امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ : مختصر سیرت و کردار
تمام ارباب سیر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے کمالاتِ علمی کے معترف ہیں۔ علامہ ابن عبدالبر، امام نووی، علامہ ابن اثیر اور دیگر ارباب سیّر علیہم الرحمہ اس بات پر متفق ہیں
تمام ارباب سیر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے کمالاتِ علمی کے معترف ہیں۔ علامہ ابن عبدالبر، امام نووی، علامہ ابن اثیر اور دیگر ارباب سیّر علیہم الرحمہ اس بات پر متفق ہیں
نام ونسب:مفتی عبدالحفیظ رضوی بن شیخ محمد کلب حسین بن شیخ محمد نصرالدین بن شیخ غلام رسول رحمہم اللہ (آپ نسبی اعتبار سے شیخ صدیقی ہیں)
القابات وخطابات:مفکراسلام(واجد پور،ضلع مدھوبنی کے جلسے میں غیرمقلد اور دیوبندی کے مشترکہ سوالات کا جواب دینے کے بعد حضور شیرنیپال رحمہ اللہ تعالیٰ نے
حضرتِ مبلغ اسلام کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد (مولانا شاہ عبدالحکیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ) سے ہوئی، بعد ازاں جامعہ قومیہ میرٹھ میں داخل ہوئے اور سولہ سال کی قلیل عمر میں درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔۔۔۔۔نیز آپ نے علومِ عربیہ کی تکمیل کے بعد علومِ جدیدہ کی تحصیل کا ارادہ کیا (اولاً اٹاوہ ہائی اسکول اور بعد میں میرٹھ کالج) کے اندر انگریزی علوم کی تحصیل فرمائی۔
تاریخ ساز شخصیات میں ایک نام مناظر اھل سنت علامہ مفتی محمد طفیل احمد رضوی نوری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہے، آپ علم و تقویٰ کے پیکر، ظاہری و باطنی فیوض و برکات کے درخشاں، درس و تدریس کے ماہر، صبر وقناعت کے بحر بے کراں
حضور محدث اعظم بہار علیہ الرحمہ شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے اور خلافت بھی حضور حجۃ الاسلام ہی سے حاصل تھی ان کے علاوہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے بھی آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا تھا۔
حضورصدرالشریعہ علیہ الرحمہ دورطالب علمی ہی سے خوب ذہین وفطین اور اپنی مثال آپ تھے۔آپ جس عبارت کو تین مرتبہ پڑھ لیتے وہ عبارت یاد ہوجایا کرتی تھی۔آپ اتنے ذہین تھے کہ آپ نے ایک مرتبہ سوچاکہ”کافیہ“کی عبارت حفظ کرلینا مناسب ومعاون ہوگا،آپ نے ایک ہی دن میں پوری کتاب یاد فرمالیا۔
شمالی بہار کی عظیم دینی و علمی درس گاہ جامعہ ضیائیہ فیض الرضا ددری، سیتامڑھی بہار میں آج بروز جمعہ ۲/ ذی القعدہ ۱۴۴۳ھ کو حضور صدرالشریعہ، بدرالطریقہ، علامہ الشاہ حکیم امجدعلی اعظمی علیہ الرحمہ مصنفِ بہار شریعت کے عرس کے موقع پر جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ نے ایک پروگرام کا انعقاد کیا ـ
حضورِ تاج الشریعہ علیہ الرحمتہ گوناگوں مصروفیات کے باوجود قلم سے اپنا رشتہ بنائے رکھتے تھے- آپ نے متعدد موضوعات پر کتابیں تصنیف فرمائیں اور بہت سی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ہے، ان کی کچھ کتابوں کے نام ملاحظہ فرمائیں:
علمی دنیا میں یہ خبر انتہائی رنج وغم کے ساتھ سنی گئی کہ مرکزی ادارے جامعہ نعیمیہ مرادآباد کے پروفیسر معقولات، امام المنطق علامہ ہاشم نعیمی رحمہ اللہ 21 شوال 1443 مطابق 23 مئی 2022 بروز پیر اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
عطائے رسول سلطان الہند ‘غریب نواز’حضرت خو ا جہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمۃاللہ علیہ ماہ ذِی الحجہ 583ھ۔1187ء مکہ مکرمہ کی حاضری کے بعد مدینہ طیبہ اپنے محبوب ﷺ کی بار گاہ میں پہنچتے ہیں وہاں رسول کریم ﷺ نے