آہ ؛علامہ شبیہ القادری چل دیے!
کل رات تقریباً ساڑھے دس بجے محبِ گرامی قدر مولانا ریحان رضا انجم مصباحی صاحب قبلہ کے توسط سے معلوم ہوا کہ اتری بہار کے ایک متبحرِ عالمِ دین، پوکھریرہ شریف کے بلند پایہ فاصل و مفتی، خلیفۂ مفتیِ اعظمِ ہن
کل رات تقریباً ساڑھے دس بجے محبِ گرامی قدر مولانا ریحان رضا انجم مصباحی صاحب قبلہ کے توسط سے معلوم ہوا کہ اتری بہار کے ایک متبحرِ عالمِ دین، پوکھریرہ شریف کے بلند پایہ فاصل و مفتی، خلیفۂ مفتیِ اعظمِ ہن
انسان ہر چیز جسے وہ دیکھتا یا سنتا ہے اس سے متاثر ہوتا ہے، خصوصاً خالی دماغ زیادہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر مظہر کے اثر کا بغور مطالعہ کیا جائے اور اسلامی و غیر اسلامی ذہنیت پیدا کرنے والے مظاہر کے درمیان تمیز پیدا کرکے اسلامی ذہنیت پیدا کرنے والے مظاہر کی بقا و ترقی کا اہتمام کیا جائے
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دن انتہائ اہمیت کے حامل ہیں، ایک 15/اگست جس میں ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا، دوسرا 26/جنوری جس میں ملک جمہوری ہوا یعنی اپنےملک میں اپنے لوگوں پر اپنا قانون لاگو اور نافذ ہوا
جمہوری حکومت کا مطلب ہے ، ملک کی اکثریت کی راے اور ترجیح پر کام کرنے والی حکومت ، جسے سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے مختصر لفظوں میں یوں بیان کیا ہے:
26/جنوری یومِ جمہوریہ کے طور پر ہرسال منا یا جاتاہے،کیونکہ اسی روز مرتب کردہ آئین اسمبلی کے ذریعہ نافذ العمل کیا گیا تھا-اس دن کاپس منظر یہ بھی ہے کہ 1930 میں لاہور کے مقام پر دریائے راوی کے کنارے انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے اجلاس میں جس کی صدارت جواھر لال نہرو نے کی تھی، ڈومنین
بلاشبہ وطن عزیز [ہندوستان] کی تاریخ میں دو دن بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں, ایک 15اگست [یوم آزادی]جس دن ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزادہوا, دوسرا 26جنوری[جسے یوم جمہوریہ یا ری پبلک ڈے Republic Day یا گن تنتر دِوس کہا جاتا ہے] جس دن ملک جمہوری ہوا, یعنی اپنےملک میں اپنےلوگوں پراپناقانون لاگو ہوا-
پولیس نے محمد الطاف کو گرفتار کیا۔ الزام تھا، وہ ایک لڑکی کو لے کر فرار ہو رہا تھا۔ دوسرے دن بھلے چنگے نو جوان کی لاش ملی۔ اسے حراست میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے صفائی پیش کی، ملزم نے ٹوائلیٹ کی دو فٹ اونچی ٹونٹی سے لٹک کر خود کشی کر لی ہے؛ شاملی ضلع ، اتر پردیش کے محمد صلاح الدین کو یوپی پولیس نے 1995ء میں چار کارتوس رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا،
1857 کے جاں باز مجاہد کے بارے میں سپرد قرطاس کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے پچھلے صفحات پلٹ کر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے تاکہ واضح ہوجائے کہ بھارت کس سنگین حالات سے گزر رہا تھا ـ
عظیم نقاد، سب رنگ ادیب، کہنہ مشق فقیہ ، صوفی ، شاعر ، مورخ ، محدث، کنز الدقائق ، حضرت علامہ مفتی حسن منظر قدیری صاحب علیہ الرحمہ کی پیدایش 12/ اپریل، 1948ء کو، گانگی ٹولہ، پتھار بستی، بہادر گنج ، ضلع کشن گنج بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔
آج جب بہ وقت سحر بروز پیر بہ مطابق ١٠ جنوری ٢٠٢٢ء یہ روح فرسا خبر ملی کہ دنیائے سنیت کی عظیم علمی و عبقری شخصیت میرے نہایت ہی کرم فرما استاذ، فقیہ اسلام حضرت علامہ مولانا مفتی آل مصطفی صاحب قبلہ مصباحی (جنہیں اب "رحمۃاللہ علیہ” کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آیا چاہتا ہے) اس دھوپ بھری دنیا کو چھوڑ کر عدم کی بے کراں وادیوں کی طرف کوچ کر گئے