لکشدیپ : کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ!!
اترپردیش کے انتخاب کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے فرقہ وارانہ سیاست اور مسلم دشمن سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں خاص طور پر جہاں جہاں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)۔
اترپردیش کے انتخاب کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے فرقہ وارانہ سیاست اور مسلم دشمن سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں خاص طور پر جہاں جہاں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)۔
گداگری معاشرے کی ان قبیح ترین برائیوں میں سے ایک ہے جن میں روز افزوں اضافہ ہوتاجارہاہے۔بڑی تیزی کے ساتھ لوگ اسے کسب معاش کاآسان ذریعہ سمجھ کراپنارہےہیں۔اچھی خاصی صحت وتندرستی کےمالک افراد گداگری کالبادہ اوڑھتے نظرآرہے ہیں۔
کوروناوائرس:احتیاطی تدابیر اور لاک ڈاون کااسلامی تصور!! لاک ڈاؤنLockdown یہ انگریزی زبان کی ایک اصطلاح ہے اردو زبان میں اسے تالابندی کہتے ہیں اس کامطلب ہےآمدورفت نقل وحرکت کو مخصوص دنوں کےلیے مقفل اورمحدود کردینا کسی بھی وباء یا ہنگامی صورت حال پر قابو پانےکےلیےملک اورریاست کی یہ حکمت عملی ہوتی ہےکہ وہ اس دوران … Read more
اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں، ان کی محنت و کاوش سے بہت سارے ہیرے، جواہرات وجود میں آتے ہیں۔ اگر یہ محنت نہ کریں اور تساہلی سے کام لیں تو ہمیں ہیرے جواہرات نہیں ملیں گے۔ بلکہ نکمے اور ناکارے وجود میں آئیں گے۔ اگر قوم کو اچھے اور صالح افراد مل رہے ہیں
مضمون کی سرخی سے آپ کو یہ احساس ہوتا ہو کہ آخر ایسی سرخی کیوں لگائی گئی تو دراصل بات یہ ہے کہ اکثر و بیشتر ایسے مضامین نظر سے گذرتے ہیں کہ جن کی سرخیوں کے نیچے باریک شکل میں لکھا ہوتاہے کہ لمحۂ فکریہ،، تو ضرورت یہ محسوس کی گئی کہ ایک مضمون کی سرخی ہی لگا دی جائے لمحۂ فکریہ کے نام سے پھر وہ سارے حالات اور سارے مناظر بیان کئے جائیں کہ جو طریقہ اپنا کر پہلے کامیابیاں حاصل ہوا کرتی تھیں
شاید ہندوستان کی تاریخ میں ایسا آشوبناک دور چشمِ فلک نے پہلی بار دیکھا ہوگا، جب قبرستان میں جگہ اس قدر تنگ ہو گئی کہ دو گز زمین ملنا بھی مشکل ہو گیا اور حالت یہ بن گئی کہ ایک ہی قبر میں کئی کئی مردے دفنانے پر لوگ مجبور ہو گئے ، شمشان گھاٹ میں لاشوں کو جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑ گئیں ، میت کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے قبرستان اور شمشان کے باہر گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے ، سہمی ہوئی انسانیت اسطرح سانسوں کے درمیان الجھ گئی ہے کہ پلک جھپکتے ہی کب کس کے مرنے کی خبر آ جائے، کب
کہا جاتا ہے کہ ٹی وی چینلوں پر ہندو مسلم کا لپھڑا کھڑا کرنے والا پہلا شخص روہت سردانا ہی تھا۔وہی روہت سردانا کورونا کی بھینٹ چڑھ گیا۔یعنی اس کے سارے فرقہ وارانہ دنگلوں میں دھرم کا بھانگ چڑھا کر تال ٹھونکنے والے اب نہیں دکھیں گے۔جی ہاں وہی کورونا جس کی آڑ میں پوری میڈیا برادری نے مسلمانوں کو زیرو ڈاؤن کرنے کے لیے اپنا سارا زور لگا دیا تھا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــپہلے نظام خانقاہی سر تا پا روحانی ہوا کرتا تھا۔اس پر جنید و بایزید اور شبلی و سقطی کا رنگ غالب ہوا کرتا تھا۔لوگ وہاں جاکر خدا بھی پاتے تھے اور خدائی بھی۔وہاں کسی کی ان دیکھی نہیں ہوتی تھی۔حقداروں کو ان کا حق پہلی فرصت میں مل جایا کرتا تھا۔چاہے وہ خانقاہ سے جڑے ہوں یا باہر سے ہوں۔
640 عیسوی کا واقعہ ہے۔ سنہ ١٧ ہجری کے آخری مہینے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ تعالی عنہ) کے دور حکومت میں ملک شام ، مصر اور عراق میں ایک خطرناک وبا نمو دار ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ،
640 عیسوی کا واقعہ ہے۔ سنہ ١٧ ہجری کے آخری مہینے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ تعالی عنہ) کے دور حکومت میں ملک شام ، مصر اور عراق میں ایک خطرناک وبا نمو دار ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ،