قربانی کرو، سنت ابراہیمی ادا کرو فائدہ ہی فائدہ!!
مخصوص جانور کو مخصوص ایام میں اللہ تبارک و تعالیٰ کاقُرب حاصل کرنے کے لئے ذَبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی سنّت
مخصوص جانور کو مخصوص ایام میں اللہ تبارک و تعالیٰ کاقُرب حاصل کرنے کے لئے ذَبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی سنّت
قربانی اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔اسی لئے اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے،بارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ جد الانبیاء حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے سورت المائدہ میں حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل و قابیل کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے
آزاد بھارت کا پہلا انتخاب 1952 میں مکمل ہوا تھا۔اس الیکشن نے ملک کی اکثریت کی سوچ اور ان کے مزاج کی جھلک دکھا دی تھی، لیڈران ملک کی بدلتی ہوا کو بھانپ چکے تھے اس لیے کانگریس کی زبردست مقبولیت کے باوجود مذہب اور ذات پر مبنی پارٹیوں نے بھی قسمت آزمائی کی اور کامیابی پائی۔
قربانی کے اصل معنی تقرب اور نزدیکی کے ہیں باری تعالیٰ کی قربت اور نزدیکی کا ایک اہم ذریعہ قربانی ہے خواہ وہ جان و مال کی قربانی ہو یا نفس وقت دیگر اشیائے عزیز کی قرآن حکیم میں اس کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں؛ نسک. نحر۔ اور قربانی ۔
پوری دنیا میں کسبِ معاش کے جتنے بھی ذرائع اور وسائل ہیں ان میں تجارت کا پیشہ بہت اعلیٰ اور معیاری پیشہ ہے اگر چہ تجارت کے علاہ ذراعت و صنعت اور ملازمت جیسے ذرائع بھی ہیں اس کے باوجود تجارت اپنی جگہ افضل ہے
पीछले सात महिनों से रूखी सूखी खाकर, गर्मी, सर्दी एंव बारिश बरदाश्त करते हुवे देश के अन्नदाता किसान एहतेजाज की चादर फैलाए अपना हक़ मांग रहै हैं। लेकिन सरकार पिछले सात महीनों से सुना अनसुना कर रही है।
آج کا انسان اپنی صحت کے بارے میں بہت فکر مند رہتا ہے اور اپنے فائدے کی چیزوں کا استعمال کرتاہے۔لیکن افسوس جہاں دنیا وی فائدے یا نفع ونقصان پر نظر رکھی جاتی ہے جو اچھی بات ہے،لیکن مذہبی نقطہ نظر سے حرام وحلال پربالکل توجہ نہیں دی جاتی
سب سے پہلے حق تعالیٰ نے کیا اظہار میم
جس طرف بھی دیکھیے ہیں اس طرف انوار میم
از:- غلام آسی مونس پورنوی
یہ تحریر کرتے ہوئے ہاتھ تھر تھر کانپ رہےہیں ، قلب بیٹھا جارہا ہے سانسوں نے اپنی رفتار تیز کردی ہے، نظر کے سامنے ایک عجیب قسم کا اندھیر
یوپی کا الیکشن قریب ہے، اسی کے تناظر میں آپ نے موہن بھاگوت کا ہمدردی والا بیان سن لیا ہوگا ، اکھلیش کے مسلم سمیلن کے انعقاد کی خبر یقینا آپ کو ہو چکی ہوگی اور یہ بات بھی آپ کے کانوں تک پہنچ چکی ہوگی کہ کس طرح مختلف پارٹیاں مسلم دھرم گرووں کو اپنی پارٹی میں شامل کر رہی ہیں اور شامل ہونے والے بھی کس طرح سب کچھ بھلا کر بخوشی شامل ہو رہے ہیں۔