خطرے میں کون ہے؟
بھارت میں تقریباً 42 لاکھ فوج ہے، جس میں سی آر پی ایف، ایس ایس ایف، پی اے سی اور ریپڈ ایکشن فورس جیسے کئی نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔جو باہری دشمنوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر بھی ملکی امن وامان بنائے رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
بھارت میں تقریباً 42 لاکھ فوج ہے، جس میں سی آر پی ایف، ایس ایس ایف، پی اے سی اور ریپڈ ایکشن فورس جیسے کئی نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔جو باہری دشمنوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر بھی ملکی امن وامان بنائے رکھنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
آج ۱۵/ اگست کا وہ دن ہے جس دن ہمارا پیارا ملک ہندوستان مغربی طاقتوں سے آزاد ہوا تھا۔ آج پورا ملک ۷۵ واں یوم آزادی منا رہا ہے جس میں ہر دھرم اور مذہب کے لوگ شامل ہے۔ خواہ وہ مسلم ہوں یا ہندو، سکھ ہوں یا عسائی، بودھ ہوں یا دوسرے مذاہب کے لوگ،
آئین ہند جل رہاہے، ہندوستان کی سب سے معزز کتاب جس کی توہین پر یہ سزا ہے کہ ایسے مجرموں کی ہندوستانی شہریت منسوخ کردی جائے گی، لیکن یہ کتاب جلائی گئی، منوسمرتی کے نفاذ کا الارم بجایا گیا، اور مسلمانوں کی شہریت پر سرکاری حملے ہورہےہیں
رانچی:- ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانامحمد قطب الدین رضوی نے کہاہے کہ مورخہ 9/ اگست 2021 بروز سموار مطابق 29 ذی الحجہ 1442 ہجری کو دارالقضاءادارہ شرعیہ جھارکھنڈ رانچی کے علاوہ ریاست کے
ہندوستان 15 اگست 1947ء/ کو انگریزوں کی غلامی کے چنگل سے آزادہوا، اس آزادی کے حصول کی خاطر معاشرے کے سبھی طبقوں نے اپنا اہم کردار پوری ایمانداری، زمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ اداکیا،
اتر پردیس میں آبادی کنٹرول کرنے کی پالیسی کا اعلان ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا کا منصوبہ ہے، بڑھتی آبا دی ترقی میں رکاوٹ کا واویلا کرنے والے خدائی نظام ِقانون کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ ہر ذی روح کو زندہ رہنے کا حق ہے چاہے وہ کوئی بھی جنس ہو،
مسلمان بھارت میں تقریباً آٹھ سو سال حاکم رہے لیکن غیر مسلموں کو کبھی مسلمانوں سے ڈر نہیں لگا، وہ نہایت چین وسکون کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتے رہے، حتی کہ آگرہ ودہلی جیسے مرکزی شہروں میں بھی غیر مسلم رعایا اکثریت میں رہی
مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک مکمل دستور حیات عطا کیا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر زندگی گزارنے والا مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب و کامران اور دنیا و آخرت کی سعادتوں کا حقدار ہوتا ہے- اسلامی نظام زندگی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے ہر گوشے اور انسانوں کے ہر طبقے کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں-
مسلسل کوششوں کے بعد آخر بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت کو دو سال قبل 2019 میں طلاق ثلاثہ بل پاس کرانے میں کامیابی حاصل ہوہی گئی اور تین طلاق کے خلاف قانون بن گیا اس کے بعد کئی سوال پیدا ہوگئے حکومت کی منشا کیا ہے، حکومت کو مسلم خواتین کی اتنی فکر کیوں ہوئی،
عید الاضحیٰ کے موقع پر بالخصوص مدارس اسلامیہ کے لیے اور بالعموم چمڑہ تاجروں کے لیے جون جولائی کے مہینے میں چمڑے کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ کئی دفعہ سیکڑوں کلو نمک پاشی کے اور کئی دنوں کی محنت شاقہ کے بعد بھی کھال پوری طرح محفوظ نہیں رہ پاتی جس کے سبب ان کی مناسب قیمت منڈیوں میں نہیں مل پاتی جبکہ ویسے بھی اس وقت عالمی منڈی میں چمڑوں کی قیمت کا حال بد سے بدتر ہے۔