قربانی کی کھالیں خراب ہونے سے کیسے بچائی جاسکتی ہیں!

قربانی کی کھال

عید الاضحیٰ کے موقع پر بالخصوص مدارس اسلامیہ کے لیے اور بالعموم چمڑہ تاجروں کے لیے جون جولائی کے مہینے میں چمڑے کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ کئی دفعہ سیکڑوں کلو نمک پاشی کے اور کئی دنوں کی محنت شاقہ کے بعد بھی کھال پوری طرح محفوظ نہیں رہ پاتی جس کے سبب ان کی مناسب قیمت منڈیوں میں نہیں مل پاتی جبکہ ویسے بھی اس وقت عالمی منڈی میں چمڑوں کی قیمت کا حال بد سے بدتر ہے۔

تجارت کی برکت اور اس کے کثیر منافع

تجارت

یہی کیا کم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تجارت فرمائی، اور بکثرت صحابہ، تابعین، اور ائمہ وعلما کا تجارت کرنا، تواتر سے ثابت ہے؛جب کہ ملازمت کی فضیلت کے بارے میں کوئی ضعیف حدیث پیش کرنا بھی مشکل امر ہے۔

*قربانی اور اس کے مسائل*

قربانی

قربانی ہر آزاد،مقیم،صاحبِ نصاب مسلمان مرد و عورت پر ہر سال اپنی طرف سے قربانی واجب ہے اگر نہیں کرے گا تو گناہ گار ہوگا(بہارِ شریعت،ج:3،حصہ:15،ص:332)قربانی ہر شخص پر واجب نہیں بلکہ اس کے لیے شریعت نے ایک خاص نصاب مقرر کیا ہے

اگر نیا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ آپ کے لیے ہے!!

روزگار

آپ امام ہیں ، خطیب ہیں ، یا مؤذن و مدرس ؛ آپ کا کوئی نہ کوئی کاروبار ضرور ہونا چاہیے تاکہ فکر معاش سے آزاد ہوکر دینی فریضہ ادا کرسکیں ۔
ویسے بھی آج کے دور میں کاروبار کے بغیر پرسکون زندگی گزارنا ، اور حرام سےبچتے ہوئے اپنی ضرورتیں پوری کرنا بہت مشکل ہے ۔

اب رواجی جلسوں کی ہرگزضرورت نہیں!!

روایتی جلسے

ہمارا سیمانچل تقریباً آزادی کے بعد ہی سے غربت و افلاس کی زبردست مار برداشت کررہا ہے، سیمانچل کے ہر سو آدمیوں میں سے تقریباً 85 آدمی مزدوری کرکے اپنی زندگی گذربسر کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ابھی تک سیمانچل کی تعلیمی شرح سچرکمیٹی اور رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 30 سے 45 فیصد ہی ہے

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ(قسط دوم)

مسلم سیاست

مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم پارٹی کے دروازے شروع ہی میں بند کر دیے گیے تھے لیکن جنوبی ہند میں آل انڈیا مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں جما لی تھیں۔بعد میں متحدہ آندھرا پردیش میں اسدالدین اویسی کے دادا عبدالواحد اویسی صاحب نے مجلس اتحاد المسلمین کو از سر نو زندہ کیا۔