ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار!

ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار!

سرفراز احمد قاسمی، حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

آج ملک میں ہر طرف بے چینی اور مایوسی ہے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت ایک مضبوط، مستحکم اور خود کفیل معیشت ہوتی ہے۔ معاشی استحکام کے ذریعے ہی قومی ترقی، سیاسی خودمختاری، سماجی خوش حالی اور عالمی وقار کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جس قوم کی معیشت مضبوط ہوتی ہے، وہ اپنے فیصلے آزادی اور خود اعتمادی کے ساتھ کرسکتی ہے۔ 

ترقی یافتہ ممالک مسلسل نئی ٹیکنالوجی، صنعت، تجارت، تحقیق اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ دوسری جانب ترقی پذیر ممالک کے سامنے بے روزگاری، مہنگائی، غربت، قرضوں اور آمدنی میں عدم مساوات جیسے سنگین مسائل موجود ہیں۔ ان حالات میں صرف معاشی ترقی کے بڑے بڑے دعوے کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ ترقی کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔

مضبوط معیشت کی بنیاد کیا ہے؟

مضبوط معیشت کا پہلا ستون، پیداواری صلاحیت ہے۔ جو ملک زیادہ پیدا کرتا ہے، بہتر مصنوعات تیار کرتا ہے اور عالمی منڈی میں اپنی جگہ بناتا ہے، وہی معاشی طور پر زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔

ایک ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہوتی ہے، لیکن اگر یہی نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم رہیں تو یہ طاقت قومی مسئلہ بن سکتی ہے۔ اس لیے ایسی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے جو صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کے بجائے نوجوانوں کو ہنر، ٹیکنالوجی، تحقیق اور عملی میدان کے لیے تیار کرے۔

اسی طرح مہنگائی عام شہری کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ جب ضروری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں اور آمدنی اس رفتار سے نہ بڑھے تو متوسط اور غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے۔

مضبوط معیشت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ملکی خزانے کے اعداد و شمار بہتر دکھائی دیں، بلکہ اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ وہاں کے ایک عام آدمی کو مناسب روزگار، بہتر تعلیم، علاج اور باعزت زندگی کے مواقع میسر ہوں۔

بدعنوانی، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز معاشی ترقی کے راستے کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اگر ترقی کا فائدہ صرف مخصوص طبقوں تک محدود رہے اور عام شہری مہنگائی و بے روزگاری کے بوجھ تلے دبتا رہے تو ایسی ترقی کو معاشی کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں معاشرے کے کمزور طبقات بھی شریک ہوں۔

کاغذی معیشت اور زمینی معیشت

اصل معیشت یہ ہے کہ گھر کا چولہا کتنی آسانی سے جل رہا ہے، بچوں کی تعلیم کا خرچ کہاں سے پورا ہوگا؟ علاج کے لیے کتنی رقم درکار ہے؟ بجلی، ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بعد ماہانہ آمدنی میں کیا باقی بچتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں کاغذی معیشت اور زمینی معیشت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔

بھارت میں ان دنوں ایک طرف معاشی ترقی کے دعوے ہیں اور دوسری طرف مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید کو مسلسل کمزور کررہی ہے۔ آمدنی کی رفتار اگر اخراجات کی رفتار سے پیچھے رہ جائے تو ترقی کے تمام دعوے عام شہری کے لیے بے معنی ہوجاتے ہیں۔

مزدور، کسان، متوسط طبقہ اور چھوٹے چھوٹے تاجرین وہ طبقے ہیں جو معیشت کے اصل بوجھ کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس بڑھتی ہوئی قیمتوں کو برداشت کرنے کے لیے نہ بڑے ذخائر ہوتے ہیں اور نہ ہی آمدنی کے متعدد ذرائع۔

ہمارے معاشی نظام کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ دولت کی گردش محدود ہوتی جارہی ہے۔ سرمایہ چند ہاتھوں میں سمٹتا جارہا ہے جبکہ ایک بڑی آبادی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم، معاشی ترقی کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔

بے روزگاری اور نوجوانوں کا مستقبل

بڑھتی بے روزگاری معیشت کا وہ زخم ہے جسے محض اعداد و شمار سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگر مناسب روزگار سے محروم رہے تو اس کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان اور بالآخر پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔

بے روزگاری معاشی مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی بے چینی، مایوسی اور مستقبل کے عدمِ تحفظ کا بھی سبب بنتی ہے۔

