طلباء کی علمی، ذہنی اور فکری استعداد کو بڑھانا اور خوب پروان چڑھانا ہے۔ ایک طالب علم کی سب سے اولین ذمہ داری علمی میدان میں ترقی کا حصول ہے۔
جب تاریخ وفات ۱۲؍ربیع الاول ہے تو اس تاریخ میں جشن کس طرح منایاجارہاہے ۔وفات پر یا ولادت پر ؟اس تاریخ میں سانحہ ارتحال امت کے لئے بڑاسانحہ ہے، اس سے بڑھ کر کوئی حادثہ نہیں ہوسکتااور حادثہ کے موقع پر جشن منانا ایک سچے محب رسول کے شایان شان نہیں ہے۔
ہر سال جب ماہ ربیع الاول شریف آتا ہے تو عالم اسلام میں خوشیوں کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اہل ایمان طرح طرح سے جشن ولادت نبوی کا اہتمام کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ خاص طور سے بارہ ربیع الاول کو جو سرکار دوعالم ﷺ کی تاریخ آمد وولادت ہے بڑے دھوم دھام سے مناتے ہیں۔
آج پوری دنیا حقوق انسانیت کے ڈھنڈورے پیٹ رہی ہے اور اس میدان میں ہر مذہب والے اپنےآپ کو سب سے زیادہ حقوق انسانیت کا علمبردار بتا رہے ہیں۔لیکن سچائی یہ ہے کہ اس دنیا میں محسن انسانیت بلکہ محسن کائنات ﷺ حضور کی ذات مقدسہ ہے۔اسی لیے فقہاے کرام نے فرمایا کہ آپ کی ذات والا صفات کو فقط محسن ِانسانیت بتانا نا انصافی ہے ۔
خوراک کا عالمی دن غریبوں سے بھونڈا مذاق ،دنیا میں ہرسال 80 کروڑ سے زیادہ افراد بھوکے پیٹ رہنے پر مجبور ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو خوراک پیدا کرنے اور زرعی صنعت سے وابستہ ہیں۔
کچھ جبہ و دستار والوں نے اس تحریک سے حسد کا مرض اس لئے بھی پال رکھا ہے کہ ان کی سوچ میں یہ جہلا اور ان پڑھ لوگوں کی تنظیم ہے، اب اپنی قابلیت اور بڑکپن کے زعم میں ان پڑھ لوگوں کے کارناموں کا اعتراف کرے میں سبکی محسوس کرتے ہیں۔