ڈھونگی باباؤں کی بڑھتی تعداد یقیناً امت کے لئے باعث تشویش(قسط دوم)
جب کوئی شخص پریشان ہوتا ہے تو اسے دنیا نظر نہیں آتی، پھر وہ مفت میں ملنے والے مشورے کے جال میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کیا جائے کس مشورے پر عمل کرے
جب کوئی شخص پریشان ہوتا ہے تو اسے دنیا نظر نہیں آتی، پھر وہ مفت میں ملنے والے مشورے کے جال میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کیا جائے کس مشورے پر عمل کرے
آپ نے ہالینڈ میں گاہے بگاے امام احمد رضا قدس سرہ کی حیات و شخصیت اور ان کے مختلف دینی ،تجدیدی،اصلاحی،روحانی ،علمی اور ادبی کارناموں سے تقاریر کے ذریعے وگوں کو روشناش کرایا
بے حیائی اور بے پردگی آج کل بہت عام ہے اس کے سد باب کے لیے ذیل میں بہت اختصار کے ساتھ حیااور پردے سے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند احادیث ِ مبارکہ پیش کی جاتی ہیں
رانچی: ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانامحمد قطب الدین رضوی نے کہاہے کہ مورخہ 8/ ستمبر 2021 بروز بدھ مطابق 29 محرم الحرام 1443 ہجری کو رانچی کے علاوہ دھنباد، کوڈرما، چندوا، سمڈیگا، دمکا، بڑھروا،
ڈھونگی باباؤں کی بڑھتی تعدادامت کے لئے باعث تشویش! (=:قسط وار =:)__ (پہلی قسط) آج جدھر بھی دیکھئے آپ کو ادھر ڈھونگی باباؤں کی جماعت قوم کو لوٹنے کا کام بے دھڑک کرتی ہوئی مل جائیں گی، جس شخص کے پاس کوئی کام نہیں یا جو شخص کسی کام کا نہیں،،تو اس کے لئے ایک … Read more
جب سید زادے اس کے قائل ہی نہیں ہیں تو کیسے مخالفت ہوئی، یہ تو ادنی تأمل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ اور یہ آپ کی تحریر بھی بتا رہی ہے کہ کسی سید زادے نے نہیں بلکہ ان کے کسی عقیدت مند نے کہا ہے۔
1۔استاذ کو کبھی بھی اپنا موازنہ دنیا کے مالدار لوگوں کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے ،اور نہ ہی مال کی کمی کی شکایت ،تنخواہوں کی کمی کا رونا چاہیے ،اسلئے کہ وہ چنیدہ فرد ہے اور صاحب توفیق فردہے،
مضمون کا ہڈینگ تو اس قدر دل چسپ ہے کہ اولِ نظر میں نہ چاہ کر بھی مضمون پڑھنے کا دل کرنے لگتا ہے۔ مضمون میں جناب بھارتی صاحب نے خوب الفاظ کے پیراہن میں سید زادوں کو کھری کھوٹی سنائی ہے
مدھوبنی (نامہ نگار) خطیب عرب و عجم حافظ احادیث کثیرہ حضرت علامہ الحاج محمد حسین صدیقی ابوالحقانی علیہ الرحمۃ کا پہلا سالانہ عرس پاک 2 ستمبر 2021 کو انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا
مشائخ کرام کی بارگاہوں میں حاضری بے شمار بر کات وسعادات کے حصول کا ذریعہ ہے ، اس لیے کہ اللہ کے نیک بندے جہاں ہو تے ہیں وہاں رب کی نعمتوں اور رحمتوں کا نزول ہو تا ہے ،ایسی جگہیں دلوں میں خیر کا جذبہ پیدا کرتی ہیں ،