کسان تحریک:سبق ہے تمام تنظیموں کے لیے جو اپنے حقوق کی لڑائی لڑرہے ہیں!!

کسان تحریک

صاحب ہم کسان ہیں صبح سویرے اٹھتے ہیں، سردی ہو یا گرمی یابر سات، دھوپ ہو یا چھاؤں صبح صبح ہم اپنے کھیتوں میں جاتے ہیں، ہل چلاتے ہیں، کھیتوں میں جتائی بوائی روپائی کرتے ہیں،، ہم زمین کے اندر بیج ڈالتے ہیں

مساجد کے امام ومؤذن کے ساتھ قوم مسلم کا نارواسلوک بھی قہر خداوندی کا داعی ہے!!

امام و مؤذن

[نوٹ] مذکورہ امام صاحب کے ساتھ جو یہ نازیبا انتہائی شر مناک سلوک کر نے والے مسجد کے مومنین کرام ہی ہیں…… امریکہ، اسرائیل یا کسی باطل حکومت، یا اورلوگوں کا کام نہیں ہے ۔انسانیت سے گرا ہو، ا س طرح کا کمینہ پن مسلما نوں کے دبنگوں نے کیا چور کی داڑھی میں تنکا وہ قرآن کریم واحادیث ، اﷲ ورسول کی با ت کو ہضم نہ کر سکے

ایک ملک ، دو تحریکیں دو نتائج!!

Shaheenbagh and Kissan Movement

موجودہ سرکار کے دور اقتدار میں ، بھارت کی سر زمین سے دو عظیم تحریکیں اٹھیں اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ آغاز اور درمیان دونوں کا یکساں تھا؛ لیکن دونوں تحریکوں کے انجام میں نمایاں فرق نظر آیا: ایک تحریک اپنے مقصد اور ہدف کے حصول میں حرف بحرف کامیاب ثابت ہوئی ، جب کہ دوسری تحریک نے درمیان ہی میں اپنی دم خم توڑ دی۔

وصیت ہو گئی داخل اصلیت میں!!

وصیت

ذہب اسلام کو مٹانے کا خواب دیکھنے والوں نے ہر دور میں دیکھا ہے، مذہب اسلام کو بدنام کرنے والوں نے ہر دور میں بدنام کرنے کی کوشش کی ہے کبھی شریعت مصطفیٰ پر انگلی اٹھائی ہے تو کبھی قرآن کریم پر انگلی اٹھائی ہے،

انصاف بھی ضروری ہے اور مساوات بھی ضروری ہے!!

انصاف

 یہ یاد حقیقت ہے کہ مجرم کو کیفرکردار تک پہنچا نے کے بجائے اس کو بچانا قانون کی خلاف ورزی ہے، جمہوریت کی توہین ہے، ناانصافی ہے، ملک کی عوام کے ساتھ وشواس گھات ہے اور قول وفعل میں تضاد ہے حکومت اس روئیے پر قائم رہتی ہے تو اقلیتوں کا اعتماد کیسے حاصل کرسکتی ہے،، پھر تو اقلیتوں کے اندر سے

ہر سال آتا ہے اور گذرجاتا ہے ٦؍ دسمبر!!

بابری مسجد

یوں تو بہت زمانے سے آتا ہے دسمبر کا مہینہ اور گذر جاتا ہے دسمبر کا مہینہ اور جب سے عیسوی سال کے ماہ میں دسمبر کو ترتیب دیا گیا ہے تب سے ہر سال دسمبر کے مہینے میں 6 تاریخ بھی آتی ہے یعنی 6 دسمبر کا دن آتا تھا اور آتا ہے اور آتا رہے گا مگر 1992 میں جب دسمبر کا مہینہ آیا تو ہمارے وطن عزیز کی فضا کچھ ایسی تبدیل ہونا شروع ہوئی کہ 6 دسمبر کو ساڑھے

سو شل میڈیا کا استعمال، ہمارے بچے اور بچیاں!!

سوشل میڈیا اور بچے

ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کی دگر رنگینیوں میں صرف لڑکیاں ہی نہیں بلکہ بچہ بچہ ملوث ہیں، لڑکیوں کے ساتھ رقص و سرور کے ویڈیوس بنا کر شیئر کرتے نظر آتے ہیں مستزاد یہ کہ وہ اس قسم کے غیر شرعی، مخرّب اخلاق اور اس گناہ کے کام میں لذّت و مسرّت محسوس کرتے ہیں-

تحریر میں حوالہ چاہیے تو تقریر میں کیوں نہیں؟

تحرو تقریر

پورے ملک میں جلسے ہوتے رہتے ہیں علماء کرام واقعات اور مثالیں پیش کرتے ہیں اور ہم سنتے ہیں ہمیں بات سمجھ میں آتی ہے تو بھی سنتے ہیں اور فصاحت و بلاغت میں ڈوبی ہوئی بات ہمارے سروں سے اڑجاتی ہے تب بھی سنتے ہیں لیکن ہم ان سے حوالہ نہیں مانگتے ثبوت نہیں مانگتے،، اور انہیں علماء کرام و مقررین عظام کی باتوں میں سے