معیشت کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم چھوٹے کاروبار، کسان، مزدور، نوجوان اور متوسط طبقے کی حالت کا جائزہ لیں۔ ایک صحت مند معیشت وہی ہوتی ہے جس میں ترقی کا فائدہ معاشرے کے نچلے طبقوں تک پہنچے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں، چھوٹے کاروبار محفوظ ہوں اور بنیادی ضروریات عام شہری کی پہنچ سے باہر نہ ہوں۔

حکومت سے عوام کے اہم سوالات

جمہوری نظام میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت سے سوال کرے کہ اگر معیشت ترقی کررہی ہے تو ہماری زندگی کیوں مشکل ہورہی ہے؟ اگر ملک آگے بڑھ رہا ہے تو نوجوانوں کے مستقبل میں بے یقینی کیوں ہے؟ نوجوان طبقہ مایوسی کا شکار کیوں ہے؟ اگر سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے تو چھوٹے کاروبار کیوں دباؤ میں ہیں؟ اور اگر ترقی کے ثمرات موجود ہیں تو عام آدمی پریشان کیوں ہے؟ اس ترقی کے ثمرات ان تک کب پہنچیں گے؟

معیشت کی اصل تصویر ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں تیار ہونے والی رپورٹوں سے زیادہ بازاروں، کھیتوں، کارخانوں اور متوسط طبقے کے گھروں میں نظرآتی ہے۔

حکومتوں اور پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کا معیارِ زندگی ہے۔ جب تک عام آدمی کو مہنگائی سے حقیقی راحت، نوجوانوں کو باعزت روزگار، کسانوں کو مناسب قیمت، مزدوروں کو محفوظ اجرت اور متوسط طبقے کو معاشی استحکام حاصل نہیں ہوتا، اس وقت تک ترقی کے بلند بانگ دعوؤں اور معیشت کی زمینی حقیقت کے درمیان ایک بڑا خلا باقی رہے گا۔

کیونکہ معیشت کی اصل حقیقت یہ نہیں کہ ملک کے خزانے میں کتنا اضافہ ہوا؟ بلکہ یہ دیکھنا اہم ہے کہ عام آدمی کے گھر میں زندگی کتنی آسان ہوئی؟

شکر کی قیمتوں میں اچانک اضافہ

شکر سمیت روزمرہ کی قیمتوں میں ماہ اگست کے دوران اچانک زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ صرف 17 دن میں شکر کی قیمت تقریباً 19 روپے فی کلو تک بڑھ گئی۔ تھوک بازار میں قیمت 44 روپے سے بڑھ کر تقریباً 65 روپے اور کئی جگہ خوردہ قیمت 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

تاجروں کے مطابق کم اسٹاک، تہواروں سے پہلے بڑھتی مانگ اور بازار میں ذخیرہ کیے جانے کو قیمت بڑھنے کی بڑی وجوہات میں شمار کیا جارہا ہے۔ اتر پردیش کے کچھ بازاروں میں تاجروں نے ایجنٹوں کی جانب سے مسلسل زیادہ نرخ پر شکر فروخت کیے جانے کی بھی بات کہی ہے۔

قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گھریلو بجٹ پر نہیں پڑرہا بلکہ چائے، مٹھائی اور دیگر کھانے پینے کی کئی اشیا بھی مہنگی ہونے لگی ہے۔ فی الحال قیمتوں میں تیزی برقرار ہے۔

مہنگائی کے دوران وزیروں کے سرکاری بنگلوں پر کروڑوں کا خرچ

عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں لیکن وزیروں کے سرکاری بنگلوں کی مرمت پر 10 سال میں خرچ 3 گنا بڑھ گیا، ایک سال میں 92 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

نئی دہلی کے لُٹینس زون میں مرکزی وزیروں کے سرکاری بنگلوں کی مرمت، دیکھ بھال، تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن پر ہونے والے اخراجات میں گزشتہ برسوں کے دوران بڑا اضافہ ہوا ہے۔

آر ٹی آئی سے حاصل معلومات کے مطابق 2014-15 میں ان کاموں پر 27.47 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے، جبکہ 2025-26 میں یہ رقم بڑھ کر 92.35 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ یعنی سالانہ خرچ تین گنا سے بھی زیادہ ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق 2014-15 سے 2025-26 تک 12 برس میں مجموعی طور پر 547.68 کروڑ روپے مرکزی وزیروں کی سرکاری رہائش گاہوں کی مرمت اور دیکھ بھال پر خرچ کیے گئے۔

