حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ: احوال و ارشادات!

سلطان الہند، محبت اور انسانیت کے علمبردار حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات پاک سے خصوصاً ہندوستان میں ایک ایسی شمع روشن ہوئی جو ان کی وفات کے صدیوں بعد بھی رواں دواں ہے اور اپنی پرنور روشنی سے دنیا کو منور کر رہی ہے ۔ بارہویں صدی میں جو غریب نواز اپنے چالیس ساتھیوں اور چند سروسامان خاک نشینوں کے ساتھ اجمیر شریف تشریف لائے تو صداقت کے ایسے چراغ روشن کیے جو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی پوری آب و تاب کے ساتھ فروزاں ہے۔

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز کی دینی و دعوتی خدمات

الحمد للہ رب اللعالمین !تمام خوبیاں اللہ رب العزت کو جو مالک و پالنہار ہے سارے جہان والوں کا اور لاکھوں، کروڑوں احسان ہے بے شمار نعمتیں عطا فرمانے والے رب کریم کا کہ ایمان جیسی اعلیٰ نعمت سے بھی مالامال فرمایا اور ایمان کی جان محبت رسول اللہ ﷺ سے بھی سرفراز فرمایا۔ چونکہ یہ نعمت سب کو نہیں ملتی، اللہ جسے چاہتاہے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔

ماہنامہ جام میر :علم و ادب کے ایک نئے عہد کا آغاز

سواد اعظم اہل سنت و جماعت کےلیے یہ خبر انتہائی مبارک و مسعود ہے کہ خانقاہ واحدیہ طیبیہ بلگرام شریف کے شعبہ نشر و اشاعت سے ماہنامہ جام میر کا اجرا عمل میں آیا ہے۔یہ ماہنامہ سلسلہ چشتیہ کے عظیم المرتبت بزرگ عارف باللہ جامع شریعت و طریقت مصنف سبع سنابل حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام نامی اسم گرامی سے منسوب ہے اس رسالہ کے سرپرست اعلی پیر طریقت

مسلم تھنک ٹینکس:اہمیت اور تقاضے(2)

Muslim-think-Tanks

تھنک ٹینک کو جدید و سہل ترین مثالوں سے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ کرکٹ میں ایک گیند باز بطور کھلاڑی صرف بالنگ پہ توجہ دیتا ہے۔مگر بلے باز کو کیسے آؤٹ کرنا ہے،کب آؤٹ کرنا ہے،گیم کیسے اپنے پالے میں رکھنا ہے۔کب کونسی گیند ڈالنی ہے یہ سوچنا تھنک ٹینک کا کام ہے۔یہ ٹینک باریکی سے بلے بازوں کی کمزوری کا مطالعہ کرتا ہے پھر بالر کو اسی گیند کی پریکٹس کرواتا ہے۔اور رزلٹ %90 موافق آتا ہے۔جس ٹیم کا تھنک ٹینک جتنا موثر ہوتا ہے اس کی کامیابی کے چانسیز بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

بھارت میں مسلمانوں کی خستہ حالی اور اسکا تدارک

بھارت کا مسلمان

ویسے تو آزادی ہند کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی زبوں حالی کی داستان کافی طویل ہے، لیکن یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ ہندوستان کی جمہوری تاریخ میں اس سے خراب حالات شاید انگریزوں کے دور میں بھی پیدا نہیں ہوئے تھے جو حالات بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پیدا ہوئے،ہندوستان کے آئین میں دفعہ 25 سے 28 تک تمام شہریوں کو مذہبی آزادی تفویض کی گئی ہے دفعہ 25 تمام شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمّل چھوٹ دیتی ہے،

کووڈ ویکسین کی حلت و حرمت کا مسئلہ

covid-vaccine

انگریزی کی ایک کہاوت ہے Necessity is the mother of invention اس کی تفہیمی وسعت سے مستفاد ہے کہ انسانی ضرورت ہی ہر ایجاد و دریافت کی جننی(ماں) ہے۔ضرورت پڑی جبھی تو ویکسین کی کھوج شروع کی گئی۔مطلب انسانی ضرورت کو بہت اہمیت حاصل ہے دنیا میں بھی دین میں بھی۔اور ایک خدائی مذہب کو اتنا دریا دل ہونا ہی چاہیے کہ وہ انسانی اقدار و ضرورات کے پیش نظر لچک اختیار کرے۔

خود کو انبیاء کا وارث بتانے والے علماء اپنے دائرۂ کار کی وسعت کو سمجھیں

ambiya-ke-waris

آج کے معاشرہ میں علماء کو اسلام کا ترجمان سمجھاجاتا ہے اور وہ خود بھی اپنے آپ کو انبیا علیہم السلام کا وارث کہہ کر اپنے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے ماحول میں ان کی سرگرمیوں کا دائرہ کیا ہے اور کہاں تک پھیلا ہوا ہے؟

نشہ کی طرح جلد نظر آئیں گے موبائل کی لت چھڑانے کے مراکز!!

موبائل کی لت چھڑانا

سائنسی ایجادات،دریافت نے ایک مختصر دورانیے میں ہمارا تصور کائنات بدل کر رکھدیا ہے۔ صرف ایک سوبرس پہلے لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وراثت اگلی نسلوں کو کیسے منتقل ہوتی ہے،یا ایک خلیہ، سیل(چھوٹاجوزف دار خانہ،حیاتیات،انگ:cell) کیسے تقسیم ہوکر پورا جاندار بن جاتا ہے۔انسانوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ” ایٹم” کی اندرون ساخت بھی ہوتی ہے

نئے کسان قانون (New Form Laws 2020): مضر یا مفید!!

New-Form-Laws 2020

بھارت میں کسانوں کو زرعی پیداوار کی فروخت کے سلسلے میں ایک خاص طریقہ کار سے گزرنا پڑتا تھا، کسانوں کے لیے طے شدہ اے پی ایم سی مارکیٹ کے احاطوں سے باہر زرعی پیداوار فروخت کرنے پر پابندیاں عائد تھیں تاکہ کسانوں کو مہاجنوں اور دلالوں کے استحصال سے محفوظ رکھا جاسکے، سرکار زرعی پیداوار کی ایم ایس پی یعنی کم سے کم امدادی قیمت(Minimum Support Price) جاری کردیتی تھی تاکہ کسان کا نقصان نہ ہو اور ہر ریاست کے اے پی ایم سی مارکیٹ سے متعلق الگ الگ قوانین تھے نیز بین ریاستی زرعی پیداور کی فروخت پر پابندی تھی۔

کیا ہیں نئے زرعی قوانین؟؟ اور کس قدر ہلاکت خیز ثابت ہوں گےکسان اور معیشت کے لیے؟؟

New Farm Low 2020

انڈین پارلیمان نے ستمبر 2020ء کے تیسرے ہفتے میں زراعت کےمتعلق یکے بعد دیگرے تین بل متعارف کراے جنھیں فورا قانونی حیثیت دے دی گئی۔ ان میں ایک زرعی پیداوار اور تجارت اور کامرس قانون 2020ء ہے جبکہ دوسرا کسان(امپاورمنٹ اور پروٹیکشن empowerment and protection) زرعی سروس قانون 2020ء ہے جس میں قیمت کی یقین دہانی اور معاہدے شامل ہیں۔تیسرا قانون ،ضروری اشیاء ( ترمیمی) قانون ہے۔