ایک کرے تو "لوجہاد”دوسرا کرے تو "گھر واپسی”، کہاں سے آتا ہے اتنا دوغلاپن!!
اگر لوجہاد کی یہی حقیقت ہے جس سے لوجہاد متعارف ہوا ہے تو جان لیں کہ مذہبِ اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات اورمسلمانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے لوجہاد اور اسلام ایک دوسرے کی ضد ہیں _اسلام کی امن پسند تعلیمات اور جبر و تشدد سے متعلق زاویہ نظر یہ ہے کہ بنیادی طورپر اسلام میں جبر و زبردستی نام کی نہ کوئی چیز ہے اور نہ اس کی گنجائش ہے اگر ایسا ہوتا تو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و سلم فتحِ مکہ کے وقت اپنے ماننے والوں یہ حکم دیتے کہ اسلام مخالف قبائل پر دباؤ ڈالا جائیں تاکہ وہ اسلام قبول کرلیں لیکن محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کبھی نہیں کیا