اترپردیش میں "گینگ ریپ”  مجرمین کے عزائم آخر اتنے بلند کیوں؟

ریاستِ اتر پردیش ان دنوں اخبارات،نیوزچینلوں، سوشل میڈیا،اور فیس بک کی سرخیوں میں گردش کر رہی ۔جس اتر پردیش میں ہزاروں مدارس و مساجد, ،منا در وچرچ اور کلیسا کے ساتھ ساتھ ہزاروں بڑے بڑے اسکول،کالج اور یونیورسٹیاں ہیں، جس کی وجہ سے اتر پردیش ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے مد مقابل امن وشانتی،بھائی چارگی ،سماجی ہم آہنگی ،مساوات،تہذیب وثقافت

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج بھی نا۔۔۔۔!! (قسط سوم)

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج

کئی بار خانقاہی اسٹیجوں پر خطباۓ متصوفین کو کافی زور دے کر یہ کہتے سنا کہ شیخ کا ادب یہ ہے کہ اگر شیخ نے کہا کہ سامنے رکھی چیز کو پیچھے رکھ دو اور تم نے ایسا کر دیا۔پھر شیخ نے کہا ایسا کیوں کیا، تو یہ نہ کہو کہ آپ نے پیچھے رکھنے کو کہا تھا۔بلکہ یہ کہو کہ حضور مجھ سے خطا ہوگئی۔ورنہ خلاف ادب ہوگا۔بہت ممکن ہے یہ بات تصوف و سلوک کی کتب میں مل جاۓ مگر جس سچوئیشن میں، جس انداز سے بیان کی جاتی ہے وہ فہم دین سے بالکل مختلف ہے۔مذکورہ ادب نامہ بلا قید و شرط بیان کرنے کا انجام ہے کہ

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج بھی ناــــ (قسط دوم)

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج

پیری مریدی سسٹم کے خلاف لکھنا مطلب پیروں اور ان کے عقیدت مندوں، اندھ بھکتوں سے لڑائی مول لینا ہے۔یہ بڑے دل گردے کی بات ہے۔جب کہ مجھ جیسا زندہ دماغ آدمی کا قلمی و فکری پیکار صرف اس نظام کے خلاف ہے جو اسلام کی اصل روح سے یکسر متصادم ہے۔جو دین تو نہیں مگر دین کے نام پر پروسا جارہا ہے۔جو در اصل طبیعت کی ہوسناکی کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔اہل خانقاہ اور خانقاہی مراسم کے اس طریقۂ کار کے خلاف جنگ ہے جس میں حب جاہ و منصب نے جڑ پکڑ لی ہے۔

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج بھی نا! (قسط اول)

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج

جی!سیمانچل کے مذہبی طبقے کا مزاج بھی غضب ڈھاتا ہے۔یہ صرف اپنے ممدوح پیر کی سنتا ہے باقی کسی کی نہیں۔بلکہ بعض مواقع تو ایسے دیکھے گئے ہیں کہ لوگ دین و سنیت کے واجبی حکم پر بھی پیر کی راۓ کو ترجیح دیتے ہیں۔جب کہ پیر صاحب خالص پیر صاحب ہے انہیں اسلامیات پر کوئی درک نہیں ہے۔دینیات کی گہری سوجھ بوجھ بھی نہیں ہے۔فقہیات سے کوئی قریبی رابطہ بھی نہیں۔بندوں کو خدا سے جوڑنے کا ایسا کوئی کام بھی ان کے کھاتے میں درج نہیں ہے جسے قابل ذکر سمجھ کر تحسین و آفرین کہا جاۓ۔حلقۂ ارادت کو بھی گروہی عصبیت کا زنگ لگا بیٹھے ہیں۔

خدارا مسلمان ہوش کے ناخن لیں! کسی بھی مرض میں مرنے سے گھر ناپاک نہیں ہوتا نہ ہی قبرستان