یہ کام مرکزی تعمیرات عامہ محکمہ (CPWD) کے ذریعے کرائے جاتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2019-20 میں خرچ 26.37 کروڑ روپے تھا، جو 2020-21 میں بڑھ کر 53.87 کروڑ، 2022-23 میں 73.86 کروڑ اور 2025-26 میں 92.35 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر بنگلے 80 سے 100 سال پرانے ہیں، جہاں سیلن، دیمک، پرانے بجلی کے نظام، پائپ لائن اور دیگر مرمت کے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے دیکھ بھال کا خرچ بڑھنے کی ایک وجہ عمارتوں کی پرانی ساخت اور بڑھتی ہوئی تعمیراتی لاگت کو بتایا گیا ہے۔

لیکن اس انکشاف کے بعد سیاسی حلقوں میں سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ جب عام لوگ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سے پریشان ہیں تو وزیروں کے سرکاری بنگلوں کی مرمت اور تزئین و آرائش پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت اور اس کی نگرانی کا نظام کیا ہے؟ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے کو لے کر حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔

ماہرینِ معیشت کے انتباہ اور بھارتی معیشت

ایک ایسے وقت میں جب حکمران بی جے پی ملک میں سیاسی طور پر انتہائی مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے اور مسلسل انتخابی فتوحات نے وزیراعظم مودی کے عوامی امیج کو مزید مستحکم کیا ہے، وہیں ملک کی معیشت کے حوالے سے ایک بالکل مختلف اور تشویش ناک تصویر سامنے آرہی ہے۔

ہندوستان کے تین ایسے نامور معاشی اور سیاسی ماہرین، جن کا تعلق نہ تو کانگریس سمیت کسی سیاسی پارٹی سے ہے اور نہ ہی وہ بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ ہیں، جنہوں نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور مستقبل کی سمت کے بارے میں غیرمعمولی اور شدید انتباہ جاری کیے ہیں۔

ان تینوں ماہرین کے مشترکہ بیانات نے اس وقت پورے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس کا مرکزی نقطہ نظر یہ ہے کہ بی جے پی انتخابات تو جیت رہی ہے لیکن ملک معیشت کے محاذ پر پچھڑتا جارہا ہے۔

ملک کی معیشت پر یہ سنگین سوالات اٹھانے والی شخصیات عالمی سطح پر انتہائی معتبر مانی جاتی ہیں اور ماضی میں سرکاری پالیسیوں اور اہم اداروں کے ساتھ قریبی طور پر منسلک رہی ہیں۔

ان میں پہلا نام اروند سبرامنیم کا ہے، جو 2014 سے 2018 تک مودی حکومت کے چیف اکنامک ایڈوائزر رہ چکے ہیں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت پیٹرسن انسٹیٹیوٹ جیسے عالمی اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

دوسری اہم شخصیت سرجیت بھلا کی ہے، جو مارکیٹ اصلاحات کے کٹر حامی مانے جاتے ہیں اور جنہیں خود مودی حکومت نے (آئی ایم ایف) میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر نامزد کرکے بھیجا تھا۔

تیسری اہم شخصیت اور ماہر معاشیات سنجے بارو ہیں، جو سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر اور مشہور کتاب ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ کے مصنف ہیں، جن کی تحریروں کا حوالہ ماضی میں بی جے پی کے حامی اکثر منموہن سنگھ اور نریندر مودی کی قیادت کا موازنہ کرنے کے لیے دیتے رہے ہیں۔

اب یہی تینوں معتبر آواز، ہندوستانی معیشت کے اندرونی نظام پر سنگین سوالات اٹھارہے ہیں اور مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کررہے ہیں۔

کیا یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ ملک کی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے سنجیدگی سے غوروفکر کیا جائے؟

بھارت کے غیرملکی قرض میں اضافہ

ادھر ملک پر قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ بھارت کے غیرملکی قرض میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک ملک کا مجموعی بیرونی قرض 762.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 26.3 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ موجودہ شرحِ مبادلہ کے حساب سے میڈیا رپورٹس میں اسے تقریباً 72 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ بتایا جارہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا غیرملکی قرض اور جی ڈی پی کا تناسب بڑھ کر 20.8 فیصد ہوگیا ہے، جبکہ ایک سال پہلے یہ 19.8 فیصد تھا۔ یعنی ملک کی معیشت کے حجم کے مقابلے بیرونی قرض کا بوجھ بڑھا ہے۔

