علامہ مفتی شبیرحسن بستوی علیہ الرحمہ: ایک بےمثال استاذ

مفتی شبیر حسن بستوی

 خلیفہ حضورتاج الشریعہ امام العلماجامع معقولات ومنقولات سابق شیخ الحدیث الجامعتہ الاسلامیہ قصبہ روناہی فیض أبادیوپی حضرت علامہ مفتی شبیرحسن رضوی محدث بستوی علیہ الرحمتہ والرضوان جماعت اہل سنت کے معروف ومشہورجیدعالم دین ممتازفقیہ اوربلندپایہ محدث تھے،جوجہان علم میں محتاج تعارف نہیں۔علم فقہ واصول فقہ،علم حدیث واصول حدیث،تحقیق وتنقید،درس وتدریس اورتصنیف وتالیف میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ کی تعلیمات 

شیخ عبدالقادر جیلانی

یوں تو دنیا میں بے شمار لوگ آے اور انھوں نے اپنی علمی و فکری و دینی خدمات کے ذریعہ خلق خدا کو ذات وحدہ لا شریک کی معرفت عطا کی اور رسول کی رسالت و نبی کی نبوت کے اقرار کی طرف انہیں راغب فرمایا۔اس عالم شس جہات میں لوگ آتے ہیں اور کسی ایک مجال میں وہ اپنی علمی و فقہی و فکری خدادا صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر خدمت دین متین انجام دیتے ہیں، بہت کم یاب ہیں وہ افراد جنھیں اللہ نے وہ ملکہ عطا فرمایا ہو کہ جملہ متداولہ علوم و مروجہ فنون میں وہ یکتائے روزگار ہوں اور جملہ مجال علم و فن میں انھوں نے جادہ پیمائی کی ہو

سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی حیات و خدمات ایک جائزہ

شیخ عبدالقادر جیلانی

اللہ تعالی نے دنیا میں ان گنت لوگوں کو پیدا فرمایا اور مخلوق کی رشدوہدایت کے لئے اس دنیاء فانی میں انبیاء کرام پیغمبران عظام اور رسولان عظام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا،اور جب تک یہ حضرات زندہ رہے مخلوق کی رشدوہدایت کا فریضہ انجام دیتے رہے، پھر جب اس دنیاء فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے تو اب اللہ تعالیٰ نے یہ کام اولیاء کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے سپرد فرمایا، اور اولیاء کرام کی جماعت  اس کارخیر کو بخوبی انجام دے رہے ہیں، اس تناظر میں جب ہم حضورسیدنا سرکارغوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات وخدمات کا جائزہ لیتے ہیں

*حضرت علامہ ابوالحقانی : حیات ونقوش

abul-haqqani

مفکر اسلام حافط احادیث کثیرہ حضرت علامہ ابوالحقانی علیہ الرحمۃ کی ولادت ٢ دسمبر ١٩٥٦ء کو صوبہ بہار کے ضلع مدھوبنی میں ہندونیپال کی سرحد پر واقع مقام لوکہا میں ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بزرگوں کے فیضان کرم سے ایک عظیم داعی و مبلغ کی حیثیت سے پورے عالم پر چھا گئے اور پھر آپ کی ذات بابرکات سے نہ صرف ضلع مدھوبنی کو نئی شناخت حاصلِ ہوئی بلکہ صوبہ بہار بھی متعارف ہوا –

حضور غوث اعظم  اور جود و سخا

Ghause Azam

جود وسخا ایک ایسا عظیم وصف ہے جس کا ہونا  ہر داعی ومبلغ کے اند ر  اشد ضروری ہے ۔ اگر یوں کہا جائے کہ سخاوت ہماری معاشرتی زندگی کا ایک عظیم ستون ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یاد رکھیں! سخاوت کی ضد بخالت ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے۔  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:‘‘ السخی قریب من اللہ قریب من الجنۃ قریب من الناس بعید من النار۔ والبخل بعید من اللہ بعید من الجنۃ بعید من الناس قریب من النار’’ترجمہ: سخی اللہ سے قریب ہے ، جنت سے قریب ہے ،

نئی تعلیمی پالیسی 2020 مواقع اور اندیشے(قسط2)

New Education Policy 2020

جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نئی قومی تعلیمی پالیسی ‘میک ان انڈیا ، اسکیل انڈیا ، اسٹارٹ اپ انڈیا اور خود کفیل ہندوستان مشن کو کامیاب بنانے کے لئے انسانی اقدار کے ساتھ ساتھ علم۔ سائنس ، تحقیق ، ٹیکنالوجی اور انوویشن کو شامل کرتے ہوئے ہندوستان کے عالمی گرو بننے کے عزم میں معاون ثابت ہوگا۔

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے! امیرالمجاہدین: احوال وآثار!

علامہ خادم حسین رضوی

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے! امیرالمجاہدین: احوال وآثار! از قلم۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی رکن۔ مجلسِ علماے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پور زونل کمیٹی کولکاتا۔136 رابطہ نمبر۔9007124164      آج کل فیس بک، وٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا میں دستک دیتے ہی دلوں کی دھڑکنیں کچھ دیر کے لئے … Read more

آہ! علامہ خادم حسین رضوی

Allama-Khadim

سرحدِ ختم نبوت کا عظیم محافظ، سرتا پا عشق رسول کا مجسم، اپنے آقا کے لئے سب کچھ قربان کردینے کا جذبہ رکھنے والا عظیم مجاھد، ظالم و جابر اور لبرل حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا مردِ حق، کچھار اہلسنت کا شیرِ نر، تحفظِ ناموس رسالت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہ کرنے والا بندہ خدا، وفادار مصطفیٰ، خادم دین رسول اللہ آج آغوش رحمتِ کبریا، دامنِ محبوبِ خدا میں ہمیشہ کے لئے سو گیا ۔

کیوں تیرے غم میں یوں ہلکان ہوا جاتاہوں: آہ! قبلہ امیرالمجاہدین : احمد رضا صابری

امیرالمجاہدین

ویسے تو عالم کی رحلت ایک عالم اور عہد کی موت ہوتی ہے لیکن قبلہ امیرالمجاہدین کی رحلت کئی معنوں میں ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ جنہوں نے ان کو دیکھا ، ان کی صحبت پائی انہوںنے عشق رسول کو مجسم دیکھا، بڑے زمانے کے بعد ایک ایسا شخص بر صغیر میں لوگوں کو اپنی طرف یہ کہہ کر متوجہ کرنے میں کامیاب ہوا کہ میں اس عہد میں ناموس رسالت کا سچا محافظ اور پہریدار ہوں۔ زبانی جمع خرچ سے ہٹ کر عملی میدان میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے نہ صرف اترا بلکہ معذوری کے باوجود قیدو بند کی صوبتیں بھی برداشت کیں، لاٹھیاں کھائیں،

تعلیمات حضرت محی الدین سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی

تعلیمات غوث اعظم

*تعلیمات حضرت محی الدین سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی* *تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور* حضرت سیدنا شیخ محبوب سبحانی نے فرمایا کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے جبکہ محققین و متکلمین کے نزدیک ایمان نام ہے ان امور کی تصدیق کا جو نبی اکرم ﷺ لائے۔ البتہ احکام اسلام تب جاری … Read more