*امت کی مجموعی ترقی کا لائحۂ عمل: مفتی قیام الدین قاسمی
*تبصرہ: محمد رافع ندوی* استاذ جامعہ اسلامیہ مظفرپور اعظم گڑھ

میرے سامنے اس وقت جو کتاب ہے، اس کا نام ہے”امت کی مجموعی ترقی کا لائحۂ عمل“، جس کے مصنف ہیں مفتی قیام الدین قاسمی۔
کتاب کی طباعت خوب صورت، کاغذ عمدہ اور ضخامت بھی مناسب ہے۔ کل صفحات کی تعداد 350 ہے۔ کتاب کے جاذبِ نظر سرورق پر کچھ اہم نکات درج کیے گئے ہیں، جیسے: امت کی ترقی کا فارمولا اور فیلڈ ورک، سماجی مسائل اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل، فرد کے مسائل اور ایک عظیم فرد کی تشکیل، قیادت پاور، علماء، طلبہ اور اسکالر، ایک جامع نظامِ تعلیم کی تشکیل، سروے اور خاکے، تجربات اور فیلڈ ورک۔ ان عناوین سے کتاب کے مشمولات و محتویات پر کافی حد تک روشنی پڑ جاتی ہے۔
سرورق کی پیشانی پر چھوٹے حروف میں علماء کرام کے کلماتِ عالیہ بھی درج کیے گئے ہیں، جن سے ایک نظر میں کتاب کی اہمیت اور اس کی وقعت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے لکھا ہے:
”آپ کی یہ کتاب بڑی قابلِ قدر ہے، ہر پڑھے لکھے مسلمان کے مطالعے میں رہنا چاہیے۔“
مولانا سلمان صاحب بجنوری، استاذ دارالعلوم دیوبند، کا ایک اقتباس درج ہے کہ:
”اس کتاب سے فکر و نظر کے بہت سے دریچے کھلیں گے اور یہ امت کے مستقبل کے لیے فکرمند لوگوں کے حق میں بلاشبہ معاون ثابت ہوگی۔“
مشہور اسکالر مولانا رضی الاسلام صاحب ندوی نے لکھا ہے:
”امید ہے کہ امت کی فلاح و بہبود کے خواہاں حلقوں میں اس کا استقبال کیا جائے گا اور اس سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔“
کتاب کا انتساب بھی بہت زبردست ہے، جس سے مصنف کے جوش و جذبے اور امتِ مسلمہ کی بیداری کے تئیں ان کے عزم و حوصلے کی غمازی اور عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے اس کتاب کو اس دماغ کے نام منسوب کیا ہے جو قومِ مسلم کی ترقی کے لیے سوچ رہا اور پلان بنا رہا ہے، اس دل کے نام جو امت کی تقویت کے لیے دھڑک رہا ہے، اور اس آنسو کے نام جو ملتِ اسلامیہ کی خستہ حالی سے دل گرفتہ ہو کر بہہ رہا ہے۔
مولانا رضی الاسلام ندوی لکھتے ہیں کہ کتاب کے مصنف مولانا قیام الدین قاسمی نے دارالعلوم دیوبند سے فضیلت اور تکمیلِ ادب کرنے کے بعد مرکز المعارف، ممبئی سے انگریزی میں ڈپلومہ کیا ہے اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد انگریزی میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ ان دنوں وہ جامعہ رحمانی، مونگیر میں افتاء اور انگریزی کے استاذ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں درد مند دل دیا ہے اور وہ تحریر و تصنیف کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ زیرِ نظر مجموعے میں جو مضامین شامل کیے گئے ہیں، ان میں ملت کی زبوں حالی کے اسباب کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے اور اس کی ترقی کا لائحۂ عمل پیش کیا گیا ہے۔ تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی تمام مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔ متعدد مضامین میں انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے اور انہیں اصلاحِ معاشرہ کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ علماء کو ان کی ذمہ داریاں بھی یاد دلاتے ہیں۔
وہ امت کے بہت سے مسائل کی جڑ کو تعلیمی زوال میں دیکھتے ہیں، اس لیے تعلیم کے فروغ کے لیے نئے نظامِ تعلیم کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ مولانا قیام الدین بے چین طبیعت کے مالک ہیں۔ وہ امت کے زوال سے کڑتے ہیں اور اسے ترقی کی اعلیٰ منزلیں طے کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو ”مشن تقویتِ امت“ کا نام دیا ہے۔
نوجوان اسلامک اسکالر مفتی قیام الدین قاسمی اس بات کے قائل ہیں کہ صرف لکھنے سے زیادہ سے زیادہ واہ واہ ہی مل جائے گی، یا اس سے زیادہ یہ ہوگا کہ ہم ایک مصنف بن جائیں گے یا مفکر کہلائیں گے، لیکن اس سے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آنے سے تو رہی۔ اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک تحریک، پلاننگ اور مشن کے تحت لکھنا ہے۔
