ہندو دھرم کے عقائد و اعمال

ہندو دھرم

دنیا کی بےشمار مخلوقات میں ایک عظیم مخلوق انسان ہے چونکہ انسان دوسرے حیوانات کے ساتھ مشترک اور امتیازی خصوصیات کی بنا پر دو قسم کی زندگی گزارتا ہے ایک اس کی حیوانی زندگی اور دوسری انسانی، دوسرے الفاظ میں ایک مادی زندگی اور دوسری ثقافتی یا غیر مادی زندگی۔ مادی زندگی میں یہ بھی دوسرے حیوانات کی محسوسات تک محدود رہتاہے جبکہ غیرمادی اور ثقافتی زندگی میں لامحدود اور جاوداں اشیا کی معرفت، کلی قوانین اور آفاقی حقائق کا ادراک حاصل کرتاہے۔ یہ ثقافتی زندگی اس کی امتیازی خصوصیت ہے جس میں کوئی حیوان اس کا ہمسر اور شریک نہیں۔ انسان کی یہ ثقافتی اور اجتماعی زندگی اس کے ان پختہ خیالات و افکار اور نظریات جنہیں عقائد کہا جاتا ہے کی آئینہ دار ہوتی ہے-

حضور صلی اللہ علیہ و سلم  کی مکی زندگی اور ہندوستانی مسلمان 

Huzoor ki makki zindagi

آج مسلمان جس بھی ملک میں ہو خواہ ہندوستان ہو یا بنگلہ دیش ہو یا دنیا کے کس ملک میں رہائش پذیر ہیں اور کسی بھی معاشرہ یا ماحول میں جی رہے ہیں اگر  غور کریں تو معلوم ہوگا مسلمان دو حیثیتوں سے  زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں ایک اقلیتی حیثیت سے تو دوسری اکثریتی حیثیت سے  نیپال و چین اور برطانیہ ہندوستان جیسے ملکوں میں مسلمان اقلیتی حیثیت سے ہیں جب کہ سعودیہ عرب  و انڈونیشیا اور پاکستان جیسے ممالک میں مسلمان اکثریتی حیثیت  سے ہیں اور موجودہ وقت میں مسلمانانِ ہند اور مسلمانان عالم کو جن پریشانیوں اور مسائلوں کا سامنا و سابقہ ہے

اگر منہ میں زبان رکھتے ہیں تو بولیں، ہاتھ میں قلم رکھتے ہیں تو لکھیں : احمدرضا صابری

Editorial Al Raza Network

ملک کی جی ڈی پی کو ڈبل ڈیجٹ میں لانے والے آج مائنس ۲۴؍ پر ایسے خاموش ہیں جیسے کچھ ہواہی نہیں ہے۔ تصور کریں اگر یہی پلس ۱۰؍ بھی ہوتا تو آج حکومت اور ان کی زرخرید میڈیا کسی سطح پر ناچ رہی ہوتی تھی۔پچھلے سات سالوں میں جتنےبھی فیصلے لیے گئے وہ سب ملک کےدستور کو منہ چڑھانے والے اور جمہوریت کا مذاق اڑانے والے تھے۔ لیکن جو بھی کیا گیا بہت سلیقے سے اور غیر قانونی کو قانونی جامہ پہنا کر کیا گیا۔

سیمانچل کے تعلیمی اداروں میں اونچی تعلیم کا فقدان : اسباب و علاج

Seemanchal Education

کہا جاتا ہے کہ اگر کسی بھی قوم کے عروج و ارتقاء اور زوال و انحطاط کا جائزہ لینا ہو تو اس قوم کے ماضی میں تعلیم و تعلم کا جذبۂ تحصیلِ علوم و فنون کا مقابلہ حال اور مستقبل میں تعلیم و تعلم سے دلچسپی ، لگاؤ اور ذوق و شوق سے کر کے دیکھنا چاہیے نیز تعلیم و تربیت گاہوں کے انتظام و انصرام کا بغور معائنہ و مشاہدہ کر کے دیکھیں اگر اس قوم کے اندر شوقِ تعلیم و تعلم حال کی بنسبت ماضی میں زیادہ تھا تو اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ اس قوم کی تنزلی و انحطاط کا دور شروع ہو چکا ہے، اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ماضی کی بنسبت حال کی نسلِ نو میں ذوقِ تحصیلِ علوم و فنون زیادہ ہے

اردو زبان کی لازمیت کو بحال کرے حکومت بہار!! ’’تنظیم فلاح انسانیت، پریہار‘‘ کا مطالبہ

