فاضل بریلوی کی محیرالعقول شعری جہات

اردو شاعری میں جن شخصیات سے میں حد درجہ متاثر ہوں وہ ہیں علامہ اقبال اور فاضل بریلوی۔۔۔اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ انہوں نے خود کو کسی لیلی‌‌‌ یا شیریں کے نین نقش، لب و رخسار، کاکل شب آشنا و گردن صراحی نما کی تصویر کشی میں گم نہیں کیا۔بلکہ ایک نے اپنی شاعری سے قوم کے مردہ جسم میں قیسانہ طور پر جان ڈالنے کی تحریک چلائی تو دوسری نے مسلمانوں کے قالب مظلم میں عشق سرمدی کی شعاعیں بکھیرنے کے لئے فرحادانہ تیشہ بکف، اندھیروں سے لڑائی لی۔

اعلی حضرت اور ذکر خدا عزو جل!!

ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ جس کے بارے میں یہ جـاننا ہو کہ وہ کتنا بڑا اللہ والا ہے اس کے پاس بیٹھو اس کی باتیں سنوں جس کی مجلسوں میں جس کی باتوں میں جتنا زیادہ اللہ کا نام آئیگا سمجھ جاؤ کہ وہ اتنا ہی بڑا اللہ والا ہے الحمد للہ جب میں اعلی حضرت کو پڑھتاہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مجلس ان کی ایسی نہیں جو ذکر اللہ سے خالی ہو ان کی تصنیف کا کوئی صفحہ ایسا نہیں جو اللہ کے ذکر سے خالی ہو ہر صفحے پر "سبحان اللہ ” الحمد للہ”بحمد اللہ "و بااللہ توفیق”بفضلیہ تعالی”بعون الملک الوھاب”