صاحب! کٹورا تھما کر ہی دم لیں گے

Indian-Economy-1

گذشتہ دن ہوئی (جی ایس ٹی )کاونسل کی 41ویں اجلاس میں مرکزی حکومت کی جانب سےریاستی حکومتوں سے کئے گئے جی ایس ٹی معاوضہ دینے کے وعدہ کو تورڈیا گیاہے، جب کہ گودی میڈیا اس خبر کو توڑ موڑکر دکھا رہی ہے جوکہ بکاہوا میڈیاہے یہ سبھی لوگ اچھی طرح سے جانتے مانتے اور سنتے آرہے ہیں، جی ایس ٹی کا معاملہ  یہ ایک بہت ہی سنگین اور ملک کے معاشی حالات کو بد سے بدتر کرنے والا معاملہ ہے، جب کہ ریاستوں کو ان کے حصے کا پیسہ ملنا چاہئے کیونکہ یہ جمہوری حق ہےاور مرکزی حکومت کو اس پر پابندی لگانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، واضح ہو کہ مارچ سے ہی باضابطہ ادائیگی نہیں کی گئی، 

مسلم دشمنی پر مشتمل مواد منافع بخش تجارت : فیس بک

فیس-بک

چاردن پیشتر تقریباً ہر اخبار میں ایک شہ سرخی لگی ہوئی تھی کہ ہندوستان میں فیس بک نے مسلم مخالف پوسٹس کو ہٹانے سےانکار کیاہےان پیغامات بیانات کو نہ ہٹانے کی جو وجہیں اس نے بتائی ہے پہلی یہ کہ فیس بک کپمنی کا خسارے میں پڑنے کا ڈر، اوردوسری وجہ حکومت سے تعلق خراب ہوجانے کاڈر، 

امارات-اسرائیل معاہدہ: حقائق کے آئینے میں !!

اسرائیل1

1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے فلسطین کے غرب اردن(west Bank) پر قبضہ کرلیا تھا۔ انہیں زمینوں پر اسرائیل غیر قانونی طریقے پر اپنی بستیاں تعمیر کررہا ہے۔ اب تک تقریباً 140 یہودی بستیاں تعمیر ہوچکی ہیں جن میں قریب 6 لاکھ یہودی آباد ہیں۔

قیام اسرائیل کا تاریخی پس منظر !!

اسرائیل

خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت 16ھ/637ء میں فلسطین اسلامی ریاست کا حصہ بنا۔ 1099 عیسوی میں یہاں دوبارہ صلیبی حکومت قائم ہوگئی۔اقتدار ملتے ہی صلیبی فوجوں نے 70؍ہزار مسلمانوں کو قتل کیا۔اس کے بعد538ھ؍1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فلسطین کو دوبارہ فتح کیا اور صلیبی قبضے سے آزاد کرایا۔

دلبر شاہی : وہی رفتارِ بے ڈھنگی جو کل تھی آج بھی ہے!!

دلبر-شاہی

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میوزک کی شریعت میں کیا حیثیت ہے اور نچنیا، گویا،مجراکرنے والا/والی، قوال اور ایک نعت خوان رسول ﷺ میں کیا فرق ہے۔ جن کو فرق سمجھ نہیں آتا وہ وہ برسوں سے اپنے یہاں خانقاہوں میں نچواتے گواتے رہے ہیں لیکن پھر بھی تقریبا ملک کے تمام نعت گو شعراء نے

گستاخی : ہماری اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری!!

گستاخی

اکٹوبر ۲۰۰۱ سے مسلسل شان رسالت میں گستاخی اورفعل قبیح میں درندگی کے ماہر سفاکی کے شہنشاہ لگے ہوے ہیں ،جسکی ابتدا ڈینمارک کے یہودی اخبار "جیلنڈر پوسٹن” نے کی اسی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اٹلی،فرانس،جرمنی ،ہایلنڈوغیرہ شانہ بشانہ کھڑے ہوئے، آج پھر اسی

مسئلہ کشمیر: شاہ فیصل، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم!!

شاہ-فیصل

کشمیر کی زمینی صورت حال کس قدر پیچیدہ اور الجھی ہوئی ہے اس کا اندازہ شاہ فیصل کے دو استعفوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ استعفے ڈیڑھ سال کے وقفے میں منظر عام پر آئے ہیں۔ 2010 میں upsc (یونین پبلک سروس کمیشن) میں ملک بھر میں ٹاپ کرنے والے IAS شاہ فیصل اس وقت سرخیوں میں آگئے تھے

مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی کے ستاسی سالہ بھتیجے کا ساوتھ افریقہ میں انتقال پر ملال!

یونس-روحانی

مبلغ اسلام کی بھتیجی محترمہ منیرہ قاضی صدیقی صاحبہ کی اطلاع کے مطابق ڈربن کے Stella Wood Cemetary میں تدفین ہوئی.انا للہ وانا الیہ راجعون،اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے.موصوف کی عمر87 سال تھی مگر الحمدللہ پھر بھی صحت بہت اچھی تھی، آپ پیشے سے کنسلٹنگ اکاؤنٹ آفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہو کر

دائرے کے کنارے، پانچواں دور اور سکڑتاوقت! 

دائرے-کے-کنارے

ہم جانتے ہیں کہ دائرے کا کنارہ نہیں ہوتا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر دائرے میں چلنا شروع کریں اور دُور چلے جائیں۔ خواہ بائیں طرف سے یا پھر دائیں طرف سے تو ہم ایک ہی جگہ پر پہنچیں گے۔ یہ وہ سمت ہے جس پر ہم آج چل رہے ہیں۔

ہے کمی تو بس میرے چاند کی جو تہ مزار چلا گیا : آہ! مفتی معراج الحق قادری

مفتی-معراج

درس و تدریس کے بے تاج بادشاہ تھے، جو پڑھانے بیٹھ جاتے تو لگتا تھا کہ الہام ہو رہا ہے ،بغیر رکے،بغیر تھکے بولتے جاتے جسے سمجھ میں آتا وہ تو رخِ زیبا تکتا ہی ،جسے نہیں بھی آتا وہ بھی تکتے جاتا اور حتی الامکان سمجھنے کی کوشش بھی کرتا۔