اردو زبان

دنیاکی بےشمار زبانوں میں ایک شیریں، پُرلطف، پاکیزہ اورممتاز ترین زبان "اردو”بھی ہے جسےصوبہ بہارمیں دوسری سرکاری زبان کامقام حاصل ہے۔لیکن حکومت بہارنےاسکولوں اورکالجوں سےاردو کی لازمیت کوختم کرکےاسےاختیاری مضمون کےدرجےمیں ڈھکیل کرزبان اردوکےساتھ غیرمنصفانہ سلوک اورسوتیلاپن کارویہ اختیارکیاہے جومحبان اردوکےلیےناقابل برداشت عمل ہے۔

پروردۂ حضور مفتی اعظم ہند حضرت قاری محمد نور عالم قادری نوری علیہما الرحمۃ کا پہلا سالانہ عرس اختتام پذیر

Qari-Noor-Alam

جملہ مخلصین معتقدین اور مقامی حضرات نےقران پاک کی تلاوت کاخصوصی اہتمام کیا بعدہ 10:30 بجے دن میں پوری تیاری کےساتھ اجتماعی طور پر شان و شوکت کے ساتھ پروگرام منعقد کیا گیاجس میں سینکڑوں علماء،خطباءاور شعراءکے علاوہ بیشمار مخلصین و متعلقین ومحبین کی موجودگی میں نقیب اہلسنت نواسۂ حضور رئیس القراء محمد ارشدرضا صاحب نے نظامت کی ذمّہ داری سنبھالتے ہوئے سب سے پہلے خوبصورت آواز وانداز میں تلاوت قرآن کریم سے محفل کا آغاز فرمایا پھر یکے بعد دیگرے علماء و شعراء نے نعت و منقبت کی صورت میں اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔

انجمن ضیائے رضا رائے پور چھتیس گڑھ کے زیر اہتمام عرس مفتی اعظم ہند ہوا منعقد

Huzoor-Muftiye-Azam-Hind

مؤرخہ 14 محرم الحرام 1437ھ بروز بدھ الحاج ثاقب رضوی کے دولت کدہ میں بعد نماز مغرب تاجدار اہل سنت آقائے نعمت شہزادہءِ اعلی حضرت حضرت علامہ الشاہ محی الدین آل الرحمن محمد مصطفے رضا خان المعروف حضور مفتی اعظم ہند نور اللہ مرقدہ کی یاد میں ایک پرنور محفل کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی سرپرستی شہزادہءِ امین شریعت حضرت علامہ سلمان رضا خاں صاحب مدظلہ العالی سجادہ نشین خانقاہ امین شریعت بریلی شریف

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ اکابر کی نظر میں

Muftiye-Azam-Hind

 آفتاب علم و معرفت شہزادۂ مجدداعظم حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ کے اکتالیسویں امام وشیخ طریقت ہیں،آپ کے فضائل و مناقب بے شمار صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں جس کا انحصار بیان تحریر سے باہر ہے۔ بالاختصار چند مشائخ کے اقوال سے آپ کے فضائل کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔

تعلیم نسواں کی اہمیت و افادیت : مزمل رضا فیضانی

تعلیم-نسواں

علم وہ لازوال دولت ہے جسے عالم انسانی کا ہر مکتب فکرو جود انسانیت کا جزواعظم قرار دیتا ہے بلا تفریق مذہب و ملت ہر مکتب خیال اس کی اہمیت و افادیت اور وقعت و ضرورت کا سچے دل سے معترف ہے بالخصوص مذاہب عالم میں اسلام کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے تعلیم و تعلیم کی پرزور تبلیغ کی ایمان و عمل کے ساتھ کسب علم اور اشاعت علم کو ضروری قرار دیا اصلاح معادو معاش دین و شریعت کی تفہیم اور رب کائنات کی معرفت کے لئے حصول علم کو فرض قرار دیا اس کے نزدیک دین و دنیا کی کامرانی اور فلاح نور علم کے

بچے اور بچیوں کے لیے اسلامی تاریخی نام

بچے اور بچیوں کے تاریخی نام

نہ تو کوئی فنی شاہکار ہے اور نہ کوئی فخرو مباہات والی قابل قدرچیز جسے ہم اہل علم کی خدمت میں پیش کرکے فخر محسوس کریں یا دادوتحسین کے امید وار بنیں ۔البتہ اپنے چند شاگردوں کی فرمائش پر یہ صفحات چند ماہ کی سعی میں تیا ر کرکے ان شائقین کے لئے ہدیہ کررہاہوں جو اپنے بچوں اور بچیوں کے تاریخی نام رکھنے کے خواہشمند ہوں وہ اس رسالہ سے استفادہ کرسکتے ہیں۔