وہ اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ ہم نے اس امت کو چار حصوں، یعنی ادارے، گاؤں، عوام اور علماء میں بانٹ کر ان کی تقویت و تربیت پر لکھنے کا آغاز کیا اور اس طرح یہ کتاب منصۂ شہود پر آئی۔ یہ خاکوں کی سطح کی تحریریں ہیں، جنہیں ہم نے اس مقصد سے لکھا ہے کہ انہیں عملی جامہ پہنا سکیں۔ اسے ایک ورک بک کہا جا سکتا ہے، جس پر ہم نے پریکٹیکل مشق کرنی ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس میں کئی ساری تجاویز محض دیوانے کی بڑ یا ناقابلِ عمل محسوس ہوں، لیکن وہ کام ہی کیا جو آسان ہو اور وہ چیلنج ہی کیا ہے جسے پورا کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔
کتاب کی سطر سطر سے جوش، جذبہ، عزم اور ارادہ جھلکتا ہے۔ مصنف کی بے چینی اور امت کی ترقی کے لیے ان کی فکر صاف نظر آتی ہے۔ ان کا اندازِ نگارش بھی بے تکلفانہ اور محاوراتی ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو مثالوں سے خوب مدلل بھی کیا ہے اور قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ سے استشہاد کرتے جاتے ہیں۔
چونکہ وہ انگریزی زبان کے اسکالر ہیں، اس لیے زمانے کی زبان اور جدید انگریزی الفاظ و اصطلاحات کا سہارا لے کر اپنے سوزِ دروں کو پیش کرتے ہیں۔ مثالیں اپنے ارد گرد کے ماحول سے اٹھاتے ہیں، جو سیدھے دل میں اترتی ہیں۔
مثلاً ایک جگہ وہ منظم انداز میں جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ہم لوگ جگہ جگہ چھوٹے دیے تو جلا لیتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ انہی چراغوں کی قیمت کو جمع کر کے ایک بڑا ایل ای ڈی بلب خرید کر اس ہال کو ان دسیوں چراغوں سے کہیں زیادہ روشن بنایا جا سکتا ہے۔
بابِ اول میں امت کی ترقی کا 15 نکاتی فارمولا اور روڈ میپ کے تحت وہ پندرہ نکات پیش کرتے ہیں، جن میں سے ہر نقطہ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور حقیقی و واقعی محسوس ہوتا ہے۔ ان میں ایک اہم نقطہ تہجد اور دعاؤں کا اہتمام ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ ساری پلاننگ کر لی، مگر جب تک اوپر سے اپروول نہیں ملتا، ہم ذرہ برابر بھی قوم کو نفع نہیں پہنچا سکتے۔ اس لیے اس قابلیت اور مقبولیت کے لیے ہمارا دعا کرنا اور اللہ سے لو لگانا ضروری ہے، خصوصاً تہجد کے وقت۔
بہرحال، کتاب بہت دلچسپ، معقول، مدلل، عملی اور زمینی سچائیوں اور حقیقتوں سے جڑی ہوئی ہے اور اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے بالاستیعاب پڑھا جائے اور ان تجاویز و تدابیر پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔
مصنف کو ہرگز یہ دعویٰ نہیں ہے کہ انہوں نے جو تجاویز اور تدابیر پیش کر دی ہیں، وہی حرفِ آخر ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے پیش لفظ میں صاف لکھ دیا ہے کہ یہ پریکٹیکل کا مرحلہ ہے اور یہ ایک خاکہ ہے، جس پر عمل کر کے دیکھا جائے گا کہ کون سی تجاویز و تدابیر عملاً قابلِ قبول ہیں اور کون سی نہیں، اور مزید امت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کیا تجاویز اور تدابیر ہو سکتی ہیں؛ ان کے بارے میں غور و فکر کا سلسلہ جاری رہے گا۔
وہ نوجوان جو اپنے ماحول اور معاشرے میں دینی خدمت انجام دینا چاہتے ہیں، اصلاحِ معاشرہ کا بیڑا اٹھانا چاہتے ہیں، وہ اس کتاب سے کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس خوبصورت کتاب کے لیے مصنف قابل مبارک باد ہیں، اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبولیت سے سرفراز فرمائے اور ان کو مزید علمی اور عملی کاموں کی توفیق اور ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے آمین۔
ملنے کے پتے درج ذیل ہیں:
مکتبہ مشن تقویت امت، ڈمرا سیتا مڑھی بہار 843302
ای میل: mtu.maktaba@gmail.com
فون نمبر: 7070552322
شائع کردہ: الرضا نیٹ ورک