مدینۃ الرسول میں شیطنت کی انتہا!!
مرکزِ عقیدت اور عشاقِ رسول مقبول صلى الله عليه وسلم کا سکون ہے ایسی مقدس جگہ کو جہاں سے برائیوں کا خاتمہ ہوا، جہاں سے رسول عربی صلى الله عليه وسلم نے دینِ متین کی خدمت کی
مرکزِ عقیدت اور عشاقِ رسول مقبول صلى الله عليه وسلم کا سکون ہے ایسی مقدس جگہ کو جہاں سے برائیوں کا خاتمہ ہوا، جہاں سے رسول عربی صلى الله عليه وسلم نے دینِ متین کی خدمت کی
نجدیو!تم اس مقدس زمین کو ناپاک کرنے جارہے ہو جس طیب وطاہر زمین سے ہم سب کے آقا ومولیٰ حضور ﷺ کے پائے اقدس مس ہوئے ہیں،جس نبی نے اس شہر میں دس سال رہ کر دعوت دین ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض انجام دیتے رہے
ملک میں ہندوانتہا پسندتنظیموں کے ذریعہ پھیلائی گئی مذہبی منافرت اس وقت پورے عروج پرہے، جس کے سبب دن بدن حالات سنگین اورنازک ہوتے جارہے ہیں
اترپردیش میں الیکشن کی ہوا چلنے لگی ، بیان بازی ہونے لگی، سیاسی لیڈران ہندو مسلم کی زبان بولنے لگے، مذہبی مقامات پر پہنچنے لگے، مذہبی پیشواؤں، رہنماؤں سے ملنے لگے مختلف انداز میں داؤ پیچ چلنے لگے
کچھ سوالات جو سوشل میڈیا پر تیزی سے تیر رہے ہیں۔کیا مسجد انتظامیہ کو مذکورہ مسئلے میں حضرت تاج الشریعہ کے موقف کاعلم نہیں تھا؟ یقینا تھا، تو پھر بنا استفتا کا ڈرامہ کیے انہوں نے مفتی سلمان ازہری پر کارروائی کیوں نہیں کی؟
جب کوئی شخص پریشان ہوتا ہے تو اسے دنیا نظر نہیں آتی، پھر وہ مفت میں ملنے والے مشورے کے جال میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کیا جائے کس مشورے پر عمل کرے
ڈھونگی باباؤں کی بڑھتی تعدادامت کے لئے باعث تشویش! (=:قسط وار =:)__ (پہلی قسط) آج جدھر بھی دیکھئے آپ کو ادھر ڈھونگی باباؤں کی جماعت قوم کو لوٹنے کا کام بے دھڑک کرتی ہوئی مل جائیں گی، جس شخص کے پاس کوئی کام نہیں یا جو شخص کسی کام کا نہیں،،تو اس کے لئے ایک … Read more
جب سید زادے اس کے قائل ہی نہیں ہیں تو کیسے مخالفت ہوئی، یہ تو ادنی تأمل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ اور یہ آپ کی تحریر بھی بتا رہی ہے کہ کسی سید زادے نے نہیں بلکہ ان کے کسی عقیدت مند نے کہا ہے۔
مضمون کا ہڈینگ تو اس قدر دل چسپ ہے کہ اولِ نظر میں نہ چاہ کر بھی مضمون پڑھنے کا دل کرنے لگتا ہے۔ مضمون میں جناب بھارتی صاحب نے خوب الفاظ کے پیراہن میں سید زادوں کو کھری کھوٹی سنائی ہے
قرآن مقدس ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کررہا ہے کہ اے لوگوں ہم نے تمہیں ایک مرد ایک عورت سے پیدا کیا،، تم سب آدم و حوا کی اولاد ہو،، تمہیں شعبے اور قبیلے میں بانٹا تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو،