مغربی بنگال میں عوامی فلاحی اسکیمیں: ایک جائزہ

محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحاد ویلفیئر سو سائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
7866912957
مغربی بنگال کی موجودہ سیاسی و سماجی فضا میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ریاستی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں جس انداز سے فلاحی اسکیموں کو متعارف کرایا اور انہیں عملی جامہ پہنایا ہے، وہ ایک ایسے ماڈل کی عکاسی کرتا ہے جس میں ترقی کو صرف معاشی پیمانوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ سماجی انصاف، انسانی وقار اور عوامی شمولیت کو بھی برابر کی اہمیت دی گئی ہے۔ ان اسکیموں کا مقصد محض وقتی ریلیف فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مستحکم اور خودکفیل معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
ریاست کی آبادی کا ایک بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں بنیادی سہولیات کی کمی، روزگار کے محدود مواقع اور تعلیمی پسماندگی جیسے مسائل درپیش رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیمیں ان مسائل کے حل کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ خاص طور پر خواتین، کسانوں، مزدوروں، طلبہ اور غریب طبقات کے لیے بنائی گئی پالیسیاں اس بات کی غماز ہیں کہ حکومت نے سماج کے ہر طبقے کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی ہے۔
لکشمی بھنڈار اسکیم خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے خواتین کو ماہانہ مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے وہ نہ صرف اپنے ذاتی اخراجات پورے کر سکتی ہیں بلکہ گھریلو معیشت میں بھی فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ اس اسکیم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے اندر خوداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنے فیصلے خود لینے کے قابل ہوئی ہیں۔ دیہی علاقوں میں اس اسکیم کے اثرات اور بھی نمایاں ہیں، جہاں خواتین کو پہلے مالی وسائل تک رسائی حاصل نہیں تھی۔
کنیا شری اسکیم نے تعلیم کے میدان میں ایک مثبت انقلاب برپا کیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اس اسکیم کے بنیادی مقاصد ہیں۔ اس کے تحت لڑکیوں کو مختلف تعلیمی مراحل پر مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف ان کی تعلیمی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ والدین کو بھی اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانے کی ترغیب ملتی ہے۔ اس اسکیم کے نتیجے میں اسکولوں اور کالجوں میں لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور سماجی سطح پر بھی شعور بیدار ہوا ہے کہ تعلیم ہی ترقی کی کنجی ہے۔
سواستھ ساتھی اسکیم صحت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم ہے۔ اس کے تحت لاکھوں خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈ فراہم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے وہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مفت یا کم خرچ پر علاج کرا سکتے ہیں۔ اس اسکیم نے خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کو بڑی راحت فراہم کی ہے، جو پہلے مہنگے علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر تھے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر ہوئی ہے بلکہ عوام میں صحت کے حوالے سے شعور بھی بڑھا ہے۔
سبوج ساتھی اسکیم تعلیم کے فروغ کے لیے ایک عملی اقدام ہے، جس کے تحت طلبہ کو مفت سائیکل فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ بآسانی اسکول جا سکیں۔ یہ اسکیم خاص طور پر دیہی علاقوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوئی ہے، جہاں اسکولوں تک پہنچنا ایک بڑا مسئلہ ہوتا تھا۔ سائیکل کی فراہمی نے نہ صرف طلبہ کی حاضری میں اضافہ کیا ہے بلکہ ان کے اندر خودمختاری اور ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کیا ہے۔
کرشک بندھو اسکیم کسانوں کے لیے ایک جامع فلاحی پروگرام ہے، جس میں انہیں مالی امداد کے ساتھ ساتھ انشورنس کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ کسانوں کو اکثر موسمی تغیرات، قدرتی آفات اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے انہیں ایک مالی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جس سے وہ ان مشکلات کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکتے ہیں۔
روپاشری اسکیم سماجی مسائل کے حل کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ غریب خاندانوں کے لیے بیٹیوں کی شادی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، جس کے باعث وہ اکثر قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت حکومت شادی کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے، جس سے یہ بوجھ کسی حد تک کم ہو جاتا ہے اور خاندان عزت کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔
کھادیا ساتھی اسکیم کے تحت غریب عوام کو سستی قیمت پر اناج فراہم کیا جاتا ہے، جس سے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ اسکیم اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ کوئی بھی فرد بھوکا نہ رہے اور ہر شہری کو بنیادی خوراک میسر ہو۔
اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایک اہم سہولت ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کم سود پر قرض حاصل کر کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس اسکیم نے خاص طور پر ان طلبہ کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں جو مالی مشکلات کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔
کرم شری، یووا ساتھی اور اتکرشا بنگلہ جیسی اسکیمیں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان اسکیموں کے تحت مختلف تربیتی پروگرامز اور اسکل ڈیولپمنٹ کورسز فراہم کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر خودکفیل بن سکتے ہیں۔
دوارے سرکار ایک منفرد اور عوام دوست پہل ہے، جس کے تحت حکومت خود عوام کے دروازے تک جا کر انہیں مختلف اسکیموں کا فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس اقدام نے سرکاری خدمات کو عام آدمی کے لیے آسان بنا دیا ہے اور بدعنوانی کے امکانات کو بھی کم کیا ہے۔
چا سندری اسکیم چائے کے باغات میں کام کرنے والی خواتین کی فلاح کے لیے بنائی گئی ہے، جبکہ شیشو ساتھی اسکیم بچوں کی صحت و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بنگلہ آواس یوجنا کے تحت بے گھر افراد کو رہائش فراہم کی جا رہی ہے، جو ایک باعزت زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت نے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو سوِک والنٹیئر کے طور پر روزگار فراہم کیا ہے، جس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئی ہے بلکہ سماجی خدمات کے دائرے کو بھی وسعت ملی ہے۔ یہ نوجوان مختلف عوامی خدمات میں حصہ لے کر نہ صرف اپنی معاشی ضروریات پوری کر رہے ہیں بلکہ سماج کی بہتری میں بھی
کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان تمام اسکیموں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ اقدامات ایک جامع فلاحی نظام کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ اسکیمیں نہ صرف موجودہ مسائل کا حل پیش کرتی ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں۔
مزید برآں، ان اسکیموں نے ریاست میں عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو بھی مضبوط کیا ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ان کی فلاح کے لیے سنجیدہ ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تو وہ بھی ریاستی ترقی میں بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ یہی باہمی اعتماد کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔
تعلیم، صحت، روزگار، خوراک اور رہائش جیسے بنیادی شعبوں میں ان اسکیموں کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ریاستی حکومت نے ایک متوازن اور ہمہ جہت ترقیاتی ماڈل اپنایا ہے۔ اگر ان منصوبوں کو اسی تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے اور ان میں مزید بہتری لائی جائے تو مغربی بنگال نہ صرف ملک کے دیگر ریاستوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے بلکہ ایک مثالی فلاحی ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
ان فلاحی اسکیموں نے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ یہ اسکیمیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں جہاں مساوات، انصاف اور ترقی کے مواقع سب کے لیے یکساں ہوں۔ یہی وہ وژن ہے جو کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک