تو جو مؤمن ہے تو پھر۔۔۔!!

مومن

تو جو مؤمن ہے تو پھر کثرت باطل سے نہ ڈر 
بدر میں جس نے مدد کی وہ خدا آج بھی ہے لیکن آج ہم کروڑوں ہیں باطل قسم قسم کے منصوبے قائم کر چکے ہیں دن بدن ہمیں آزادی سے غلامی کی جانب کفار کھینچ کر لے جا رہے ہیں لیکن ہم اپنے گھروں میں بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں کہ غیبی مدد ہم پہ کی جائے گی ۔
تاریخ آپ کے سامنے ہے خیال رہے ۔

یکساں سول کوڈ ایک تجزیاتی مطالعہ

یونیفارم سول کوڈ

ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے اتحاد اور قومی یکجہتی ایک اہم ضرورت ہے اور ھندوستان میں سکونت پزیر مختلف فرقوں کے درمیان دوستی،خیرسگالی اور باہمی رواداری کے جذبہ کو فروغ دینا بہترین ملکی خدمت ہے لیکن قومی یکجہتی کے نام پر مذہبی قوانین کو آڑے ہاتھوں لینا باشندگان وطن کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ہے

وشنو گپتا جیسے بدبختوں سے کب پاک ہوگا ہمارا ملک

وشنو گپتا

ایک زمانہ تھا جب ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کا سات سمندر پار تک چرچا تھا۔ دوسرے ملک کے باشندے بھارت کی اس تہذیب کی مثالیں پیش کرتے تھے؛ آبادی کے ایک طرف جہاں ہندوؤں کے مندر ہوتے تھے تو وہیں بغل

کیا ساڑی پہننےوالی عورتوں کو اِسکرٹ پہنایا جا سکتا ہے؟

کیا اسکرٹ پہنایا جا سکتا ہے

بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں ملک کے ہر باشندے کو بولنے، کھانے، پینے، رہنے، سہنے، پہننے، اوڑھنے، اور اپنے پسندیدہ مذہب پر عمل پیرا ہونے کا مکمل اختیار ہے۔ اور یہی چیز بھارت کو دیگر تمام ممالک سے ممتاز کرتی ہے کہ ایک ہی ملک کے ایک صوبہ،

جمہوری ہندوستان میں مسلمانان ہند کا کردار

جمہوری

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دن انتہائ اہمیت کے حامل ہیں، ایک 15/اگست جس میں ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا، دوسرا 26/جنوری جس میں ملک جمہوری ہوا یعنی اپنےملک میں اپنے لوگوں پر اپنا قانون لاگو اور نافذ ہوا

26/جنوری قومی یادگار کے اظہار کا دن

۲۶ جنوری

26/جنوری یومِ جمہوریہ کے طور پر ہرسال منا یا جاتاہے،کیونکہ اسی روز مرتب کردہ آئین اسمبلی کے ذریعہ نافذ العمل کیا گیا تھا-اس دن کاپس منظر یہ بھی ہے کہ 1930 میں لاہور کے مقام پر دریائے راوی کے کنارے انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے اجلاس میں جس کی صدارت جواھر لال نہرو نے کی تھی، ڈومنین

ہم جشن یوم جمہوریہ کیوں مناتے ہیں؟

یوم جمہوریہ

بلاشبہ وطن عزیز [ہندوستان] کی تاریخ میں دو دن بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں, ایک 15اگست [یوم آزادی]جس دن ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزادہوا, دوسرا 26جنوری[جسے یوم جمہوریہ یا ری پبلک ڈے Republic Day یا گن تنتر دِوس کہا جاتا ہے] جس دن ملک جمہوری ہوا, یعنی اپنےملک میں اپنےلوگوں پراپناقانون لاگو ہوا-

جمہوریت کاقاتل کون ؟

جمہوریت کا قاتل کون؟

پولیس نے محمد الطاف کو گرفتار کیا۔ الزام تھا، وہ ایک لڑکی کو لے کر فرار ہو رہا تھا۔ دوسرے دن بھلے چنگے نو جوان کی لاش ملی۔ اسے حراست میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے صفائی پیش کی، ملزم نے ٹوائلیٹ کی دو فٹ اونچی ٹونٹی سے لٹک کر خود کشی کر لی ہے؛ شاملی ضلع ، اتر پردیش کے محمد صلاح الدین کو یوپی پولیس نے 1995ء میں چار کارتوس رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا،

برائی اور ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کرنے پر عذاب الٰہی!!

برائی اور ظلم

بطور مثال ضلع ناگور کا ایک مبارک قصبہ’’باسنی ‘‘ کا ذکر کرنا چاہوں گا،باسنی گاؤں اپنی اسلامی روایات کو برقرار رکھنے والا خوبصورت قصبہ کی حیثیت سے ضلع ناگور راجستھان میں واقع ہے،الحمد للہ اس گاؤں میں عالی شان اور خوبصورت مسجدیں آسمان کو مس کرتی ہوئی گنبدوں کے ساتھ دعوت نماز دے رہی ہیں،