علامہ ارشدالقادری-کچھ یادیں کچھ باتیں : عرس قائد اہل سنت پر خصوصی تحریر

وہ اتحاد کے قائل تھے، مشربی اختلاف سے انھیں حد درجہ نفرت تھی، اشرفی رضوی اختلاف کا انھیں بے حد قلق تھا، سبھوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششیں کرتے تھے۔ میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب خانقاہ ابو الفیاضیہ (پٹنہ) سے حضرت شاہ بر ہان علیہ الرحمہ اور خانقاہ منعمیہ (پٹنہ) سے سید شمیم احمد منعمی تشریف لائے اور آپ نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور بڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی

 فخر القراء حضرت مولانا قاری ابو الحسن مصباحی : مبارک حسین مصباحی

Qari-Abul-Hasan

حضرت مولانا قاری ابو الحسن مصباحی نے درسِ نظامی کے دوران استاذ القرا حضرت قاری عبد الحکیم عزیزی گونڈوی (بلرامپوری) کی درس گاہ میں قرأت حفص کا کورس مکمل کیا، ماشاء اللہ تعالیٰ ہمارے بزرگ حضرت قاری عبد الحکیم عزیزی سے ہماری متعدد ملاقاتیں ہیں ۔آپ فطری طور پر نیک اور بلند اخلاق تھے، اپنے مرشدِ گرامی حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہٗ کے زبردست شیدائی تھے، مرشدِ گرامی نے آپ کو چند اوراد و وظائف کی خصوصی اجازتیں بھی عطا فرمائیں تھیں۔

 شارح بخاری کی آفاقی شخصیت اور منفرد علمی شناخت : مبارک حسین مصباحی

Sharhe-Bukhari

گھوسی کی سر زمین پر ایک معمولی سے خاندان میں 1921ء میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کرتا ہے ۔ حضرت حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان جب 1934ء میں مبارک پور کی سر زمین پر جلوہ گر ہوتے ہیں آپ کی آمد کے بعد مدرسہ اشرفیہ شہرتوں کے بام عروج پر پہنچتا ہے تو اس کی صدائے باز گشت گھوسی کی سر زمین پر بھی سنائی دیتی ہے وہ فقیہ اعظم ہند جو اس وقت صرف ’’محمد شریف الحق‘‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے

محبوب العلما حضرت محبوب مینا شاہ کی ہمہ جہت شخصیت کے چند گوشے

محبوب مینا شاہ

شوسل میڈیا کے ذریعہ اہل سنت وجما عت کے عظیم المرتبت، صاحب شوکت و سطوت ،محبوب العلما والمشائخ پیر طر یقت حضرت محبوب میناشاہ کی ر حلت کی خبر ملی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اس جان کاہ خبر نے جما عت اہل سنت کے ہر ہر فرد کو محزو ن و مغموم کر دیا خصوصاً آپ کے مر ید ین و معتقد ین کے لئے شد ید تکلیف کی با ت ہے چو نکہ حضرت محبو ب العلما اپنے مر یدین و معتقدین کی اصلا ح و پر داخت رسماً کسی اورشیخ کی طر ح نہیں بلکہ ایک والد ومر بی کی حیثیت سے فر ما یا کر تے تھے

آہ۔۔! صدآہ۔۔!حضرت حاجی نسیم الدین رضوی: ایک اور سالارِ قافلہ بھی جاتا رہا : احمدرضا صابری

حاجی نسیم الدین رضوی

ابھی ابھی خبر موصول ہوئی کہ فخر بہار حضرت علامہ الحاج محمد نسیم الدین رضوی ، جامعہ قادریہ مقصود پور کا وصال ہوگیا۔ مختصر سی علالت کے بعد آج بغرض علاج مظفرپور روانہ ہوئے تھے، راستے ہی میں مالک حقیقی سےجاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

علامہ ابو الحقانی کی رحلت دنیائے علم وفن کا ایک ناقابل تلافی نقصان!!

