دونوں ٹیموں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو راجستھان 2008 کے بعد کبھی بھی آئی پی ایل چیمپئن نہیں بن سکا۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یہ ٹیم اپنے دوسرے ٹائٹل کا انتظار کر رہی ہے۔ ایسے میں سنجو سیمسن جیسے تجربہ کار کھلاڑی سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ٹیم کی اس خشک سالی کو ختم کر سکتے ہیں۔ پچھلے سیزن میں، وہ بہت قریب آیا اور ٹرافی اٹھانے سے محروم رہا۔ اس بار ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ٹیم کو چیمپئن بنانے کی کوشش کریں گے۔
سن رائزرس حیدرآباد کی بات کریں تو ڈیوڈ وارنر نے اس ٹیم کو چیمپئن بنایا ہے۔ حالانکہ اب وارنر دہلی کیپٹلس کے کپتان ہیں۔ جنوبی افریقہ ٹی 20 لیگ میں سن رائزرز کو چیمپئن بنانے والے کپتان ایڈن مارکرم کو اس سیزن کے آئی پی ایل میں بھی فرنچائز نے ٹیم کی کمان سونپی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا نیا کپتان آئی پی ایل جیسی بڑی لیگ میں کمال کر سکتا ہے یا نہیں۔
مغربی بنگال کی سیاست:جمہوریت، جرم اور اقتدار کا خطرناک سنگم مغربی بنگال کی سیاست ایک… Read More
تمل ناڈو اسمبلی انتخاب : ایک جائزہ !! غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی روشن مستقبل دہلی… Read More
آٹھواں عرس واجدی و حضور مفسر اعظم ہند سیمینار اختتام پزیر حضرت امین شریعت ثالث… Read More
از: علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ والرضوان ڈیجیٹل کاپی کی اشاعت: الرضا نیٹ ورک بریلوی دور… Read More
مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More