رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ایک عہد ساز شخصیت
✒️ شمس الزماں خان صابری
تاریخِ ملت میں کبھی کبھی ایسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں جو صرف اپنے زمانے کی رہنمائی نہیں کرتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی چراغِ راہ بن جاتی ہیں ان کے افکار وقت کی گرد سے ماند نہیں پڑتے ان کی تحریریں دلوں کو گرما دیتی ہیں ان کی آواز خاموش ہو جاتی ہے مگر ان کا پیغام صدیوں تک گونجتا رہتا ہے ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیت کا نام رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ہے ـــــ
وہ محض ایک عالم نہیں تھے بلکہ ایک تحریک تھے ، وہ صرف مصنف نہیں تھے بلکہ قلم کی زبان سے انقلاب برپا کرنے والے مردِ درویش تھے ، ان کے لفظوں میں دلیل کی قوت ، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرارت ، اہلِ سنت کی غیرت اور ملت کے درد کی تڑپ یکجا نظر آتی ہے ــ
۵ مارچ ۱۹۲۵ء کو اتر پردیش کے ضلع بلیا کے سیدپورہ گاؤں میں پیدا ہونے والے اس مردِ حق نے ابتدائی تعلیم کے بعد جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں حافظِ ملت حضرت علامہ عبدالعزیز محدث مبارکپوری علیہ الرحمہ کی آغوشِ تربیت میں علمی کمالات حاصل کیے اور ۱۹۴۴ء میں سندِ فضیلت سے سرفراز ہوئے فراغت کے بعد ناگپور اور پھر ۱۹۵۲ء میں جمشیدپور کو اپنی علمی تدریسی اور دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ـــــ
جمشیدپور کی سرزمین نے ایک ایسے معلم کو دیکھا جس کی درسگاہ سے صرف علماء نہیں نکلے بلکہ مبلغین ، خطباء ، مصنفین اور قائدین کی ایک پوری نسل پروان چڑھی ہزاروں تشنگانِ علم نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور ان کے فیض سے دنیا کے مختلف گوشوں میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دی ـــــ
لیکن اگر ان کی شخصیت کا سب سے درخشاں پہلو تلاش کیا جائے تو وہ ان کا قلم ہے یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے انہیں "رئیس القلم” کا خطاب دیا ان کا قلم خاموش نہیں رہتا تھا جب بھی باطل نے سر اٹھایا انہوں نے دلیل کے تیر برسائے جب بھی اہلِ سنت پر فکری یلغار ہوئی انہوں نے کتابوں کے ذریعے علمی محاذ قائم کیا ان کی تحریریں صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایمان کی حرارت ، فکر کی گہرائی اور اسلوب کی دلکشی کا حسین امتزاج ہیں۔
"زلزلہ” "زیروزبر” "لالہ زار” "نقشِ کربلا” اور دیگر متعدد تصانیف آج بھی علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ان کی نثر میں ادب کی لطافت بھی ہے ، تحقیق کی گہرائی بھی ہے اور دعوت کی مٹھاس بھی ـــ
رئیس القلم صرف مصنف نہیں تھے بلکہ عظیم ادارہ ساز بھی تھے انہوں نے مدرسہ فیض العلوم جمشیدپور ، جامعہ نظام الدین اولیاء دہلی اور ادارے شریعہ پٹنہ کو ایک ایسے علمی مرکز میں تبدیل کیا جس کے فیض یافتگان دنیا کے مختلف ممالک میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اس کے علاوہ ملک اور بیرونِ ملک متعدد مدارس ، جامعات ، مساجد اور دعوتی اداروں کے قیام میں ان کا بنیادی کردار رہا جن میں ورلڈ اسلامک مشن لندن ، جامعہ مدینۃ الاسلام ہالینڈ اور دیگر ادارے شامل ہیں ــــ
ان کی زندگی کا ایک نمایاں وصف بے لوثی تھا انہوں نے قوم کے لیے ادارے کھڑے کیے ، مساجد تعمیر کرائیں ، مدارس آباد کیے ، مگر اپنے لیے دنیاوی آسائشوں کا انبار جمع نہ کیا یہی اخلاص انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے ــــ
۲۹ اپریل ۲۰۰۲ء کو یہ آفتابِ علم غروب ہوگیا مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں وہ اپنی کتابوں ، اپنے شاگردوں ، اپنے اداروں اور اپنے افکار میں زندہ رہتے ہیں جمشیدپور کی فضائیں آج بھی ان کی یاد سے معطر ہیں اور ان کے قائم کردہ علمی مراکز ان کی بصیرت کی زندہ علامت ہیں ـــــ
رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کا نام تاریخِ اہلِ سنت میں ہمیشہ اس مردِ مجاہد کے طور پر زندہ رہے گا جس نے قلم کو تلوار بنایا ، علم کو دعوت بنایا اور دعوت کو ایک عالمگیر تحریک میں بدل دیا
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک
