تعلیمات حضرت محی الدین سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی

تعلیمات غوث اعظم

*تعلیمات حضرت محی الدین سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی* *تحریر: حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور* حضرت سیدنا شیخ محبوب سبحانی نے فرمایا کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے جبکہ محققین و متکلمین کے نزدیک ایمان نام ہے ان امور کی تصدیق کا جو نبی اکرم ﷺ لائے۔ البتہ احکام اسلام تب جاری … Read more

حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمة اللہ علیہ

آپ کے مجاہدہ کے بارے بیان کیا جاتا ہے کہ آپ بارہ سال تک تقسیم لنگر کا فریضہ انجام دیتے رہے اور لنگر کا ایک دانہ بھی منھ میں نہ ڈالا کیونکہ آپ کو صراحةً کھانے کی اجازت نہ تھی کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا جسم نحیف و ناتواں ہو گیا اور جب بھوک کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی تو جنگلوں میں جاکر پھول پھل کھاکر بھوک مٹاتے پھر تقسیم لنگر میں لگ جاتے ۔ یہ سلسلہ یونہی بارہ سال تک چلتا رہا جس کے سبب جسم اطہر پراستخواں ظاہر ہو گئے یہ حال دیکھ کر با با صاحب آپ سے بولے بیٹا علاؤالدین! تم صرف کھاناہی تقسیم کرتے

اعلی حضرت فاضل بریلوی:علوم وفنون کے بحر بیکراں

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان کی ذات وہ فرد فرید ہے جنھوں نے اپنی پوری زندگی امت مسلمہ کو باغیان اسلام کی ریشہ دوانی اور ان کے دام تزویر سے بچانے کے لیے اپنی علمی و فکری و فقہی و قلمی توانائی صرف فرمائی ، وہ اعلی حضرت جنہوں نے اپنے نوک قلم سے اس دور میں جنم لینے والے فتن و مفاسد کا قلع قمع فرمایا، اور ناموس رسالت پر شب خون مارنے والے شرپسند عناصر کی کلک رضا سے ایسی ضرب کاری لگائی

فاضل بریلوی کی محیرالعقول شعری جہات

اردو شاعری میں جن شخصیات سے میں حد درجہ متاثر ہوں وہ ہیں علامہ اقبال اور فاضل بریلوی۔۔۔اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ انہوں نے خود کو کسی لیلی‌‌‌ یا شیریں کے نین نقش، لب و رخسار، کاکل شب آشنا و گردن صراحی نما کی تصویر کشی میں گم نہیں کیا۔بلکہ ایک نے اپنی شاعری سے قوم کے مردہ جسم میں قیسانہ طور پر جان ڈالنے کی تحریک چلائی تو دوسری نے مسلمانوں کے قالب مظلم میں عشق سرمدی کی شعاعیں بکھیرنے کے لئے فرحادانہ تیشہ بکف، اندھیروں سے لڑائی لی۔

اعلی حضرت اور ذکر خدا عزو جل!!

ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ جس کے بارے میں یہ جـاننا ہو کہ وہ کتنا بڑا اللہ والا ہے اس کے پاس بیٹھو اس کی باتیں سنوں جس کی مجلسوں میں جس کی باتوں میں جتنا زیادہ اللہ کا نام آئیگا سمجھ جاؤ کہ وہ اتنا ہی بڑا اللہ والا ہے الحمد للہ جب میں اعلی حضرت کو پڑھتاہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مجلس ان کی ایسی نہیں جو ذکر اللہ سے خالی ہو ان کی تصنیف کا کوئی صفحہ ایسا نہیں جو اللہ کے ذکر سے خالی ہو ہر صفحے پر "سبحان اللہ ” الحمد للہ”بحمد اللہ "و بااللہ توفیق”بفضلیہ تعالی”بعون الملک الوھاب”

پردہ:فتاویٰ امام احمدرضا کی روشنی میں

       حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد انصار کی عورتیں سیاہ چادروں سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر اس طرح سکون اور وقار سے باہر نکلتیں گویا ان کے سروں پر کوے ہیں ۔حضرت مجاہد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اگر عورتیں چادریں اوڑھے ہوئے ہوں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ عصمت شعار آزاد عورتیں ہیں،

امام احمد رضا ایک عظیم علمی شخصیت 

چودہوں صدی ہجری کے اوائل میں اُفق عالم پر طلوع ہونے والا ایک عظیم علمی آفتاب جس نے اپنی ضو بار کرنوں سے اکناف عالم کو منور ومجلی کردیا، اہل باطل کی جانب سے چلائے گئے طوفانوں کے لاکھ دھول ڈالنے کے باوجود جس کی تابناکی میں ذرہ بھر بھی کمی نہ ہوئی بلکہ مزید نکھرتی اور سنورتی گئی وہ عظیم علمی شخصیت، اعلی حضرت، امام اھل سنت، مجدد دین وملت، حضرت علامہ ومولانا مفتی الحاج الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی ہے ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری تاریخ کی روشنی میں!

تاریخ کاہر دور شاہد ہے کہ حق پرست علماء و عرفاء نے دین متین کے خلاف اٹھنے والے ان بے ہنگم فتنوں کا سر کچل کر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دین آج تک محفوظ ہے۔ لیکن ان فتنوں کو پیدا کرنے والے،انہیں ہوا دینے والے فنا کے گھاٹ اتر گئے، اور کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کی راکھ اڑ کرکس شمشان گھاٹ میں دفن ہوئی۔ جبکہ دین حق کی حفاظت کرنے والے اس برگ وبارکو اپنی رگوں کے خون سے سیراب کرنے والے محافظین رحمت حق کے جوار میں آباد ہیں اور لوگوں کے دلوں پر حکومت کررہے ہیں ۔

حیات حضور حفیظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان

خلیفہ حضور شیرنیپال، حضرت قاضیٔ شرع مفتی عبد الحفیظ رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی تہہ دار شخصیت کسی تعارف کے محتاج نہیں،آپ نے صوبہ بہار اور اس سے متصل نیپال کے اطراف و علاقوں میں جو دینی ملی تبلیغی اور سماجی خدمات فتاویٰ،قضا،خطابت اور تنظمیں و مدارس و مساجد قائم کی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی علاقہ میں آپ کی خدمات و شخصیت کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

علامہ نعمان خاں اثرقادری ایک ہمہ جہت شخصیت

حافظ ملت کی ولایت کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ بچہ اپنے وقت کاجیدعالم دین ہوگاچنانچہ أپ نے ان کاداخلہ لے لیاماں باپ نے جس بچہ کوپیارسے اس کے مشفق استاذکے پاس رکھاکہ پورے طورسے علم دین حاصل کرے اورہوابھی ایساہی کہ صدرالصدوراستاذالاساتذہ نعمان ملت الحاج علامہ مولانانعمان خاں قادری اثراعظمی حضورحافظ ملت کی أغوش تربیت میں مسلسل