1857ء کے جاں باز مجاہد
1857 کے جاں باز مجاہد کے بارے میں سپرد قرطاس کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے پچھلے صفحات پلٹ کر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے تاکہ واضح ہوجائے کہ بھارت کس سنگین حالات سے گزر رہا تھا ـ
1857 کے جاں باز مجاہد کے بارے میں سپرد قرطاس کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے پچھلے صفحات پلٹ کر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے تاکہ واضح ہوجائے کہ بھارت کس سنگین حالات سے گزر رہا تھا ـ
عظیم نقاد، سب رنگ ادیب، کہنہ مشق فقیہ ، صوفی ، شاعر ، مورخ ، محدث، کنز الدقائق ، حضرت علامہ مفتی حسن منظر قدیری صاحب علیہ الرحمہ کی پیدایش 12/ اپریل، 1948ء کو، گانگی ٹولہ، پتھار بستی، بہادر گنج ، ضلع کشن گنج بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔
آج جب بہ وقت سحر بروز پیر بہ مطابق ١٠ جنوری ٢٠٢٢ء یہ روح فرسا خبر ملی کہ دنیائے سنیت کی عظیم علمی و عبقری شخصیت میرے نہایت ہی کرم فرما استاذ، فقیہ اسلام حضرت علامہ مولانا مفتی آل مصطفی صاحب قبلہ مصباحی (جنہیں اب "رحمۃاللہ علیہ” کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آیا چاہتا ہے) اس دھوپ بھری دنیا کو چھوڑ کر عدم کی بے کراں وادیوں کی طرف کوچ کر گئے