عہد حاضر اور القابات : ایک تنقیدی جائزہ

القابات

آج کل معاشرہ میں مذہبی القاب کے استعمال میں بڑی بے اعتدالیاں دیکھی جارہی ہیں، چاہے ان القاب کی صلاحیت آدمی میں ہو یا نہ ہو ۔نام کے آگے القاب جڑدئیے جاتے ہیں اور بعض مرتبہ القاب سے محض ریاکاری کا جذبہ بھی ظاہر ہونے لگتا ہے

میڈیائی پروپیگنڈے کو سمجھیں !!

میڈیا

یوں تو ملک میں آئے دن قتل وغارت گری اور دنگا وفساد کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو دل ودماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔کچھ خبریں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں ایک خاص ایجنڈے کے تحت پلانٹ کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے اہداف کی تکمیل کی جاسکے۔

محمد زبیر کی گرفتاری:۔۔۔جو ہوا حال ہمارا سو تمھارا ہوگا!!

محمد زبیر آلٹ نیوز

”آلٹ نیوز“ جو کہ ایک فیکٹ چیکنگ یعنی خبروں کی حقیقت سامنے لانے والی ویب سائٹ ہے اس کے بانیوں میں سے ایک محمد زبیر نے اس معاملہ کو عالمی پیمانے پر پیش کرتے ہوئے ان گستاخوں سمیت ان کی سیاسی پارٹی کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی

توہین رسالت اللہ کو بھی گوارا نہیں!

توہین رسالت

شان رسالت میں گستاخی سے مسلمانوں کے جذبات ضرور مجروح ہوتے ہیں لیکن جو لوگ فوراً سرقلم کرنے کا انعامی اعلان کرتے ہیں انہیں بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ ہم کہاں تک صحیح ہیں کہیں صرف ہائی لائٹ ہونا اصل مقصد تو نہیں،

جہیز کی لعنت کا سدباب نہ ہواتو معاشرہ تباہ ہوجائے گا!!

جہیز کی لعنت

سچ پوچھئے تو جہیز ایک بہت ہی خوش نما لفظ ہے جس پر شرح وبسط کے ساتھ دلچسپ تبصرہ کیا جاسکتا ہے- جہیز کا معنیٰ کہ کسی کو صرف اس کی ضرورت کا سامان دینا- کفن دفن تجہیز و تکفین کے لئے اس لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے-

مسجدوں کو مندر بنانے کی مہم !!

مسجد

جس زمانے میں بابری مسجد پر قبضہ کرنے کی مہم شروع ہوئی تو شدت پسند کہتے تھے کہ ہمیں صرف بابری مسجد چاہیے، باقی کسی مسجد سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد ان کا مطالبہ متھرا کی شاہی عیدگاہ اور بنارس کی شاہی عالم گیری مسجد تک آ پہنچا۔

بھارت کا بدلتا منظر نامہ !!

بھارت

گذشتہ کئی ماہ سے ہندو شر پسند بھارت کی تاریخی مساجد اور مسلمانوں کے تعمیر کردہ اہم سیاحتی مقامات پر تنازع پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اس تنازع کی ابتدا بنارس میں واقع شاہی عالم گیری مسجد محلہ گیان واپی سے ہوئی۔مسجد کے متصل ہی ہندوؤں کے بھگوان وشوناتھ کا مندر ہے، اس لیے ہندو تنظیموں کا الزام ہے کہ مذکورہ مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہے۔