کیا ہم سچ میں آزاد ہیں؟ (قسط نمبر١)
ہندوستان 15 اگست 1947ء/ کو انگریزوں کی غلامی کے چنگل سے آزادہوا، اس آزادی کے حصول کی خاطر معاشرے کے سبھی طبقوں نے اپنا اہم کردار پوری ایمانداری، زمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ اداکیا،
ہندوستان 15 اگست 1947ء/ کو انگریزوں کی غلامی کے چنگل سے آزادہوا، اس آزادی کے حصول کی خاطر معاشرے کے سبھی طبقوں نے اپنا اہم کردار پوری ایمانداری، زمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ اداکیا،
اتر پردیس میں آبادی کنٹرول کرنے کی پالیسی کا اعلان ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا کا منصوبہ ہے، بڑھتی آبا دی ترقی میں رکاوٹ کا واویلا کرنے والے خدائی نظام ِقانون کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ ہر ذی روح کو زندہ رہنے کا حق ہے چاہے وہ کوئی بھی جنس ہو،
یوں تو ہر صحابی رسول کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے کسی ایک کی بھی سیرت کو اپنانا راہ نجات ہے مگر ہاں اصحابِ کرام میں بھی بعض کی شان اہم ترین ہے انہیں شان والوں میں حضرت عمر فاروق اعظم کی بھی نرالی شان ہے آپ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مرید بھی ہیں
مسلمان بھارت میں تقریباً آٹھ سو سال حاکم رہے لیکن غیر مسلموں کو کبھی مسلمانوں سے ڈر نہیں لگا، وہ نہایت چین وسکون کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتے رہے، حتی کہ آگرہ ودہلی جیسے مرکزی شہروں میں بھی غیر مسلم رعایا اکثریت میں رہی
مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک مکمل دستور حیات عطا کیا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر زندگی گزارنے والا مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب و کامران اور دنیا و آخرت کی سعادتوں کا حقدار ہوتا ہے- اسلامی نظام زندگی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے ہر گوشے اور انسانوں کے ہر طبقے کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں-
مسلسل کوششوں کے بعد آخر بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت کو دو سال قبل 2019 میں طلاق ثلاثہ بل پاس کرانے میں کامیابی حاصل ہوہی گئی اور تین طلاق کے خلاف قانون بن گیا اس کے بعد کئی سوال پیدا ہوگئے حکومت کی منشا کیا ہے، حکومت کو مسلم خواتین کی اتنی فکر کیوں ہوئی،
اخذِ فیض کے بعد آپ منزل بہ منزل ہوتے ہوئے دہلی آئے، پھر عازمِ بہار ہوئے، جہاں حضرت مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃاللہ علیہ کاجنازہ پڑھایا،پھر بنگال کی راہ لی۔ اس زمانے میں پنڈوہ بنگال میں حضرت ’’علاؤالدین‘‘ عبدالحق لاہوری کے علم و عرفان کا بڑا چرچا تھا، جن کی فیض رساں بارگاہ سے علاقۂ بنگال اسلامی تعلیمات سے جگمگا رہاتھا،
اسلام ہی رب کائنات کا سچا دین ہے جو اپنی حقیقی شکل میں آج بھی موجود ہے اور قیامت تک باقی رہے گا اور اسکے قوانین واصول اسی خالق و مالک کی طرف سے ہے جس نے انسان اور تمام کائنات کو پیدا فرمایا،
عید الاضحیٰ کے موقع پر بالخصوص مدارس اسلامیہ کے لیے اور بالعموم چمڑہ تاجروں کے لیے جون جولائی کے مہینے میں چمڑے کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ کئی دفعہ سیکڑوں کلو نمک پاشی کے اور کئی دنوں کی محنت شاقہ کے بعد بھی کھال پوری طرح محفوظ نہیں رہ پاتی جس کے سبب ان کی مناسب قیمت منڈیوں میں نہیں مل پاتی جبکہ ویسے بھی اس وقت عالمی منڈی میں چمڑوں کی قیمت کا حال بد سے بدتر ہے۔
یہی کیا کم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تجارت فرمائی، اور بکثرت صحابہ، تابعین، اور ائمہ وعلما کا تجارت کرنا، تواتر سے ثابت ہے؛جب کہ ملازمت کی فضیلت کے بارے میں کوئی ضعیف حدیث پیش کرنا بھی مشکل امر ہے۔