مسلمان ہوش کے ناخن لیں

اللہ تبارک وتعالیٰ سارے جہان کا معبود ،مالک و مختارہے۔ اللہ تعالیٰ واجبُ الوجوداور عالم کو ایجاد کرنے اور تدبیر فر مانے والا ہے، اسے نیند نہیں آتی ہے اور نہ اونگھ کیونکہ یہ چیزیں عیب ہیں اور اللہ تعالیٰ نقص وعیب سے پاک ہے۔ آسمان وزمین میں موجود ہر چیز کا مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا:کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ۔۔۔۔۔ الخ۔ تر جمہ: ہر کوئی جو زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہے

حضور صلی اللہ علیہ و سلم  کی مکی زندگی اور ہندوستانی مسلمان 

Huzoor ki makki zindagi

آج مسلمان جس بھی ملک میں ہو خواہ ہندوستان ہو یا بنگلہ دیش ہو یا دنیا کے کس ملک میں رہائش پذیر ہیں اور کسی بھی معاشرہ یا ماحول میں جی رہے ہیں اگر  غور کریں تو معلوم ہوگا مسلمان دو حیثیتوں سے  زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں ایک اقلیتی حیثیت سے تو دوسری اکثریتی حیثیت سے  نیپال و چین اور برطانیہ ہندوستان جیسے ملکوں میں مسلمان اقلیتی حیثیت سے ہیں جب کہ سعودیہ عرب  و انڈونیشیا اور پاکستان جیسے ممالک میں مسلمان اکثریتی حیثیت  سے ہیں اور موجودہ وقت میں مسلمانانِ ہند اور مسلمانان عالم کو جن پریشانیوں اور مسائلوں کا سامنا و سابقہ ہے

اردو زبان کی لازمیت کو بحال کرے حکومت بہار!! ’’تنظیم فلاح انسانیت، پریہار‘‘ کا مطالبہ

اردو زبان

دنیاکی بےشمار زبانوں میں ایک شیریں، پُرلطف، پاکیزہ اورممتاز ترین زبان "اردو”بھی ہے جسےصوبہ بہارمیں دوسری سرکاری زبان کامقام حاصل ہے۔لیکن حکومت بہارنےاسکولوں اورکالجوں سےاردو کی لازمیت کوختم کرکےاسےاختیاری مضمون کےدرجےمیں ڈھکیل کرزبان اردوکےساتھ غیرمنصفانہ سلوک اورسوتیلاپن کارویہ اختیارکیاہے جومحبان اردوکےلیےناقابل برداشت عمل ہے۔

قضیۂ بابری مسجد : سب یاد رکھا جائے گا!!!

بابری-مسجد

بابری مسجد کا انہدام مسلم قیادت کی نا اہلی اور عوامی بے حسی کا نتیجہ ہے۔اور آج بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر مسلم ممالک کے سربراہوں کی غلط پالیسیوں کا برا نتیجہ ہے۔ہم تو مسجد اسی دن ہار گئے تھے جب کار سیوکوں کی ایک جنونی بھیڑ نے اس کے گنبد و مینار توڑ ڈالے تھے۔

جہاد اور دہشت گردی کا فرق

جہاد-اور-دہشت-گ

جہاد ایک ایسے عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے پر امن معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے اور ریاست تمام تر دباؤ اور مظالم سے محفوظ رہتی ہے، تعصب و تشدد کرنا، قتل و غارت کرنا نہ صرف ناجائز بلکہ جائز کاموں کے لیے بھی اسلام میں سختی کے ساتھ منع ہے ۔

ائمۂ مساجد اور فارغ اوقات میں تجارت : شہباز عالم مصباحی

بزنیس

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کونسی تجارت مناسب ہے جسے اپنا کر رضائے الٰہی کا مژدہ حاصل کرنے کا شرف حاصل کر لیا جائے؟ تو ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارت وہی سودمند و مفید ہے جو انسان اپنے لئے پسند کرتا ہے اب کس کی پسند کیسی ہے