رپورٹ میں ایک اور اہم بات سامنے آئی ہے کہ ایک سال یا اس سے کم مدت میں ادا کیے جانے والے قلیل مدتی غیرملکی قرض کا حصہ بڑھ کر 19.6 فیصد ہوگیا، جو گزشتہ سال 18.3 فیصد تھا۔ غیرملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے مقابلے قلیل مدتی قرض کا تناسب بھی 20.1 فیصد سے بڑھ کر 21.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

بینکوں کی جانب سے قرض معافی

ایک دوسری رپورٹ کے مطابق پچھلے 12 سال میں ملک بھر کے بینکوں نے مجموعی طور پر 9 لاکھ 95 ہزار کروڑ کے قرضوں کو معاف کیا ہے اور اب شہریوں کو قرض دینے سے انکار کردیا ہے۔ بینکوں نے کہا ہے کہ اب ہمارے لیے قرض دینا ممکن نہیں ہے۔

کارپوریٹ کمپنیوں اور گھرانوں کے قرض معافی کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے پارلیمنٹ کو اس بات سے واقف کروایا کہ پچھلے 12 سال کے دوران مجموعی طور پر 9 لاکھ 95 ہزار کروڑ کا قرض معاف کیا گیا ہے۔

سال 2018/19 کے دوران بینکوں نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 48 ہزار 753 کروڑ کے قرض معاف کیے ہیں، جبکہ سب سے کم قرض مالی سال 2025/26 کے دوران معاف کیے گئے، جو مجموعی طور پر 20 ہزار 485 کروڑ کے ہیں۔

مرکزی مملکتی وزیر فائنانس مسٹر پنکج چودھری نے اپنے تحریری جواب میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا کا ڈیٹا پیش کیا اور کہا کہ بھاری صنعتی اداروں اور خدمات کو مالی سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 63 لاکھ 19 ہزار 57 کروڑ کے قرض دیے گئے، جو کہ سال 2026 کے دوران بڑھ کر 69 لاکھ 21 ہزار 734 کروڑ تک پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے فراہم کی گئی تمام تفصیلات اپنے جواب میں پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے اقدامات اور ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کی مالی حالت میں آنے والی بہتری کی تفصیلات پیش کی اور دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور جی ڈی پی میں بہتری ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔

مضبوط معیشت ہی مضبوط قوم کی ضمانت

اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرضوں کے سہارے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ کوئی قوم طویل عرصے تک مضبوط نہیں رہ سکتی۔

مضبوط قوم کے لیے مضبوط معیشت ضروری ہے اور مضبوط معیشت کے لیے دیانت دار قیادت، واضح پالیسی، محنتی عوام، جدید تعلیم اور منصفانہ نظام ناگزیر ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم معاشی مسائل کو محض سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے قومی ترجیح قرار دیں۔ کیونکہ جب معیشت مضبوط ہوگی، تب ہی ملک مضبوط ہوگا، عوام خوش حال ہوں گے اور قوم دنیا کے سامنے زیادہ وقار اور خود اعتمادی کے ساتھ کھڑی ہوسکے گی۔

مضبوط معیشت ہی مضبوط، خود کفیل اور باوقار قوم کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

ملک کی اصل طاقت اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ عام شہری کی زندگی کتنی آسان، محفوظ اور باوقار ہے؟ بازاروں میں رونق ہو مگر عوام کی جیب خالی ہو، معیشت کی ترقی کے بڑے دعوے ہوں مگر نوجوان روزگار کے لیے دربدر پھررہے ہوں، اگر سرمایہ دار مزید مضبوط اور غریب مزید کمزور ہوتا جارہا ہو تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر یہ ترقی کس کے لیے ہے؟ اور ایسی ترقی کا کیا مطلب ہے؟

ملک کی معیشت ان دنوں سنگین بحران کا شکار ہے، لوگ کاروبار برباد ہوگیا، کمر ٹوٹ گئی، پھر اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ یہ کون سوچے گا؟

ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار

 

(مضمون نگار معروف صحافی، کالم نویس اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)

شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک

 

Leave a Comment