Abul-Haqqani-3

کرونا نے جہاں دنیا کے تمام اسباب وعلل کو متاثر کیا وہیں ان دنوں علمائے ربانیین ،مشائخ عظام ومحدثین اسلام بڑی تیزی کے ساتھ آخرت کی طرف رخت سفر ہیں ۔ہر روز ایک نہ ایک عالم دین وشیخ طریقت کی موت کی خبر سے ملت اسلامیہ میں غموں کی لہر دوڑ سی گئی ہے ۔حضرت محدث اسلام حضرت علامہ الحاج مفتی محمد حسین ابو الحقانی قدس سرہ کے انتقال کی خبر نے دنیائے سنیت کو غمزدہ کردیا ۔

حضرت شاہ محبوب مینا کی ذات خانقاہ کی آبرو تھی:مولانا قمرالزماں مصباحی مظفرپوری

Mahboob-Meena

خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت مولانا قمرالزماں مصباحی مظفرپوری نے کہا کہ علماء و مشائخ کی صف میں عزت و تکریم کی نظروں سے دیکھی جانے والی عظیم شخصیت، پیر طریقت ،رہبر راہ شریعت حضرت الحاج الشا ہ محبوب مینا علیہ الرحمہ کی وفات حسرت آیات پوری جماعت اہل سنت کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے جہاں آپ نے احسان وسلوک کی راہ میں بےنفسی، تواضع، انکساری اور خدا ترسی کی کہکشاں بچھائی تاکہ لوگ پروردگار کے قرب کی لذتوں سے

ترک سلطنت مخدوم پاک کی عظیم قربانی : شمس الزماں خان صابری

مخدوم جہانگیر اشرف

آج کل عبـقری اور نابـغہ کا لفظ بہت سستا ہوگیا ہے۔ ہر تیسرا چوتھا پڑھا لکھا آدمی خود کو عبقـری اور نابغہ کہـلوانے پر مصر ہےاور علامہ ہوناتو ہر ایک کے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کا کھیل بن گیا ہے۔ جس کی بـازار میں ذرا سی بکری ہوئی،وہ عبـقری بن جـاتـا ہے اور جس کو معمولی سی قوتِ ناطقہ ملی تو وہ نابغہ بن جاتا ہے۔ حالاں کہ سر منڈوانے سے کوئی قلندر اور یونان میں پیدا ہونے سے کوئی سکندر نہیں ہوجاتا ، آدابِ قلندری سے ہر شخص آگاہ نہیں ہوتا اور شانِ سکندری کا ہر شخص حامل نہیں ہوتا۔ اس لیے عبقری اور نابغہ صدی بھر میں معدودےچند ہی ہوتے ہیں

مولانا ابوالحقانی جیسی ہستی صدیوں بعد وجود میں آتی ہے : محمد قمرالزماں مصباحی مظفرپوری

ابوالحقانی

آپ جیسی عبقری الشرق ہستی صدیوں بعد وجود میں آتی ہے آپ نے ازہر ہند اشرفیہ مبارک پور سے فراغت کے بعد مدرسہ فیض الغربا آرا کے مسند تدریس کو زینت بخشی اور اپنی علمی صلاحتیوں سے مدرسہ کے وقار میں چار چاند لگادیا اس درمیان بہت سارے قابل قدر شاگرد پیدا کئے جن کی زریں خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے اور جب آپ نے خطابت کی دنیا میں قدم رکھا تو پورے یورپ و ایشیاء میں خطابت کے حوالے سے آپ کی ذات سکہ رائج الوقت بن گئی۔

مولانا ابو الحقانی اسلام کے مخلص داعی تھے : مولانامحبوب گوہر

مولانا ابوالحقانی

مظفرپور (پریس ریلیز)مذہبی جلسوں اور دینی کانفرنسوں کے آفاق پر ایک عرصہ تک چھائے رہنے والے عظیم المرتبت داعی اسلام خطیب عرب و عجم حضرت علامہ ابو الحقا نی نوراللہ مرقدہ کے وصال سے دنیائے اہل سنت میں میں اضطرابی کیفیت طاری ہونے کے ساتھ ہی ایک خلا کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