انٹر نیٹ کے اس انقلابی دور میں روزگار کے کچھ اہم مواقع!!
آج کل آئے دن بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔لوگ ملازمتوں سے نکالے جارہے ہیں،چلتے کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں ،ان حالات میں لوگوں کا دھیان
آج کل آئے دن بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔لوگ ملازمتوں سے نکالے جارہے ہیں،چلتے کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں ،ان حالات میں لوگوں کا دھیان
ڈاکٹرس کو سماج میں ایک مسیحا کے طور پر مانا جاتا ہے اور اس وبائ دورمیں ڈاکٹرس نے جو کردار ادا کیے وہ قابل تعریف ہے ،جنہوں نے اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے لاکھوں لوگوں کی زندگی کو اجرنے سے بچایا اور ایک نئ زندگی عطا کی۔
ڈاکٹروں کے پاس و اسپتالوں میں لوگ اپنے علاج کے لیے جاتے ہیں افسوس! آج وہیں پر مریضوںکے ساتھ غیر انسانی اور انتہائی تکلیف دہ سلوک کیا جارہا ہے یہاں تک کہ اسپتالوں میں مریض کے داخل ہونے پر لوگوں کے دماغ میں مریض کے مرنے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے یہ عام سوچ ہے اور سچ بھی ہے ۔
یہ یاد ركھيے دنیا میں سب سے زیادہ اموات كولیسٹرول بڑھنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک سے ہوتی ہیں،آپ خود اپنے ہی گھر میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہوں گے جن کا وزن اور كولیسٹرول بڑھا ہوا ھے،امریکہ کی بڑی بڑی كمپنياں دنیا میں دل کے مریضوں کو اربوں کی دوا(heart patients)فروخت کر رہی ہیں۔
بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ اگلے ورلڈ ٹی ٹونٹی کو ہندوستان کے بجائے متحدہ عرب امارات اور عمان میں منعقد کرنے جا رہا ہے۔ اب آئی سی سی نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کی سب سے بڑی باڈی نے بتایا کہ ٹورنامنٹ 17 اکتوبر سے شروع ہوگا۔ فائنل میچ 14 نومبر کو کھیلا جائے گا۔
آج ہمارہ معاشرہ انگنت برائیوں کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے، ظاہری اور باطنی برائیوں میں ہمارا سماج غرق نظر آتا ہے، جب سماج کے احوال پہ نظریں جمتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ برائیوں کی آماج گاہ بنا ہوا ہ
ابلاغ و ترسیل انسانی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان اور قلم کی دولت سے اس لیے نوازا ہے کہ وہ اپنی چند روزہ زندگانی میں ابلاغ و ترسیل جیسی فطری ضرورت کی تکمیل کر سکے ۔ ذرائعِ ابلاغ کے سارے انواع و اقسام انسان کے انہیں فطری تقاضوں کی دین ہیں ۔
رب کائنات نے انسانوں کو اشرف المخلوقات کا بنایا، دیکھنے کیلئے آنکھیں عنایت کیں، پکڑنے کے لئے اور دوسروں کو سہارا دینے کے لیے ہاتھ عطا فرمایا، چلنے کیلئے پاؤں بخشا، سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ لینے کے لئے دل اور دماغ بھی دیا جب انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا اور جب وہ دنیا میں آیا تو اس کی مٹھی بند تھی یعنی جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند ہی رہتی ہیں
انسانی جان کا تحفظ دنیا کے تمام ممالک میں انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے۔ہمارے وطن میں بھی انسانی جان کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاکہ سماج دشمن عناصر کی تخریب کاریوں س
بت چاہے خارج میں پتھر کا ہو یا ذہنی سوچ کا، دونوں برے ہی ہوتے ہیں۔ایسے سارے بتوں پر خدائی عدل و حکومت کا بلڈوزر چلا کر محض دین و شرع کی حاکمیت بحال کرنا داعی کا اولیں کام ہے۔ہمارے اندر چھپے یا چھپاۓ ان سارے بتوں کو "جاء الحق و زھق الباطل” سناتے ہوۓ کعبۂ قلب و نظر سے باہر پھینکنا ہوگا جو ناصرف خدا کی وحدانیت کے ر