کوروناوائرس:احتیاطی تدابیراور لاک ڈاون کااسلامی تصور!!

کورونا وائرس

کوروناوائرس:احتیاطی تدابیر اور لاک ڈاون کااسلامی تصور!! لاک ڈاؤنLockdown یہ انگریزی زبان کی ایک اصطلاح ہے اردو زبان میں اسے تالابندی کہتے ہیں اس کامطلب ہےآمدورفت نقل وحرکت کو مخصوص دنوں کےلیے مقفل اورمحدود کردینا کسی بھی وباء یا ہنگامی صورت حال پر قابو پانےکےلیےملک اورریاست کی یہ حکمت عملی ہوتی ہےکہ وہ اس دوران … Read more

اساتذۂ مدارس اورنظماء کی بےاعتنائیاں

مدارس اسلامیہ

اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں، ان کی محنت و کاوش سے بہت سارے ہیرے، جواہرات وجود میں آتے ہیں۔ اگر یہ محنت نہ کریں اور تساہلی سے کام لیں تو ہمیں ہیرے جواہرات نہیں ملیں گے۔ بلکہ نکمے اور ناکارے وجود میں آئیں گے۔ اگر قوم کو اچھے اور صالح افراد مل رہے ہیں

لمحۂ فکریہ، لمحۂ فکریہ اور لمحۂ فکریہ!!!

lamha

مضمون کی سرخی سے آپ کو یہ احساس ہوتا ہو کہ آخر ایسی سرخی کیوں لگائی گئی تو دراصل بات یہ ہے کہ اکثر و بیشتر ایسے مضامین نظر سے گذرتے ہیں کہ جن کی سرخیوں کے نیچے باریک شکل میں لکھا ہوتاہے کہ لمحۂ فکریہ،، تو ضرورت یہ محسوس کی گئی کہ ایک مضمون کی سرخی ہی لگا دی جائے لمحۂ فکریہ کے نام سے پھر وہ سارے حالات اور سارے مناظر بیان کئے جائیں کہ جو طریقہ اپنا کر پہلے کامیابیاں حاصل ہوا کرتی تھیں

ہر شہر جس نے شہر خموشاں بنادیا!!

کورونا وائرس

شاید ہندوستان کی تاریخ میں ایسا آشوبناک دور چشمِ فلک نے پہلی بار دیکھا ہوگا، جب قبرستان میں جگہ اس قدر تنگ ہو گئی کہ دو گز زمین ملنا بھی مشکل ہو گیا اور حالت یہ بن گئی کہ ایک ہی قبر میں کئی کئی مردے دفنانے پر لوگ مجبور ہو گئے ، شمشان گھاٹ میں لاشوں کو جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑ گئیں ، میت کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے قبرستان اور شمشان کے باہر گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے ، سہمی ہوئی انسانیت اسطرح سانسوں کے درمیان الجھ گئی ہے کہ پلک جھپکتے ہی کب کس کے مرنے کی خبر آ جائے، کب

سردانا کی کورونائی موت کے بعد کا منظرنامہ

Rohit Sardana

کہا جاتا ہے کہ ٹی وی چینلوں پر ہندو مسلم کا لپھڑا کھڑا کرنے والا پہلا شخص روہت سردانا ہی تھا۔وہی روہت سردانا کورونا کی بھینٹ چڑھ گیا۔یعنی اس کے سارے فرقہ وارانہ دنگلوں میں دھرم کا بھانگ چڑھا کر تال ٹھونکنے والے اب نہیں دکھیں گے۔جی ہاں وہی کورونا جس کی آڑ میں پوری میڈیا برادری نے مسلمانوں کو زیرو ڈاؤن کرنے کے لیے اپنا سارا زور لگا دیا تھا۔

خدا غارت کرے ایسی خانقاہیت اور گروہیت کو

خدا غارت کرے ایسی خانقاہیت اور گروہیت کو

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــپہلے نظام خانقاہی سر تا پا روحانی ہوا کرتا تھا۔اس پر جنید و بایزید اور شبلی و سقطی کا رنگ غالب ہوا کرتا تھا۔لوگ وہاں جاکر خدا بھی پاتے تھے اور خدائی بھی۔وہاں کسی کی ان دیکھی نہیں ہوتی تھی۔حقداروں کو ان کا حق پہلی فرصت میں مل جایا کرتا تھا۔چاہے وہ خانقاہ سے جڑے ہوں یا باہر سے ہوں۔

کورونا اور احتیاطی تدابیر، طاعون عمواس کی روشنی میں

کورونا اور احتیاطی تدابیر، طاعون عمواس کی روشنی میں

640 عیسوی کا واقعہ ہے۔ سنہ ١٧ ہجری کے آخری مہینے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق (رضی اللہ تعالی عنہ) کے دور حکومت میں ملک شام ، مصر اور عراق میں ایک خطرناک وبا نمو دار ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ،

کورونا کیوں نہیں جا رہا ہے یہ سوچنے کی ضرورت ہے!!

کورونا وائرس

کورونا کو لے کر جو جو دھماچوکڑی کی گئی ہے وہ بھی اب سارے لوگ جان چکے ہیں۔ لاش کسی کی ،دی جارہی ہے کسی کو۔ لاشوں کو چیر پھاڑ کر قیمتی اعضاء نکالنا ۔اچھا بچھا آدمی ہاسپٹل گیا۔ اس کو کورونا پازیٹیو بتا کر پیک کر دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں اور ہاسپیٹل والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ انسانوں کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں۔

دو گز دوری، ماسک ضروری، تو پھر ریلی اور کمبھ کا انعقاد کیوں!!

دو گز دوری، ماسک ہے ضروری تو پھر ریلی اور کمبھ کا انعقاد کیوں!!

رمضان المبارک کا مہینہ آیا لوگوں کو پہلے سے کافی خوشی تھی دکاندار کے چہرے پر کچھ مسکراہٹ آئی تھی، مالوں کی خریداری کچھ شروع ہوئی تھی، خونچہ و خوانچہ ٹھیلا والے اپنی اپنی جگہ متعین کررہے تھے، پھل فروٹ کا آرڈر بک کرا رہے تھے،