ہر شہر جس نے شہر خموشاں بنادیا!!

ہر شَہْر جس نے شَہْرِ خموشاں بنا دیا

✍️: شمیم رضا اویسی امجدی مدینۃ العلماء گھوسی، مئو، یوپی


ایک عجیب سی بے چینی اور اضطرابی کیفیت طاری ہے کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے اتنی کثرت سے اموات، سکستی انسانیت، جید علماء کے قافلے کا برق رفتاری سے منزلِ اصلی کی طرف بڑھنا، ہر وقت دل کو تڑپا رہا ہے، اندر سے چیخیں اٹھ رہی ہیں، زندگی کے سکون پامال ہو رہے ہیں، لبوں کی مسکراہٹ غارت ہو رہی ہے، آنکھیں ندیاں بن کر بہنے لگی ہیں، زبانیں استرجاع کے کلمات پڑھ پڑھ کر تھک گئی ہیں، ابھی گزشتہ سال کی سخت مہاماری سے بے حال انسان پوری طرح سنبھلا بھی نہ تھا کہ کرونا کی دوسری خوفناک لہر نے پورے ہندوستان میں ہاہاکار مچا دی ہے، پوری انسانیت تباہ و برباد ہو رہی ہے ، بساطِ عالم پہ بہت کچھ اُتھل پتھل ہو رہی ہے، اس وبائی مرض نے دوسری جنگِ عظیم کی طرح ایک تاریخی واقعے کی شکل اختیار کر لی ہے، انسانی زندگی کے تمام شعبے متاثر ہیں، پوری دنیا بالخصوص ہندوستان شدید بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے، لاک ڈاؤن اور حکومتی قواعد و ضوابط کی وجہ سے بہت ساری کمپنیاں بند ہونے کی کگار پر ہیں، قومی معیشت بے حال ہے اور اِن ناگفتہ بہ حالات سے سب سے زیادہ معاشرے کے متوسط اور غریب طبقے کے لوگ مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں، مختلف امراض میں مبتلا اسپتالوں کی طرف رجوع کرنے والے ہزاروں مریض سہولیات اور وسائل کی عدمِ دستیابی کی وجہ سے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، ہر طرف آہ و فغاں، ہر طرف روتے بلکتے ہوئے لوگ،

شاید ہندوستان کی تاریخ میں ایسا آشوبناک دور چشمِ فلک نے پہلی بار دیکھا ہوگا، جب قبرستان میں جگہ اس قدر تنگ ہو گئی کہ دو گز زمین ملنا بھی مشکل ہو گیا اور حالت یہ بن گئی کہ ایک ہی قبر میں کئی کئی مردے دفنانے پر لوگ مجبور ہو گئے ، شمشان گھاٹ میں لاشوں کو جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑ گئیں ، میت کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے قبرستان اور شمشان کے باہر گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے ، سہمی ہوئی انسانیت اسطرح سانسوں کے درمیان الجھ گئی ہے کہ پلک جھپکتے ہی کب کس کے مرنے کی خبر آ جائے، کب کون کس حال میں کس موڑ پر ساتھ چھوڑ جائے، کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا، اسپتالوں کے اندر مریضوں کی ایک لا تعداد بھیڑ تو اسپتالوں کے باہر دم توڑتے ہوئے مریضوں کی ایک لمبی قطار،

نہ جانے کتنے گھربار تباہ و برباد ہو گئے، نہ جانے کتنے آباد آشیانے اجڑ گئے، نہ جانے کتنے بچے یتیم ہو گئے، نہ جانیں کتنی ماؤں نے اپنے لال کھو دیئے، نہ جانے کتنی بیویوں کے سہاگ لٹ گئے، گویا اس بے بسی اور بے قراری کی صورتحال نے ایک عام ماتمی ماحول پیدا کر دیا ہے،

لہٰذا آج ہمیں ان حالات سے سبق لینے کی ضرورت ہے اِس طور پر کہ ہم سب اپنے خالقِ حقیقی کی طرف لَو لگائیں، سچے دل سے توبہ کریں، اُسکی مرضی اور اُسکے اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کریں، ساتھ ہی ہم سنجیدگی اختیار کریں کہ یہ وقت إلى ربك فارغب کی صدا بلند کرنے کا ہے، یہ موقع ففروا إلى الله، إني لكم منه نذير مبين کی دعوت زور و شور سے اٹھانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا ہے،

دعا ہے رب قدیر امت مسلمہ پر اپنا رحم و کرم فرمائے، جو مسلمان اس وبا کی زد میں آکر اپنی زندگی کی بازی ہار گئے انکی مغفرت فرمائے اور جو باحیات ہیں انہیں سلامتی کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے : آمین

 کیسی وبا یہ پھوٹ پڑی اے مرے خدا !
ہر شَہْر جس نے شَہْرِ خموشاں بنا دیا

٢٠/ رمضان المبارک ١٤٤٢ھ
3/ مئی 2021 ء
بروز سوموار


الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

 کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟

کیا مسلمانوں میں اتحاد ممکن ہے؟ – فرقہ واریت اور اسلامی اتحاد کی حقیقت | جاوید اختر بھارتی

Views: 27  کیا مسلمانوں میں اتحاد کی گنجائش ہے؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں آتی ہے اور کبھی کبھی اخباروں کے صفحات پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بیان دیتا ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اندر اتحاد ہونا ہی سرخرو … Read more

0 comments
جدید الحاد اسباب اور سد باب

جدید الحاد ، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ

Views: 33 جدید الحاد، اسباب اور سد باب ایک تجزیاتی مطالعہ از قلم:مفتی محمد رضا قادری مصباحی نقشبندی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ ” الحاد” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے انحراف کرنا ، راستے سے ہٹ جانا ،الحاد کو انگریزی میں (Atheism) کہا جاتا ہے جس کا مطلب … Read more

0 comments
نتیش کمار اور بہار کی سیاست

نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش

Views: 70 نتیش کی واپسی بہار کی سیاست کا نیا مرحلہ: عوامی مفاد اور قیادت کی آزمائش بہار میں آج نتیش کمار دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں ایک نئی حکومتی ترتیب کی بنیاد پڑ رہی ہے۔ این ڈی اے قانون سازیہ … Read more

0 comments
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں؟

Views: 97 مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ (جب جاگو تبھی سویرا) تحریر: جاوید اختر بھارتی javedbhati.blogspot.com آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا … Read more

0 comments
Rahul Gandhi on Vote Adhikar Yatra

راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر

Views: 93 راہل گاندھی کی یاترا، ووٹ چوری اور بہار میں ایس آئی آر شمس آغاز ایڈیٹر،دی کوریج ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں ہر شہری کو مساوی حقِ رائے دہی حاصل ہے۔ ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ کا اصول اس نظام کی بنیاد ہے، اور یہی اصول ملک کو کثرت … Read more

0 comments

Leave a Comment