خواجہ غریب نواز کی مومنانہ بصیرت
عطائے رسول سلطان الہند ‘غریب نواز’حضرت خو ا جہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمۃاللہ علیہ ماہ ذِی الحجہ 583ھ۔1187ء مکہ مکرمہ کی حاضری کے بعد مدینہ طیبہ اپنے محبوب ﷺ کی بار گاہ میں پہنچتے ہیں وہاں رسول کریم ﷺ نے
عطائے رسول سلطان الہند ‘غریب نواز’حضرت خو ا جہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمۃاللہ علیہ ماہ ذِی الحجہ 583ھ۔1187ء مکہ مکرمہ کی حاضری کے بعد مدینہ طیبہ اپنے محبوب ﷺ کی بار گاہ میں پہنچتے ہیں وہاں رسول کریم ﷺ نے
خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کا فریضہ نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دیا، آپ کے صدق و صفا، حسن کردار اور حسن اخلاق کو دیکھ کر لوگ صداقت شعار اور پاکیزہ اخلاق کے حامل ہو گئے-
عظیم نقاد، سب رنگ ادیب، کہنہ مشق فقیہ ، صوفی ، شاعر ، مورخ ، محدث، کنز الدقائق ، حضرت علامہ مفتی حسن منظر قدیری صاحب علیہ الرحمہ کی پیدایش 12/ اپریل، 1948ء کو، گانگی ٹولہ، پتھار بستی، بہادر گنج ، ضلع کشن گنج بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔
آج جب بہ وقت سحر بروز پیر بہ مطابق ١٠ جنوری ٢٠٢٢ء یہ روح فرسا خبر ملی کہ دنیائے سنیت کی عظیم علمی و عبقری شخصیت میرے نہایت ہی کرم فرما استاذ، فقیہ اسلام حضرت علامہ مولانا مفتی آل مصطفی صاحب قبلہ مصباحی (جنہیں اب "رحمۃاللہ علیہ” کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آیا چاہتا ہے) اس دھوپ بھری دنیا کو چھوڑ کر عدم کی بے کراں وادیوں کی طرف کوچ کر گئے
یوں تو دنیا میں ہر کوئی آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ اپنی مقررہ مدت کو پورا کر کے دار آخرت کی جانب کوچ کر جائے گا۔ لیکن جانے والے کی حیثیت و لیاقت اور فضل و مراتب کو دیکھ کر انسان دکھ و درد کا احساس کرتا ہے جانے والا جیسی حیثیت کا حامل ہوگا
آپ کی شخصیت قوم وملت کے لۓ علمی وادبی سرمایہ کی حیثیت سے متعارف تھی ،تحریر وتقریر میں یکساں مہارت حاصل تھی ، ادبی نگارشات میں ترتیب و تنسیق کی خوبی کےساتھ بلاکی جاذبیت ہوتی اور قارئین کی تنشیط خواطر کا باعث بنتی ،
حضور سیدنا غوثِ اعظم کا فرمان ہے ” میرے نزدیک بھوکوں کو کھانا کھلانا اور حسنِ اخلاق کامل زیادہ فضیلت والے اعمال ہیں ـ پھر فرمایا ” میرے ہاتھ میں پیسہ نہیں ٹھہرتا، اگر صبح کو میرے پاس ہزار دینا آئیں تو شام تک ان میں سے ایک پیسہ بھی نہ بچے ـ (غریبوں میں تقسیم کرنے اور انہیں کھانا کھلانے کی وجہ سے)
مفتی اعظم نیپال،خلیفۂ حضور سید العلما واحسن العلما،شیرنیپال حضرت علامہ ومولانا حافظ وقاری الحاج الشاہ مفتی جیش محمد قادری برکاتی علیہ الرحمہ سابق قاضئ القضاۃ نیپال وشیخ الحدیث وصدر المدرسین جامعہ حنفیہ غوثیہ،جنک پور دھام
مناظر اہل سنت،ناشر مسلک اعلیٰ حضرت،مخزن فیض رضا،مظہر صدر الشریعہ،امین فکر حافظ ملت،برکاتی مفتی،مخزن علم وفن، شارح بخاری،فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ الحاج مفتی محمد شریف الحق امجدی قدس سرہ العزیز (پ:۱۳٤٠ھ بمطابق ١٩٢١ء۔م:١٤٢١ھ بمطابق ٢٠٠٠ء)
آپ نے ہالینڈ میں گاہے بگاے امام احمد رضا قدس سرہ کی حیات و شخصیت اور ان کے مختلف دینی ،تجدیدی،اصلاحی،روحانی ،علمی اور ادبی کارناموں سے تقاریر کے ذریعے وگوں کو روشناش کرایا