Categories: کھیل و صحت

میراتھن میں رننگ پلیئر کو دوڑائیں، کرکٹ کھلانے کی کیا ضرورت ہے، سہواگ نے ایسا کیوں کہا؟

[ad_1]

جھلکیاں

سہواگ یو یو ٹیسٹ سے خوش کیوں نہیں ہیں؟
ویرو نے یہ بات چوپال اسٹیج پر کہی۔

نئی دہلی. بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق دھماکہ خیز اوپنر وریندر سہواگ نے یو یو ٹیسٹ کے حوالے سے بڑا بیان دے دیا ہے۔ سہواگ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو بھاگنے والا کھلاڑی چاہیے تو اسے میراتھن میں دوڑائیں، کرکٹ کھلانے کی کیا ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں ٹیم انڈیا میں شامل ہونے کے لیے کھلاڑیوں کو یو یو ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس ٹیسٹ کو پاس کرنے والے کھلاڑی کو مزید سمجھا جاتا ہے۔ جب ویرو کرکٹ کھیلتا تھا تو اس طرح کا کوئی امتحان نہیں تھا۔

یہ بات ملتان کے سلطان کے نام سے مشہور سہواگ نے کہی۔ نیوز 18 انڈیا کا چوپال سٹیج پر کہا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آپ کے دور میں جب کھلاڑی فارم سے دوچار ہوتے تھے تو وہ گھنٹوں گراؤنڈ پر پریکٹس کرتے تھے لیکن آج کے کرکٹرز گراؤنڈ کے بجائے جم میں پسینہ بہانا پسند کرتے ہیں؟ اس پر سہواگ نے کہا، ‘ہمارے وقت میں جم کا اتنا کریز نہیں تھا۔ ہم زمین پر زیادہ وقت گزارتے تھے۔ میرا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کی مہارت کو دیکھنا چاہیے۔ آج کل یو یو ٹیسٹ ہو رہا ہے۔ آپ کسی کھلاڑی کو چلا کر اس کی مہارت کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں۔ اگر اسے دوڑانا ہے تو میراتھن میں بھیجیں، کرکٹ کھلانے کی کیا ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:5 کرکٹرز بغیر شادی کے باپ بن گئے، کچھ نے طلاق لے لی اور کچھ سات وعدے پورے کر رہے ہیں، 2 بھارتی بھی شامل

داماد نے ٹائٹل جیت لیا، کیا سسر ٹیم کو چیمپئن بنا پائیں گے، ایشیا لائنز بمقابلہ ورلڈ جائنٹس زبردست میچ

سہواگ نے اس پلیٹ فارم پر آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میچ ہوتا تھا تو لگتا تھا کہ کھلاڑیوں کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے لیکن جب ہم میدان کے باہر ملے تو ہم دوست تھے۔ نجف گڑھ کے نواب کہلائے جانے والے سہواگ نے بھی اپنے علاقے کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ نجف گڑھ میں پیدا ہوئے۔

‘ہم ایک دوسرے کو سیر کے لیے لے جاتے تھے’
سابق دائیں ہاتھ کے بلے باز کا کہنا تھا کہ ‘بھارت اور پاکستان کا میچ جنگ کی طرح ہوا کرتا تھا لیکن میدان کے باہر ہم ایک دوست کی طرح ملتے تھے۔ جب پاکستانی کھلاڑی بھارت آتے تھے تو ہم انہیں کھانے اور سیر کے لیے لے جاتے تھے اور جب ہم ان کی جگہ جاتے تھے تو وہ ہمیں ٹور پر لے جاتے تھے۔ اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے سہواگ نے یہ بھی بتایا کہ پہلے ان کے والد نے کرکٹ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا لیکن بعد میں چچا کے کافی سمجھانے کے بعد سہواگ کے والد نے اپنے بیٹے کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی۔

ٹیگز: ٹیم انڈیا، وریندر سہواگ

[ad_2]
Source link
alrazanetwork

Recent Posts

دورِ حاضر میں بریلوی اہل سنت کا علامتی نشان

از: علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ والرضوان ڈیجیٹل کاپی کی اشاعت: الرضا نیٹ ورک بریلوی دور… Read More

3 دن ago

مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ

مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ   محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More

1 ہفتہ ago

بنگال میں ایس آئی آر : نشانے پر مسلمان!

بنگال میں ایس آئی  آر : نشانے پر مسلمان! محمد حفیظ الدین سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر… Read More

1 ہفتہ ago

بے میل شادیاں!

بے میل شادیاں! ___اب تک سنیما اور سیاست سے وابستہ افراد ہی بے میل شادیاں… Read More

2 ہفتے ago

AL-Raza March, April 2026 Final الرضا انٹرنیشنل

الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 الرضا انٹر نیشنل مارچ اپریل 2026 Read More

2 ہفتے ago

اسلام اور تلوار کا بیانیہ: حقیقت یا مفروضہ

اسلام اور تلوار  کا بیانیہ: حقیقت یا مفروضہ شمس آغاز ایڈیٹر ،دی کوریج 9716518126 shamsaghazrs@gmail.com… Read More

1 مہینہ ago