تجارت کی برکت اور اس کے کثیر منافع
یہی کیا کم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تجارت فرمائی، اور بکثرت صحابہ، تابعین، اور ائمہ وعلما کا تجارت کرنا، تواتر سے ثابت ہے؛جب کہ ملازمت کی فضیلت کے بارے میں کوئی ضعیف حدیث پیش کرنا بھی مشکل امر ہے۔
یہی کیا کم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تجارت فرمائی، اور بکثرت صحابہ، تابعین، اور ائمہ وعلما کا تجارت کرنا، تواتر سے ثابت ہے؛جب کہ ملازمت کی فضیلت کے بارے میں کوئی ضعیف حدیث پیش کرنا بھی مشکل امر ہے۔
قربانی ہر آزاد،مقیم،صاحبِ نصاب مسلمان مرد و عورت پر ہر سال اپنی طرف سے قربانی واجب ہے اگر نہیں کرے گا تو گناہ گار ہوگا(بہارِ شریعت،ج:3،حصہ:15،ص:332)قربانی ہر شخص پر واجب نہیں بلکہ اس کے لیے شریعت نے ایک خاص نصاب مقرر کیا ہے
آپ امام ہیں ، خطیب ہیں ، یا مؤذن و مدرس ؛ آپ کا کوئی نہ کوئی کاروبار ضرور ہونا چاہیے تاکہ فکر معاش سے آزاد ہوکر دینی فریضہ ادا کرسکیں ۔
ویسے بھی آج کے دور میں کاروبار کے بغیر پرسکون زندگی گزارنا ، اور حرام سےبچتے ہوئے اپنی ضرورتیں پوری کرنا بہت مشکل ہے ۔
ہمارا سیمانچل تقریباً آزادی کے بعد ہی سے غربت و افلاس کی زبردست مار برداشت کررہا ہے، سیمانچل کے ہر سو آدمیوں میں سے تقریباً 85 آدمی مزدوری کرکے اپنی زندگی گذربسر کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ابھی تک سیمانچل کی تعلیمی شرح سچرکمیٹی اور رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 30 سے 45 فیصد ہی ہے
سیاست طاقت، دباؤ اور موقع کا کھیل ہے، جس کے پاس سیاسی طاقت ہوتی ہے وقت پڑنے پر اس کا سیاسی حریف بھی شراکت کو مجبور ہوتا ہے۔اس کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے،
مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم پارٹی کے دروازے شروع ہی میں بند کر دیے گیے تھے لیکن جنوبی ہند میں آل انڈیا مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں جما لی تھیں۔بعد میں متحدہ آندھرا پردیش میں اسدالدین اویسی کے دادا عبدالواحد اویسی صاحب نے مجلس اتحاد المسلمین کو از سر نو زندہ کیا۔
حج ایک عظیم عبادت ہے۔اللہ کی عبادتِ عظمیٰ ہے جس میں بے پناہ اسرار و فضائل ہیں۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے ۔ ۹ ھ میں فرض ہوا اس سے قبل مستحب تھا۔ اسکی فرضیت قطعی ہے۔
مخصوص جانور کو مخصوص ایام میں اللہ تبارک و تعالیٰ کاقُرب حاصل کرنے کے لئے ذَبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی سنّت
قربانی اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔اسی لئے اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے،بارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے سورت المائدہ میں حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے
آزاد بھارت کا پہلا انتخاب 1952 میں مکمل ہوا تھا۔اس الیکشن نے ملک کی اکثریت کی سوچ اور ان کے مزاج کی جھلک دکھا دی تھی، لیڈران ملک کی بدلتی ہوا کو بھانپ چکے تھے اس لیے کانگریس کی زبردست مقبولیت کے باوجود مذہب اور ذات پر مبنی پارٹیوں نے بھی قسمت آزمائی کی اور کامیابی پائی۔