جمہوری ہندوستان میں مسلمانان ہند کا کردار

جمہوری

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دن انتہائ اہمیت کے حامل ہیں، ایک 15/اگست جس میں ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا، دوسرا 26/جنوری جس میں ملک جمہوری ہوا یعنی اپنےملک میں اپنے لوگوں پر اپنا قانون لاگو اور نافذ ہوا

26/جنوری قومی یادگار کے اظہار کا دن

۲۶ جنوری

26/جنوری یومِ جمہوریہ کے طور پر ہرسال منا یا جاتاہے،کیونکہ اسی روز مرتب کردہ آئین اسمبلی کے ذریعہ نافذ العمل کیا گیا تھا-اس دن کاپس منظر یہ بھی ہے کہ 1930 میں لاہور کے مقام پر دریائے راوی کے کنارے انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے اجلاس میں جس کی صدارت جواھر لال نہرو نے کی تھی، ڈومنین

ہم جشن یوم جمہوریہ کیوں مناتے ہیں؟

یوم جمہوریہ

بلاشبہ وطن عزیز [ہندوستان] کی تاریخ میں دو دن بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں, ایک 15اگست [یوم آزادی]جس دن ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزادہوا, دوسرا 26جنوری[جسے یوم جمہوریہ یا ری پبلک ڈے Republic Day یا گن تنتر دِوس کہا جاتا ہے] جس دن ملک جمہوری ہوا, یعنی اپنےملک میں اپنےلوگوں پراپناقانون لاگو ہوا-

جمہوریت کاقاتل کون ؟

جمہوریت کا قاتل کون؟

پولیس نے محمد الطاف کو گرفتار کیا۔ الزام تھا، وہ ایک لڑکی کو لے کر فرار ہو رہا تھا۔ دوسرے دن بھلے چنگے نو جوان کی لاش ملی۔ اسے حراست میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے صفائی پیش کی، ملزم نے ٹوائلیٹ کی دو فٹ اونچی ٹونٹی سے لٹک کر خود کشی کر لی ہے؛ شاملی ضلع ، اتر پردیش کے محمد صلاح الدین کو یوپی پولیس نے 1995ء میں چار کارتوس رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا،

برائی اور ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کرنے پر عذاب الٰہی!!

برائی اور ظلم

بطور مثال ضلع ناگور کا ایک مبارک قصبہ’’باسنی ‘‘ کا ذکر کرنا چاہوں گا،باسنی گاؤں اپنی اسلامی روایات کو برقرار رکھنے والا خوبصورت قصبہ کی حیثیت سے ضلع ناگور راجستھان میں واقع ہے،الحمد للہ اس گاؤں میں عالی شان اور خوبصورت مسجدیں آسمان کو مس کرتی ہوئی گنبدوں کے ساتھ دعوت نماز دے رہی ہیں،

 نیا سال اور آہ ! مسلمانوں کا کردارواعمال!!

نیا سال

نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے۔ کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائے گی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں؛

لڑکے لڑکیوں کاوالدین کورسوا کرکے گھر سے بھاگنے کا بڑھتا رجحان:ذمہ دار کون؟

بھاگ کر شادی

اپنی پسند کی شادی کرنا،والدین اور معاشرے سے چھپ کر شادی کرنا، خاندان و گھر والے جس شادی سے راضی نہ ہوں معاشرتی شرم و حیا کا باعث ہے اور نکاح کے مقصد کے بھی خلاف ہے ورسول گرامی کے فرمان کے بھی خلاف ہے کہ نکاح کا اعلان کرو مسجد میں نکاح کرو۔

لڑکیوں کی شادی کی عمر…!!!

شادی کی عمر

یہاں یہ بتانا دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ لڑکا-لڑکی کی ، اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہنے کی کوئی عمر یا حد مقرر نہیں ہے ، لڑکیاں 18 سال کے بعد الیکشن لڑ سکتی ہیں ، ووٹ ڈال سکتی ہیں، نوکری کر سکتی ہیں۔ بس شادی نہیں کر سکتیں ۔ حیرت ہے ، ابھی تک سرکار نے بلوغت کی عمر 18 سال رکھی ہے۔ یعنی 18 سال کی عمر سے پہلے کی عمر نابالغی کی عمر ہے۔

کافرانہ مسلک: قوالی کے نام پر فکری اور عملی آوارگی پر چشم کشا تحریر!

قوالی

🔸 پچھلے کچھ وقت سے دیکھا جارہا ہے کہ قوالی کے نام پر فکری اور عملی آوارگی لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔بعض قوال صرف فلمی گانوں کی دُھن پر ہی قوالی بناتے ہیں۔جیسے ہی کوئی نیا فلمی گانا ریلیز ہوا ٹھیک اسی سُر تال کے ساتھ قوالی بھی مارکیٹ میں آجاتی ہے۔