بنگال اسمبلی انتخاب: ترنمول کانگریس ہی دوبارہ اقتدارکی حقدار!

بنگال الیکشن

    جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیں اور اس کا پہیہ چلتے رہنے کے اپنے اصول ہیں، آئین کی رو سے ہر بالغ شہری کو اس اسمبلی انتخاب میں ریاستی مفادکے لیے اپنے نمائندے چننے کا حق دیا گیا ہے، جووہ اپنے ووٹ کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔ جب ایک حکومت اپنا وقت پورا کر لیتی ہے توعوام کونئی اسمبلی بنانے کیلئے اپنے نمائندے چننے کا موقع دیاجاتا ہے

تمام تر شعبۂ حیات میں خواتین غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں

جہیز

معزز قارئین! نسل انسانی کی بقا اور سماجی و معاشرتی و عائلی ترقی کی ضمانت اور پاکیزہ و صالح معاشرہ کی تشکیل عورت کے وجود کے بنا غیر ممکن ہے، انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ایک عورت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے خواہ وہ گھریلو معاملات ہوں یا سماجی ہر موڑ پر ان کی افادیت مسلم ہے.

مطالبۂ جہیز معاشرے کا ناسورہے

جہیز

نکاح اس پاکیزہ رشتے کا نام ہے جس کی کوکھ سے دنیا کے سارے رشتے وجود میں آتے ہیں،دنیا کے سارے رشتوں کی اہمیت اپنی جگہ مگر یہ وہ واحد رشتہ ہے جس کی داغ بیل اللہ عزوجل نے جنت میں ڈالی، نسل انسانی کی بقا و افزائش اسی رشتے پر منحصر ہے،

علماء خانقاہی اسٹیج پر قابلیت کی قاف نہیں جہالت کی جیم لیکر آئیں: ایک تنبیہ

علماء خانقاہی اسٹیج پر قابلیت کی قاف نہیں جہالت کی جیم لیکر آئیں: ایک تنبیہ

پچھلے دنوں عرس سرکار کلاں میں جامع اشرف کے ناظم اعلیٰ مولانا قمر اشرفی صاحب نے انتہائی ادب کے ساتھ ایک خانقاہی شہزادے کی ذرا سی اصلاح کیا کردی مانو قیامت ٹوٹ پڑی.

شادی کی تقریبات میں کوئی چیزـ’’ اسلامی ‘‘رہ ہی نہیں گئی ہے

جہیز

مذہب اسلام میں نکاح کو عبادت قرار دیا گیا ہے، نکاح سنت ہے اور تمام انبیائے کرام نے اس سنت کو عبادت کی طرح اپنایا!۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ عبادت اصلیہ کلمہ، نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ جیسی اہم عبادات میں گواہی کی ضرورت نہیں رکھی گئی ہے۔

دین میں نسلی تفاخر و آبا پرستی کی گنجائش ہے؟؟؟

نسلی تفاخر

نسلی تفاخر و آبا پرستی دین میں ایک ایسا اضافہ ہے جو اللہ و رسول کو کبھی مطلوب نہیں رہا۔بحیثیت مومن دین میں یا خیالات میں ایسی چیزوں کو ایڈ کرنا روح اسلام کو زک پہنچانے کے برابر ہے۔

جہیز کا مطالبہ معصوم جانوں کا قاتل

جہیز کا مطالبہ

سوشل میڈیا پر ایک عائشہ نامی لڑکی کا ویڈیو کافی تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جسکے پیچھے کی داستان نہایت ہی دلخراش اور المناک ہے، اخباری رپورٹ کے مطابق احمد آباد کی رہنے والی لڑکی عائشہ کا نکاح ء2018 میں ایک عارف نامی لڑکے سے ہوا تھا، نکاح کے بعد سے ہی عائشہ کے سسرالی رشتہ دار بشمول اسکے شوہر مسلسل اسے ٹارچر کرتے ہوئے ہمہ وقت جہیز کے متعلق طعنہ دیا کرتے تھے ،

یہاں تو روز کتنی عائشاؤں کے ارمان سوسائڈ کر رہے ہیں!!

Aisha-Suicide

جہیز جیسی بلا کو بڑھاوا دینے میں سماج پہلے خود ذمہ دار ہے۔پھر اس کے بعد سماج کے ٹھیکیدار۔اب جس جس کے پاس سماجی ٹھیکیداری ہے وہ ذمہ دار ہے۔خواہ وہ مولوی برادری ہو، پیران خانقاہ ہوں یا سیاسی و سماجی رہنمایان۔ان سب کی ذمہ داری تھی کہ سماج کے لیے اچھے حالات پیدا کرتے مگر ان کی رئیس گیری و داماد بنائی کی جہیز لٹاؤ چکی میں تنگ حال غریب پس رہے ہیں۔یہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بالکل ناکام رہے۔