ترک سلطنت مخدوم پاک کی عظیم قربانی : شمس الزماں خان صابری

مخدوم جہانگیر اشرف

آج کل عبـقری اور نابـغہ کا لفظ بہت سستا ہوگیا ہے۔ ہر تیسرا چوتھا پڑھا لکھا آدمی خود کو عبقـری اور نابغہ کہـلوانے پر مصر ہےاور علامہ ہوناتو ہر ایک کے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کا کھیل بن گیا ہے۔ جس کی بـازار میں ذرا سی بکری ہوئی،وہ عبـقری بن جـاتـا ہے اور جس کو معمولی سی قوتِ ناطقہ ملی تو وہ نابغہ بن جاتا ہے۔ حالاں کہ سر منڈوانے سے کوئی قلندر اور یونان میں پیدا ہونے سے کوئی سکندر نہیں ہوجاتا ، آدابِ قلندری سے ہر شخص آگاہ نہیں ہوتا اور شانِ سکندری کا ہر شخص حامل نہیں ہوتا۔ اس لیے عبقری اور نابغہ صدی بھر میں معدودےچند ہی ہوتے ہیں

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج بھی نا! (قسط اول)

سیمانچل کا پیر پرستانہ مزاج

جی!سیمانچل کے مذہبی طبقے کا مزاج بھی غضب ڈھاتا ہے۔یہ صرف اپنے ممدوح پیر کی سنتا ہے باقی کسی کی نہیں۔بلکہ بعض مواقع تو ایسے دیکھے گئے ہیں کہ لوگ دین و سنیت کے واجبی حکم پر بھی پیر کی راۓ کو ترجیح دیتے ہیں۔جب کہ پیر صاحب خالص پیر صاحب ہے انہیں اسلامیات پر کوئی درک نہیں ہے۔دینیات کی گہری سوجھ بوجھ بھی نہیں ہے۔فقہیات سے کوئی قریبی رابطہ بھی نہیں۔بندوں کو خدا سے جوڑنے کا ایسا کوئی کام بھی ان کے کھاتے میں درج نہیں ہے جسے قابل ذکر سمجھ کر تحسین و آفرین کہا جاۓ۔حلقۂ ارادت کو بھی گروہی عصبیت کا زنگ لگا بیٹھے ہیں۔

مولانا ابوالحقانی جیسی ہستی صدیوں بعد وجود میں آتی ہے : محمد قمرالزماں مصباحی مظفرپوری

ابوالحقانی

آپ جیسی عبقری الشرق ہستی صدیوں بعد وجود میں آتی ہے آپ نے ازہر ہند اشرفیہ مبارک پور سے فراغت کے بعد مدرسہ فیض الغربا آرا کے مسند تدریس کو زینت بخشی اور اپنی علمی صلاحتیوں سے مدرسہ کے وقار میں چار چاند لگادیا اس درمیان بہت سارے قابل قدر شاگرد پیدا کئے جن کی زریں خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے اور جب آپ نے خطابت کی دنیا میں قدم رکھا تو پورے یورپ و ایشیاء میں خطابت کے حوالے سے آپ کی ذات سکہ رائج الوقت بن گئی۔

مولانا ابو الحقانی اسلام کے مخلص داعی تھے : مولانامحبوب گوہر

مولانا ابوالحقانی

مظفرپور (پریس ریلیز)مذہبی جلسوں اور دینی کانفرنسوں کے آفاق پر ایک عرصہ تک چھائے رہنے والے عظیم المرتبت داعی اسلام خطیب عرب و عجم حضرت علامہ ابو الحقا نی نوراللہ مرقدہ کے وصال سے دنیائے اہل سنت میں میں اضطرابی کیفیت طاری ہونے کے ساتھ ہی ایک خلا کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔

مولانا ابوالحقانی میدان خطابت کے بے تاج بادشاہ تھے : مولانا آل مصطفی مرکزی مظفرپوری

Abul Haqqani

اصلاح و تذکیر آپ کی تقریر کا خاص عنوان ہوتا اورجو بات کہتے دل سے نکلتی اور دل پر اثر کرتی ۔آپ کے وصال سے ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا جس کا پر ہونا مشکل ہے ۔حضرت مولانا جلال الدین رضوی بانی جامعہ حضرت مریم درگ نے کہا کہ آپ کی ذات دنیائے سنیت میں نہایت ممتاز اور معتبر تھی ۔اسلام و سنیت کے فروغ اور مسلک رضا کی نشر واشاعت میں آپ کا کارنامہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے نہایت وسیع النظر عالم دین اور آفاقی ہونے کے باوجود ہر ایک سے بڑے پیار اور شفقت سے پیش آتے۔مولانا سلیم الزماں نوری کمہراری نے کہا کہ آپ کی پوری زندگی دعوت دین حق میں گزری ۔